جمہوری انقلابی راہنما - حسنین شبیر کا انصاف بلاگ | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Jamhoori-rahnuma-insaf-blog-husnain-shabir

قیامِ پاکستان کے ابتدائی چار سالوں کے بعد قائدِ اعظم اورلیاقت علی خان جیسے راہنماؤں سے قوم محروم ہو گئ۔ پھر جو بھی آیا اُس نے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی۔اُن عظیم راہنماؤں کے بعد کئ دہائیاں گزر گئیں اور قوم کسی مسیحا کی تلاش میں مختلف بہروپیوں کے ہاتھوں یرغمال ہوتی رہی۔ 
قیامِ پاکستان کے بعد جب نوزائیدہ مُلکت اندرونی و بیرونی مشکلات کا شکار تھی تو قائدِ اعظم نے ایسے انقلابی اقدام کیے جنہوں نے مُلک کو استحکام بخشا۔ جن میں مہاجرین کی آباد کاری، اثاثوں کی تقسیم، پانی کا مسلہ، سول سروس اصلاحات شامل تھیں۔ آپ نے سرکاری افسران کو تلقین کی کہ قوم کے خادم کی حیثیت سے اپنے فرائضِ منصبی ادا کیجۓ بیوروکریٹس کو سادگی کا درس دیا۔ اپنی تنخواہ محض ایک روپیہ ماہانہ مقرر کی جبکہ اس سے پہلے دورانِ وکالت آپ بھاری فیس لیا کرتے تھے۔ لیکن جب دیکھا کہ میرا مُلک مشکلات کا شکار ہے تو خود کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔ علاقائیت اور صوبائیت سے نکال کر پاکستانیت کا درس دیا۔ اسلامی جمہوری نظام کے فروغ کے لۓ اقدامات کیے۔ بیرونِ ممالک سے بہتر تعلقات استوار کیۓ۔ معیشت کی بہتری کے لۓ اسٹیٹ بنک کا قیام عمل میں لایا۔ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ قصہ مختصر آپ نے سیاست کو کاروبار نہ بنایا بلکہ قومی و عوامی خدمت کی ایک لازوال داستان قائم کی۔

19 اگست 2018 تقریبا” رات 09:30پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک ریکارڈڈ خطاب نشر ہوتا ہےجسکا دورانیہ ایک گھنٹہ نو منٹ اور باون سیکنڈ تھا۔ نشریاتی اداروں نے اسے “قوم سے خطاب” کانام دیا۔ خطاب پاکستان کے نومنتخب وزیرِ اعظم “عمران احمد خان نیازی” نے کیا۔جنکے بقول یہ “خطاب کی بجاۓ گفتگو تھی” عوام سے۔ اوّل  تو میں بھی حیران ہوا کہ عموماً بڑے لوگ تو خطاب ہی کیاکرتے ہیں۔ لیکن جب ٹی وی چینلز پر یہ سُرخیاں گردش کرنے لگیں کہ وزیرِ اعظم کے ترجمان کے مطابق یہ قوم سے گفتگو ہو گی۔تو میری حیرانگی ایک یقین کی سی کیفیت میں بدلنے لگی کہ یقیناً اب کی بار کچھ مختلف ہونے جا رہاہے۔

خیر گفتگو کا آغاز حسبِ معمول “بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم، ایّاک نعبد وایّاک نستعین” سے ہوا۔

