کل کے حریف آج کے حلیف | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Kal Kay Hareef aaj kay Haleef- Insaf Blog.

 

پیپل پارٹی نے نو ستاروں کیساتھ بڑی لڑائی لڑی  پھر بینظیر کیخلاف اسلامی جمہوری اتحاد قائم ہوا اور بینظیر اسکے خلاف جنگ لڑی، پاکستان کی سیاست اینٹی پیپل پارٹی اور پرو پیپل پارٹی آپس میں نبرد آزما رہے۔۔۔ لوگ سمجھتے تھے کے جسکے خلاف زیادہ لوگ ہوں وہ حق پر ہوتا ہے موجودہ سیاسی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے اینٹی تحریک انصاف یا پرو تحریک انصاف جسکے خلاف گیارہ جماعتوں نے اتحاد قائم کرلیا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ پیپل پارٹی کیخلاف نو جماعتیں تھیں اور تحریک انصاف کیخلاف گیارہ جماعتی اتحاد ہے سب سے اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں ماضی کے حریف آج کے حلیف ہیں یعنی اصول قاعدہ اور سودے بازی عروج پر ہے  اس زمانے میں حضرت مودودی، شاہ احمد نورانی  مرحوم اور نوابزادہ نصراللہ خان صاحب مرحوم قومی اتحاد میں تھے مگر اسوقت نوابزادہ صاحب حیات نہیں اور نا ہی مودودی صاحب وہ زندہ ہوتے تو یقینا کسی اتحاد کا ضرور حصہ ہوتے اب ماسوائے جماعت اسلامی  کے سبھی ایک تھالی کے چٓٹّے بٹّے بنے ایک دوسرے کی چوری بچا رہے ہیں 
میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے پرانے بزرگ سیاستدان کبھی کسی کی چوریاں چھپانے کیلیے کسی اتحاد میں شامل نہ ہوتے  آج حالات یکسر بدل گئے ہیں بھٹو اقتدار کیلیے لالچی ضرور تھا مگر چور نہیں تھا  ضیاءالحق ڈوب مرا تھا مگر بھٹو کیخلاف ایک بھی کرپشن کا مقدمہ قائم نہ کرسکا تھا اور جب اس سے کچھ نہ بن سکا تھا تو اس نے بھٹو کیخلاف ٹیکس چوری کا ایک مقدمہ قائم کیا اور اس میں بھی ضیاء کو ہی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔   
قائد ملت لیاقت علی خان  ایمانداری کی بڑی اعلی مثال تھے اور قائداعظم  اور انکی بہن محترمہ فاطمہ کی تو بات ہی بہت اعلی تھی   بقیہ سبھی سیاستدان کردار کے غازی تھے اللہ تعالی انہیں غریق رحمت کرے۔۔۔ چوریاں تو شروع ہی اسی کی دہائی میں ہوئیں جب ڈکٹیٹر ضیاء نے سیاست کو پراگندہ کیا اور کرپشن کو رواج دیا اپنے ہاتھوں سے چن چن کر کرپٹ لوگ کھڑے کیے جنکی زندگی کا مقصد لوگ مار اور بس لوٹ مار تھا پھر پیپل پارٹی بھی زردار کے ہاتھوں میں آگئی اور سیاست سے کرپشن کا نام لازم و ملزوم ہوگیا یعنی یہاں کوئی باکردار نہیں بچا جو سیاست کرتا، اللہ تعالی کا ہماری قوم پر خصوصی انعام عمران خان کی شکل میں سامنے آیا جو ناصرف کردار کا غازی ہے بلکہ صاف ستھری سیاست کا بھی   غازی ہے جسکی ڈیلیں اور ڈھیلیں کبھی خفیہ نہیں ہوئیں  کیونکہ وہ جانتا ہے جس ملک نے اسے عزت دی اسی ملک کو بچانا اسکا اہم فریضہ اور نصب العین ہے۔