عمران خان پر اعتماد کا ووٹ - انصاف بلاگ | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Imran Khan Par Aitmaad Ka Vote - Insaf Blog

 

آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی 26/45  نشستوں پر جیت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ آزادکشمیر کی اکثریت آزادانہ اپنا فیصلہ کرنے پر یقین رکھتی ہے۔اللہ تعٰالٰی کی منشا کے بعد دو بڑی وجوہات ہیں تحریک انصاف کی جیت کی-ایک توماضی کی جماعتوں کی گندی سیاست جس نے اقرباء پروری، میرٹ کا قتل عام، سفارش، رشوت ،ضمیر فروشی کو فروغ دیا اور دوسرا مسلہ کشمیر پر آزاد کشمیر حکومت کی خاموشی۔

آزاد کشمیر ۸۰ فیصد شرح خواندگی رکھنے والا خطہ ہے۔ اور اس کثیر شرح خواندگی کی اکثریت کو مذکورہ بالا گندی سیاسی روایات نے نا صرف متاثر کیا بلکہ یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اب مصلحت کے تحت فیصلوں کی بجاۓ مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے فیصلہ کیا جاۓ۔ اسی لیے پاکستان تحریک انصاف ایک مقبول سیاسی جماعت کے طور پر آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں سامنے آئی ہے۔

تحریک انصاف کے لیے اس مافیا کو اور مذکورہ بالا گندی سیاسی روایات کو ختم کرنے کے لیے مقبول عوامی قانون سازی اور عملدرآمد کے فیصلے کرنا ہوں گے۔

ایک بڑا چیلنج تحریک انصاف آزاد کشمیر کے لیے فاروق حیدر حکومت کے بناۓ گئے کالے قانون “آزاد کشمیر سروس ایکٹ ۲۰۲۱” کی ترمیم ہو گی۔ یاد رہے ۲۷ مئی ۲۰۲۱ کو مسلم لیگ نواز آزاد کشمیر کی حکومت ختم ہونے سے چند دن پہلے یہ کا لا قانون پاس کیا گیا تھا جس کے تحت بغیر ٹیسٹ و انٹرویو کے عارضی، کانٹریکٹ اور ایڈہاک(چور دروازے سے پرچی کے   ذریعے) بھرتی ہونے والوں کو گریڈ 1 سے لے کر گریڈ 18 تک مستقل کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد بیوروکریسی میں سیاسی دھونس کے ذریعے مخصوص لوگوں کو اداروں میں بٹھانا تھا تاکہ وہ ان نالائق اور کرپٹ سیاستدانوں کے کام آ سکیں۔ 

اس کالے قانون کے پاس ہوتے ہی آزاد کشمیر کا پڑھا لکھا طبقہ سراپا احتجاج تھا۔ اگرچہ ہائی کورٹ میں اس کیس پر سُنوائی کا عمل شروع ہو چُکا ہے لیکن عدلیہ کی سُستی کی صورت میں قانون ساز اسمبلی سے اس کالے قانون کو بذریعہ ترمیم کالعدم قرار دے کر آزاد کشمیر میں میرٹ بحالی کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔ 

احتساب کے عمل کو آزاد کشمیر میں غیر جانبداری سے شروع کرنا بھی ریاستی شہریوں کی بقاء کے لیے ضروری ہے۔