عمران خان نے سب سے پہلے اپنے کارکنوں کا شُکریہ اداکیا جو بائیس سال پہلے عمران خان کے ساتھ اس تحریک میں شامل ہوۓتھے ۔ عمران خان نے واضح کیا کہ وہ 
بائیس سال پہلے اس لۓ سیاست میں آۓ تھے کہ اس مُلک کو وہ مُلک بنائیں جو اسے قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کے فلسفے کے مطابق مدینہ کی اسلامی ریاست کی طرح اسلامی تجربہ گاہ بننا تھا۔
لیکن مُلک اور قوم کے ساتھ وہ کِھلواڑ ہوتا رہا کہ عوام غربت اور مفلسی میں ڈوبتی رہی لیکن پھر بھی پاکستان ایک ایٹمی قوت بن تو گیا لیکن مُلک کا اقتدارِ اعلٰی مداخلتوں کے وار سہتا رہا کبھی اندرونی ناچاکیوں نے کمزور کیا تو کبھی بیرونی ناسور اپنی سفاک کوششوں میں مگن رہے۔ عمران خان نے قوم کو مخاطب کرتے ہوۓ بتایا۔ 
پتا ہے آج ہم کدھر ہیں؟
اٹھائس ہزار ارب روپے کا مقروض ہے مُلک اس وقت۔۱۹۴۷ سے لیکر ۲۰۰۸ تک پاکستان پر قرضہ تقریباً چھ ہزار ارب روپے تھا۔ 
ہم احتساب کریں گے کہ یہ پیسہ کدھر گیا۔
لیکن پاکستانیو! آپ نے گھبرانا نہیں۔

اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام “یو۔این۔ڈی۔پی” کی  رپورٹ کے مطابق ہمارا مُلک دُنیا میں پانچویں نمبر پر ہے جہاں 5 سال سےکم عُمر بچےگندہ پانی پینے کے باعث مرتے ہیں۔اور عورتیں ڈلیوری کے وقت مرتی ہیں۔جبکہ عوام سٹینڈرڈ گروتھ جیسی بیماری میں مبتلا ہے۔ 
جو بچے سٹینڈرڈ گروتھ کا شکار ہیں وہ مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ 

عمران خان نے مزید کہا
“ہم جس راستے پر چلتے آ رہے ہیں اس میں ہمارے پاس اپنے بچوں پر خرچ کرنے کے لۓ پیسہ ہی نہیں ہے۔ایک طرف غریبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لۓ سرمایہ نہیں ہے۔ بے روز گاری ہے۔جبکہ دوسری جانب صاحب اقتدار لوگوں کا رہن سہن بادشاہوں جیسا ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان کے پانچ سو چوبیس ملازم، ہیلی کاپٹرز، اسّی بُلٹ پروف گاڑیاں، جن میں ایک گاڑی کی قیمت پانچ کروڑ سے زیادہ ہے۔ گیارہ سو کینال اراضی پر مشتمل وزیرِ اعظم ہاؤس ہے۔ گورنر، وزیرِ اعلٰی ریسٹ ہاؤسز اور بیوروکریٹس پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ کروڑوں روپے بیرونِ مُلک دوروں پر خرچ ہوتے ہیں جن میں بڑے بڑے لشکر ہمراہ ہوتے ہیں۔اس تباہی سے بچنے کے لۓ اپنے شاہانہ اطوار بدلنا ہوں گے”۔

عمران خان نے جہاں تعلیم کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا عزم ظاہر کیا۔ وہیں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے متاثر ہونے سے بچنے کے لۓ زیادہ سے زیادہ درخت اُگانے کامنصوبہ بھی ظاہر کیا۔ ساتھ ہی وہ ریاستی اصول اپنانے کا فیصلہ کیا جو تاریخ کے عظیم راہنماء حضرت محمد صل اللّٰہ علیہ وسلم نے ریاستِ مدینہ میں اپناۓ۔

قانون کی بالا دستی کی مثال دیتے ہوۓ کہا کہ ہم اس مشہور حدیث کی پیروی کرتے ہوۓ کسی بھی مجرم کو نہیں چھوڑیں گے۔
جیسے حضرت محمدﷺنے کہا تھا کہ
“اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اُس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا” (مشکوتہ شریف۔جلد سوم)

خطاب کے اہم نکات:

  1. . اقلیتیں اور اکثریتیں سب قانون کے سامنے برابر ہوں گی۔
  2. .زکٰوتہ کا نظام نافذ کیا جاۓ گا۔
  3. . میرٹ کی بالا دستی ہو گی۔
  4. . سب سے پہلے اپنے آپ کو احتساب کے لۓ پیش کرتا ہوں۔
  5. . اقتدار میں آ کر کسی کو پیسہ نہیں بنانے دیں گے۔
  6. عمران خان نے ان نکات کو عملی جامہ پہنانے نے کیلیۓ قوم سے تلقین کی کہ آپ میری ٹیم کا حصہ بنیں تاکہ ہم ان نکات پر بہتر طریقے سے عمل پیرا ہو سکیں۔
  7.  

