پنجاب میں صنعتی انقلاب، انصاف بلاگ | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Industrial Revolution - Insaf Blog

 

پنجاب پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے بدقسمتی سے صحیح قیادت اور کوئی معاشی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے صوبہ برسوں سے معاشی بدحالی کا شکار رہا 2018 میں عوام نے تبدیلی کو ووٹ دیا اور تحریک انصاف کی حکومت معرض وجود میں آئی۔

وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے کی قیادت ایک پس ماندہ اور محروم علاقے سے تعلق رکھنے والے کم گو لیکن اپنے کام کو فرض سمجھ کر کرنے والے شخص عثمان بزدار کے حوالے کی پہلی بار ایم پی اے منتخب ہونے والے عثمان بزدار پر ہر طرف سے تنقید کے نشتر چلائے گئے لیکن ان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہوں نے دلجمعی سے صوبہ کی تقدیر بدلنے کے لیے دن رات ایک کر دئیے

آج وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں صوبہ میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے حقیقی معنوں میں وزیراعظم عمران خان کے نئے پاکستان بنانے کی بنیاد صوبہ پنجاببن رہا ہے آئیے صوبے کی معاشی حالت درست کرنے اور عوام کو بہتر روزگار کی فراہمی کے لیے کئے گئے بزدار حکومت کے چند اہم اقداماتپر نظر ڈالتے ہیں

تحریک انصاف حکومت سے قبل پنجاب میں کوئی جامع صنعتی پالیسی نہیں تھی سب سے پہلے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب میں پہلی بار ایک مربوط اور جامع صنعتی پالیسی لانے کے اقدامات کئے اور پنجاب کو پہلی صنعتی پالیسی دی اس پالیسی کے تحت پنجاب میں معاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ 

اگر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے انڈسٹریز لگانے پر نظر ڈالیں تو پنجاب حکومت  اس وقت تک 8 نئے سپیشل اکنامک زونز بنا چکی ہے جبکہ 4 پرانے انڈسٹریل اسٹیٹس کو اپ گریڈ کر کے ن کو انڈسٹریل زونز ک سٹیٹس بھی دیا جاچکا ہے

فیصل آباد میں قائم کیا جانے والا علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی 3217ایکڑ پر قائم کیا گیا ہے جس سے براہ راست 4لاکھ افراد کو روزگار ملے گا جبکہ مجموعی طور پر 10لاکھ افراد کےلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔

شیخوپورہ میں موٹروے کے نزدیک 1536 ایکڑ رقبے پر مشتمل پاکستان کے پہلے  سمارٹ اکنامک زون قائداعظم بزنس پارک کے منصوبے کا بھی آغاز ہو چکا ہے اس پروجیکٹ پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس پراجیکٹ سے روزگار کے اڑھائی لاکھ مواقع پیدا ہونگے 


 تحریک انصاف حکومت نے بھلوال، رحیم یار خان اور وھاڑی کی انڈسٹریل اسٹیٹس کو سپیشل اکنامک زون کا درجہ دیا ہے۔ جس سے باالترتیب 6000،5500اور 4000روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور اور فیڈمک میں ون ونڈو سروس سنٹر بھی قائم کر دیئے گئے ہیں 
 
 لاہور سیالکوٹ موٹروے پر سٹیٹ آف دی آرٹ انڈسٹریل اسٹیٹ بنائی جائے گی جبکہ مظفر گڑھ لیہ روڈ پر چوبارہ کے مقام پر 20ہزار ایکڑ رقبے پر انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے جسکو بعد میں 50ہزار ایکڑ رقبہ تک وسعت دی جائے گی۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا انڈسٹریل زون ہوگا جوکہ پنجاب کے ایک پس ماندہ ترین علاقے میں بنایا جارہا ہے اس کی تعمیر سے نہ صرف پس ماندہ علاقوں میں نئے دور کا آغازہوگا بلکہ صوبے اور ملک کے ریوینیو میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
  

