زہر چاہیے...؟ انصاف بلاگ | Pakistan Tehreek-e-Insaf

 

سیںنئر حکومتی وزیر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس زہر کھانے کو بھی پیسے نہیں ہیں. 

 اگر واقعی یہ صورتحال ہے تو صرف ایک مہینہ پہلے تک ہی عمران خان کیسے چلا رہا تھا؟
لوڈشیڈنگ نہیں تھی اور اب اسلام آباد میں بھی 12 گھنٹے بجلی جاتی ہے.
 پیٹرول پر غلط ہی صحیح لیکن سبسڈی تھی اور 30 روپے لیٹر سستا تھا.
صحت کارڈ جیسی سہولت بھی تھی اور بہت کم وقت میں بے شمار لوگوں نے فائدہ اٹھایا.
نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم بھی چل رہی تھی اور میں بذات خود ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جنہیں 50 لاکھ سے اوپر تک کا بھی قرض ملا اور انہوں نے گھر خریدے.
 کامیاب نوجوان سکیم بھی تھی اور متعدد لوگوں نے کاروبار شروع کیے. 
 احساس پروگرام جیسا شاندار رفاہی منصوبہ بھی چل رہا تھا جس سے کروڑوں لوگ مستفید ہوئے.
انتہائی غریب و بے سہارا لوگوں کے لیے سونے کی جگہ اور لنگر خانے بھی میسر تھے. 
 عمران خان کے 3.5 سال میں سے 3 سال کرونا کے باعث عالمی معاشی صورتحال انتہائی ابتر رہی. بہت اچھی اکانومیز بھی بیٹھ گئیں لیکن پاکستان جیسے ملک نے سروائیو کیا حالانکہ حکومت میں آنے کے بعد عمران خان کو فوری طور پر ناصرف سعودی عرب سے تیل ادھار لینا پڑا بلکہ سعودی عرب، چائنہ، یو اے ای، ملائشیا وغیرہ سے ایک ایک ارب ڈالر اکٹھا کرنا پڑا.
مخالفین بھی مانتے ہیں کہ زبردست ٹیکس اصلاحات ہوئیں اور موجودہ مالی سال کے اندر ملکی تاریخ کا ریکارڈ ٹیکس اکٹھا ہوا.
ایک انتہائی مقروض اور بدحال ملک ہونے کے باوجود پاکستان نے کئی معاملات میں انٹرنیشنل سٹینڈنگ لی اور اسے سنا اور مانا گیا. اسلام و فوبیا ہو یا ناموس رسالت کے ایشوز، عمران خان نے تمام مسلم ممالک کو اکٹھا کیا اور انٹرنیشنل فورمز پر ٹھوک بجا کر بات کی، پٹواریوں کے ماننے نا ماننے سے فرق نہیں پڑتا لیکن دنیا مانتی ہے. ڈنمارک کے ملعون کارٹونسٹ کا عمران خان کی حکومت جانے پر خوشی کا اظہار ایک واضح مثال ہے.
بڑے بڑے ڈیمز سمیت بہت سے میگا پراجیکٹس پر بھی کام ناصرف شروع ہوا بلکہ بلا تعطل چلتا رہا.
شہاز شریف کے حکومت میں آنے کے دوسرے دن ہی اسلام آباد میڑو فیز 2 کا افتتاح اور متعدد بڑے ڈیمز کا دورہ اس کی واضح مثال ہے. اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ یہ شہباز شریف نے آتے ہی کرلیا تو آپ یقیناً عقل سے عاری پٹواری ہیں.
حکومت و حکومتی ٹٹو ہر وقت عمران خان کی ذاتی کردار کشی میں مصروف رہتے ہیں کیونکہ کبھی مالی بددیانتی کا کوئی کیس نہیں ملا. اب تک بھی بظاہر ایسا ہی لگتا ہے نہیں تو نون لیگ کو عمران خان کے بچوں پر سیاست اور لندن میں جمائما کے گھر کے باہر احتجاج نا کرنے پڑتے.
انتہائی حساس انٽرنيشنل مسئلہ یعنی گلوبل وارمنگ و ماحولیاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں عمران خان کی کاوشوں کو بارہا سراہا گیا. میاواکی جنگلات، بلین ٹری سونامی جیسے منصوبے ایک مثال ہیں.
کیبنٹ ڈویژن کے کل کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے 3 سال میں assets recovery unit نے 426 ارب روپے کی ریکوریاں کیں. ریفرنس کے لیے ڈان نیوز ملاحظہ کریں.

اور پھر جی ڈی پی گروتھ کے حوالے سے جو نمبرز سامنے آرہے ہیں وہ بھی اتنے برے نہیں.

دوسری طرف پٹواریوں کے بادشاہ نے آتے ہی متعدد سبسڈیز ختم کردیں، بیشتر رفاعی پروگرامز بند کردیئے. پٹرول کی قیمت تاریخ میں پہلی بار اکٹھی 30 روپے لیٹر بڑھا دی. متعددجھوٹے  اعلان کرکے یو ٹرن لیے جیسا کہ آتے ہی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ وغیرہ. یہ تو عوام کے لیے کیا اور اپنے لیے اب تک نیب"اصلاحات" کیسسز ختم کروانا، کیسسز پر اثر انداز ہونے کے لیے تبادلے جس کا نوٹس سپریم کورٹ بھی لے چکی، اوورسيز ووٹرز والا مسئلہ، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف بل وغیرہ...... 

مانا کے حالات آئیڈیل نہیں تھے. خاص طور پر متعدد انتظامی معاملات میں حکومت کا کنٹرول نہیں تھا گورننس کے مسائل تھے لیکن حالات اتنے بھی برے نہیں تھے یا نظر نہیں آرہے تھے جتنے ان 40 دن میں کردیئے گئے ہیں یا دکھائے جا رہے ہیں کہ زہر کھانے کو بھی پیسے نہیں. اگرچہ لوگ نے اپنے گردے بیچ کر بھی حکومت کو زہر دلانے کی پیشکش کی ہے.
نوٹ: رات کے 3 بجے جاگ رہا ہوں اور موبائل پر یہ نوٹ لکھ رہا ہوں کیونکہ انتہا کی لوڈشیڈنگ نے سونا حرام کردیا ہے. (محمد تحسین)