※ تبدیلی کا آغاز:
عمران خان نے واضح کیا کہ تبدیلی کا آغاز میں خود سے کروں گا ساتھ ہی واضح کیا کہ عالی شان وزیرِ اعظم ہاؤس میں رہنے کی بجاۓ تین کمروں پر مشتمل گھر  ، دو ملازم اور سیکیورٹی اداروں کے اسرار پر صرف دو گاڑیاں رکھوں گا۔ وزیرِ اعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بنائی جاۓ گی۔گاڑیوں کی نیلامی کی جاۓ گی۔موجودہ گورنر ہاؤسز میں کوئی گورنر نہیں رہے گا۔ عوامی فلاح کے لۓ انہیں استعمال میں لائیں گے۔

  1. ※ تبدیلی کے بنیادی اصول:
  2. .قانون کی بالا دستی
  3. .امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں پر خرچ
  4. .میرٹ کا قیام
  5. .احتساب کا نظام
  6. . تعلیم کا فروغ
  7.  
  8. فوری اقدامات:
  9. . خرچے کم کرنے کے لۓ ٹاسک فورس بنائی جاۓ گی۔
  10. .قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا عزم کیا اور قرضوں پر کنٹرول۔
  11. .سرمایہ داروں سے ٹیکس اکھٹا کریں گے۔
  12. .ایف۔ بی۔ آر کو مضبوط کریں گے۔ 
  13. .عوام کا ٹیکس عوام پر خرچ ہو گا۔ 
  14. .سادگی کی مسلسل مہم چلائیں گے۔
  15. ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ کر کے صاحب حیثیت لوگوں کا اعتماد بحال کریں گے۔
  16. . منی لانڈرنگ پر قابو پایا جاۓ گا۔
  17. .ایکسپورٹ کو بڑھائیں گے
  18. . انڈسٹریلسٹس کی مدد کریں گے۔
  19. . سرمایہ دار کو مُلک میں لائیں گے۔
  20. . وزیراعظم کی نگرانی میں سرمایہ داروں کے تحفظات دور کیۓ جائیں گے۔ 
  21. . چھوٹے سرمایہ دار کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے تاکہ روزگار میں اضافہ ہو۔
  22. . بیرونِ مُلک پاکستانی قیدیوں کی وجوہات کا جائزہ لیں گے۔
  23. . اوور سیز کو تحفظ فراہم کریں گے کہ وہ پیسہ پاکستانی بینکوں میں لے کر آئیں۔ تاکہ مُلک میں استحکام آۓ۔
  24. .وِسل بلور ایکٹ پختونخواہ کی طرز پر متعارف کرائیں گے۔
  25. . ایک سال میں سِول کیسز نمٹائیں گے۔
  26. . بیواؤں کی زمینوں پر قبضے ہیں اُن کے جلد فیصلے کرائیں گے۔
  27. . پولیس کا نظام سابق آئی جی درانی کے ذریعے بہتر کریں گے پختونخواہ کی طرز پر۔
  28. . بچوں سے ہونے والی زیادتیوں پر سخت ایکشن لیں گے.
  29. . سرکاری تعلیمی اداروں کو بہتر بنائیں گے اور مدرسوں کے بچوں کو جدید شعبوں سے منسلکہ تعلیم دیں گے۔
  30. . سرکاری ہسپتالوں کو بہتر بنائیں گے اور ہیلتھ کارڈ قومی سطح پر لے کر آئیں گے۔
  31. . پانی بچانے کے اقدامات کریں گے۔
  32. . کسانوں کی پیداوار کی قیمت بڑھائیں گے۔ 
  33. . سِول سروس میں اصلاحات کی جائیں گی۔ تاکہ سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہو اور مُلک ترقی کرے۔
  34. . بلدیاتی نظام میں نچلے طبقے کو اختیارات دیں گے۔ 
  35. . نوجوانوں کو فنی تعلیم اور روزگار دیں گے۔
  36. . پورے مُلک میں درخت لگائیں گےتاکہ آنے والی نسلوں کو مشکلات سے بچائیں اور سیاحت کے فروغ کے لۓ اقدامات کریں گے۔
  37.  