پنجاب حکومت نے صوبے کے 36 اضلاع میں کاٹیج انڈسٹری کی بحالی کا پروگرام بھی شروع کیا ہے جس کے تحت دستکاری کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو 3سے 5 لاکھ روپے تک آسان قرضے دیئے جارہے ہیں۔ نئے مالی سال میں صنعتی مراکز کی جاری سکیموں کیلئے 3ارب 50کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی پنجاب روزگار سکیم  وزیر اعلیٰ پنجاب کا ایک انقلابی پروگرام ہے جس کے تحت نوجوانوں کونئے یا موجودہ کاروبار کے لیے 30 ارب روپے کے آسان شرائط پر قرضے دئیے جائیں گے۔اپنا کاروبار شروع کرکے نہ صرف نوجوان خود باروزگار ہوں گےبلکہ دوسرے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کریں گے۔ اس تاریخی سکیم سے نوکریاں ڈھونڈنےوالے نوجوان خود دوسروں کو نوکریاں فراہم کرنے کے قابل ہوں گے۔

  جہاں پنجاب حکومت صوبے میں صنعتی انقلاب لانے کے لیے وسیع تر پیمانے پر اقدامات اٹھا رہی ہے وہیں ان صنعتوں کو ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی کے لیے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں

صنعتوں کو ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی کے لیے صوبہ میں ٹیکنکل یونیورسٹیوں کی تعمیر عمل میں لارہی ہے ان میں 3 ارب روپے کی لاگت سے تیانجن ٹیکنیکل یونیورسٹی لاہور، 2ارب کی لاگت سے رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ڈی جی خان 2ارب 16 کروڑروپے کی لاگت سے پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول منڈی بہاوالدین کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جبکہ اگلے مالی سال میں راولپنڈی میں بھی ٹیکنیکل یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ٹیکنیکل کورس کرانے والے اداروں کی تعداد اور ان میں طلباء کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔


اس حوالے سے ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے ہنر مند نوجوان پرگرام شروع کیا جارہا ٹیوٹا کے اداروں کی استعداد کار 90ہزار سالانہ سے بڑھا کر 2لاکھ 33ہزار کی جاچکی ہے۔ ہنر مند نوجوان پروگرام کے تحت صنعت کی ضروریات کے مطابق 56 نئے جدید کورسز کرائے جارہے ہیں۔ ٹیوٹا، پی وی ٹی سی اور پی ایس ڈی ایف کے فنی تعلیم کے اداروں کو ایک چھتری تلے لانے کیلئے پنجاب سکل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ 
 
سرکاری اور نجی فنی تعلیم کے اداروں کی اتھارٹی میں آن لائن رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ کورونا کے دوران ایک سال کیلئے فنی تعلیم بورڈ کی رجسٹریشن اور امتحانی فیس ختم کی گئی۔ اس کا فائدہ نجی تعلیمی اداروں کے 17ہزار بچوں کو بھی ہوا

پنجاب حکومت نے صوبے میں نئی سرمایہ کار لانے اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے بھی قابل قدر اقدامات اٹھائے، پنجاب بزنس رجسٹریشن پورٹل قائم کیا گیا ہے جس سے بزنس رجسٹریشن کا عمل24گھنٹوں پر آگیا ہے۔پنجاب سرمایہ کاری بورڈ میں انوسٹر ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے جس سےبزنس کمیونٹی کو بزنس رجسٹریشن، شکایات کے ازالے، مسائل کے حل اور کاروبار کیلئے معلومات ملیں گی۔

پنجاب حکومت نے نیا سیمنٹ پلانٹ لگانے کے لئے 5متعلقہ محکموں کو 90روز کے اندر این او سی کے اجراء کا پابند بنا کر ایک بڑا اقدام اٹھایا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران نئے سیمنٹ پلانٹس لگانے کیلئے 5این او سی جاری کئے گئے جبکہ کابینہ نے مزید 5این او سی کے اجراء کی منظوری دی ہے۔ یاد رہے ایک نیا سیمنٹ پلانٹ لگنے سے 300-250ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوتی ہے آئندہ 5 برسوں میں اس سیکٹر میں 4.5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ 
پنجاب میں صنعتی انقلاب لانے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی قیادت میں اٹھائے جانے والے یہ چیدہ چیدہ اقدامات یہاں پیش کئے گئے اس کے علاوہ کافی ایسے اقدامات ہیں جن کو ایک تحریر میں لانا ممکن نہیں