عمران خان نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ”
جب حکومت بد عنوان لوگوں پر ہاتھ ڈالے گی تو یہ شور مچائیں گے۔ کیونکہ یہ مافیا ہر شعبے میں موجود ہے۔ جو بدعنوانی سے پیسہ بناتا ہے۔ ردّعمل کے طور پر یہ بدعنوان طبقہ سڑکوں پر بھی آسکتا ہے لیکن آپ نے میرے ساتھ کھڑے رہنا ہے یا تو یہ مُلک بچے گا یا یہ کرپٹ لوگ”

※وفاق کی مضبوطی کے لۓ اہم امور:
فاٹاکو پختونخواہ میں جلد ضم کریں گے۔ بلوچستان کے لوگوں کے تحفظات دور کریں گے۔ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لۓاقدامات کریں گے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جاۓ گا اور خارجہ پالیسی کی مضبوطی کے لۓ ہمسایوں سے دو طرفہ تعاون کریں گے۔

※عوام سے عہد:
“میں بحثیت وزیرِ اعظم آپکو سادہ زندگی گزار کر دکھاؤں گا”
آپ کے پیسے کی حفاظت کروں گا اور پچاس فیصد نچلے طبقے پر خرچ کروں گا۔ میں کوئی کاروبار نہیں کروں گا جب تک میں اقتدار میں ہوں۔ جو شخص آپکا پیسہ چوری کرتا ہے وہ میرا دُشمن ہے۔ میری کسی سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے۔ جو لوگ آپکا پیسہ چوری کر کے باہر لے کر جاتے ہیں وہ آپکی تباہی کرتے ہیں۔ آپ نے میری مدد کرنی ہے اپنے پیسے کی حفاظت کے لۓ۔ کونسا انسان ہے جس کے گھر چوری ہو اور وہ خود خاموش بیٹھا رہے اور کہے کہ پولیس خود پکڑ لے گی۔ آپکی ذمہ داری ہے کرپشن کرنے والوں کی نشاندہی کریں تاکہ اُنکو پکڑا جا سکے۔ اگر ہماری حکومت آپکے ٹیکس کا پیسہ غلط استعمال کرے تو اُسے بے نقاب کریں۔ عمران خان مزید کہا کہ میں آپکو اعتماد دلاتا ہوں اللّٰہ نے ہمارے مُلک کو سب کچھ دیا ہے۔ پاکستان اللّٰہ کی نعمت ہے۔ ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے۔ 

※جدوجہد کا مقصد

عمران خان کے چہرے پر ایک فکر تھی اور اطمینان بھی۔ گفتگو کو سمیٹتے ہوۓ کہا!۔۔۔۔۔آپ نے انسانوں پر رحم کرنا ہے۔تاکہ معاشرہ ایک تہذیب یافتہ شکل اختیار کرے۔ انشاء اللّٰہ ایک دن آۓ گا کہ پاکستان میں کوئی زکوٰتہ لینے والا نہیں ملے گا۔ میں نہیں جانتا تب میں زندہ ہوں گا یا نہیں لیکن میرا ایمان ہے ہم نے اپنی قوم کی تعمیر کر لی تو ایک دن آۓ گا کہ پاکستان میں کوئی زکوٰتہ لینے والا نہیں ملے گااور ہم انشاءاللّٰہ ضرورت مند ممالک کی مدد کریں گے۔ یہ ہے عمران خان کے نیۓ پاکستان کا عزم اور خواب اور عمران خان ایسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں جس کے لۓ اُنہوں نے انتھک جدو جہد کی۔

※قوم کے نام راقم کا پیغام:
مجھے بہت حیرانگی ہوتی ہے جب کچھ لوگ اب بھی عمران خان کی “قوم سے گفتگو” کے بعد بھی اُسکی نیت پر شک کرتے ہیں تنقید براۓ تنقید کے ذریعے قوم کو مایوس کرنے کے مسلسل بہانے تراشتے ہیں۔
شائد گمراہ کُن طبقے نے عمران خان کی ساری باتیں نہیں سُنیں یا ایسی اسلامی جمہوری سوچ اُنہیں پسند نہیں آئی۔ میری التجاء گمراہی کے دیوتاؤں سے کہ بس کر دیں یہ رونا دھونا اور اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کھائیں۔ سچ کو سچ اور اچھے کو اچھا کہنے کی جرآت پیدا کریں خود میں۔ جہاں آپ دیکھیں موجود حکومت کام ٹھیک نہیں کر رہی اُسے بے نقاب بھی کریں کیونکہ  غلط کو غلط  کہیں گے تو اقرباء پروری، استحصال اور ناانصافی کا خاتمہ ہو گا۔

تقریبا” سات دہائیوں کے بعد ایک ایسا خطاب کسی منتخب وزیرِ اعظم کی طرف سے سُننے کو مِلا۔ جو اسلامی جمہوری روایات سے بھرپور تھا۔بیشتر حصہ “قوم اور عوام” کو درپیش مسائل سے نکالنے پر مشتمل تھا۔ جو کہ حقیقی جمہوری سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔  جمہوریت دراصل ہے ہی جمہور کی فلاح کا نام لیکن پاکستانی جمہوریت ابھی تک صحیح معنوں میں اپنے ابتدائی مرحلے ہی سے نہیں نکل پائی۔ جمہوری عمل میں عوام اپنے نمائندے اس لۓ منتخب کرتی ہے کہ وہ عوامی فلاح کے لۓ قانون سازی کریں۔ لیکن 1970 سے لیکر اب تک کی جمہوری حکومتوں کا اگر ہم جائزہ لیں توکوئی حکومت بھی صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی نظام کو فروغ نہ دے سکی اور ہمیشہ طاقتور ، جاگیرداروں اور وڈیروں کو تحفظ ملتا رہا۔ ذولفقار علی بھٹو نے جاگیردارانہ نظام کے خلاف آواز اُٹھائی لیکن جلد ہی وہ آواز دب گئ۔ بعد میں آنے والی پیپلز پارٹی نے عوام سے روٹی ، کپڑا اور مکان تک چھین لیا مگر پھر بھی اقتدار کی ہوس ختم نہ ہوئی۔ بھٹو کے نام پر اب بھی سندھ میں متوسط اور غریب طبقے کا استحصال جاری ہے جبکہ اندرونی سندھ میں محض بھٹو زندہ ہے مگر عوام کی حالتِ زار پر ہر ذی شعور شرمندہ ہے۔  
جن ریاستوں کو آج جدید فلاحی ریاست کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ پاکستان کی اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی خام قومی پیداوار 10.8 کھرب ڈالر سالانہ ہونی چاہئے۔اس منزل کے حصول کے لئے ہم اگر آج سے آغاز کریں توپاکستان کو اگلے 10 برس تک  تقریبا” 40 فی صد سالانہ کی 
شرح افزائش سے ترقی کرنا ہوگی ۔

۷۱ سالوں کا گند صاف کرنے میں چند سال تو لگیں گے ہی لیکن گمراہ طبقہ قوم میں مایوسی پھیلا کر “جُرمِ ضعیفی” کا مرتکب ہو رہا ہے۔ 
اور کہنے والا خوب کہہ گیا ہے۔۔۔
“ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات”

عمران خان ٹیکس اگر اکھٹا کرنے، کرپشن، اقرباء پروری اور ناانصافی کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔  تو مُلک کو قدرے استحکام آۓ گا۔ جب استحکام آۓ گا تو سرمایہ دار بھی آۓ گا اور سرمایہ دار سرمایہ تب ہی لگاۓ گا جب اُسے پتا ہو گا کہ کوئی مسٹر ٹین ، ٹونٹی پرسنٹ، پرمٹ مافیا، بھتہ خور یا سِسلین مافیا اُس کا سرمایہ ہڑپ نہیں کر جاۓ گا۔ 
تو جب سرمایہ دار کو تحفظ ملے گا اور اُس کا سرمایہ بھی محفوظ ہاتھوں میں ہو گا تو معاملات صنعت کو فروغ ملے گا اور بہتری کی جانب جائیں گے۔ 

میرا ایمان ہے اگر قائدِ اعظم کی سربراہی میں پاکستان کا قیام عمل میں آسکتا ہے۔ دو خاندانی جماعتوں کی موجودگی میں ایک مِڈل کلاس طبقے کا شخص تنہاء جدوجہد کر کے اُن کے مقابلے میں ایک بڑی سیاسی جماعت بنا سکتا ہے اور انہی خاندانوں کی مَن منشاء پر بنے الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوۓ ایک طاقتور جمہوری سیاسی جماعت کی بنیاد رکھ کر سیاسی تبدیلی لا سکتا ہے تو پھر وہ معاشی اور معاشرتی تبدیلی بھی لا سکتا ہے۔ مگر اس مقصد کے حصول کے لۓ ریاستی عوام کو ایک قوم کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ 

تنقید کرنا بہت آسان ہے اور ایک مافیا کے خلاف کفن باندھ کر نکلنے کا اور مافیا کو ناکوں چنے چبوانے کا سہرا عمران خان جیسے جمہوری انقلابی راہنماء کو ہی جاتا ہے۔

گمراہی کے پنڈت بھی ادھر ہی ہیں اور منصف بھی۔ راقم کی یہ تحریر محفوظ کر لیں۔اللّٰہ پاک عمران خان  کو لمبی زندگی دیں پہلا سال حکومت کا جس دن پورا ہوا اُسی دن آپکو واضح فرق نظر آۓ گا۔
گمراہی کے پنڈتوں سے فقط اتنا کہوں گا خُدارا قوم کو مزید مت گمراہی کی طرف دھکیلیۓ۔ اُمید کی شمع اگر نہیں جلا سکتے تو روشن شمع پر پانی مت چھڑکیۓ۔ وزیرِ اعظم عمران خان صاحب آپ نے ہمیں شعور دیا ہے باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیا ہے ہم آپ کے اس عزمِ عالی شان کی خاطر اپنا تن، من، دھن لگائیں گے اور اپنے آباؤاجداد کی قربانیوں کی لاج رکھیں گے۔ اگر کسی نے حکومت کا حصہ ہوتے ہوۓ بھی اس مُلک کے وسائل کو لوٹا ہم اُسے بھی بے نقاب کریں گے۔ کیونکہ ہم نے اس مُلک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عزم کر رکھا ہے۔
پاکستانیو! قدر کرو اس عظیم راہنماء کی۔ جس کی خاطر ستر سال انتظار کیا آپ نے آج وہ راہنماء آپ کے سامنے ہے۔ اور اس مُلک کی بہتری کے لۓ کوشش جاری رکھو۔ 
کیونکہ اللّٰہ پاک کا فرمان ہے۔
“بے شک انسان کے لۓ وہی کچھ ہے جس کی اُس نے کوشش کی”۔ میرا ایمان ہے کہ یہ کوشش انشاءاللّٰہ ضرور کامیابی میں بدلے گی۔
حسنین شبیر

Tags:Imran Khan