اصولی یا وصولی سیاست - انصاف بلاگ | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Asooli Ya Wasooli Siasat - Insaf Blog

 

پاکستان کی جمہوریت اور سیاست شاید دنیا کی وہ واحد جمہوریت ہے جو خود تو اندرون خانہ، جمہوریت کی بجائے موروثیت لانا پسند کرتے لیکن پاکستان میں جمہوریت کے بڑے دعویدار بنتے نظر ہیں۔
 پاکستان کی اکثر جمہوری پارٹیوں کو دیکھا جائے تو سب میں موروثی  سیاست کئی دہائیوں سے چلتی آرہی ہے لیکن  ملک میں جہموریت کے لیے نام نہاد  قربانیاں گنتے نہیں تھکتی۔
ان پارٹیوں میں کبھی ایک عام ورکر یا لیڈر نے ان موروثی سیاستدانوں کے خلاف الیکشن لڑا ہے اگر لڑا ہے تو کامیاب کتنے ہوئے ہیں؟
ہم نے تو اکثر سنا ہے کہ فلاں لیڈر پارٹی کا بلامقابلہ چیئرمین یا شریک چیئرمین بن گیا لیکن ہم نے یہ نہیں سنا کہ ان موروثی پارٹیوں میں جمہوری انداز میں الیکشن ہوا ہو۔
ہمارے ملکی سیاست دان اب بھی اپنے نواسے جیسے عمر  کے بچے کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے ہیں۔
پیپلز پارٹی  میں دیکھا جائے تو ذوالفقار علی بھٹو  کے بعد ان کی بیٹی بےنظیر شہید تاحیات چیئرپرسن رہیں۔ جب وہ شہید ہوئیں تو اس وقت بلاول زرداری باہر پڑھ رہا تھا اور اس کی عمر بہت کم تھی۔ زرداری صاحب نے کمال ہوشیاری سے بےنظیر شہید  کی وہ جعلی وصیت نامہ سامنے لایا اور وہ چیئرمین بن گیا جب بلاول کی واپسی  ہوئی تو اس کو چئیرمین بنا دیا گیا اور زرداری کو شریک چیئرمین ۔
کیا اس وقت پی پی نے اپنے اندر جمہوری راستہ اپنایا؟ یقیناً  اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ ہم اس پارٹی میں اعتزاز احسن جیسا قابل بندہ شاید ہی کوئی اور ہو۔ وہ سب سے سینئر سیاستدان بھی ہے لیکن وہ تمام عمر ایک ورکر یا لیڈر ہی رہا۔ اگر اس پارٹی میں جمہوریت  ہوتی تو اعتزاز احسن  جیسے لوگ لازم صدر بنتے لیکن افسوس کہ ایسے بندے اپنے نواسے کی  عمر کے بچے کے تابعدار نظر آئیں گے۔
اس پارٹی میں اور بھی سینئر  لوگ موجود ہیں کیا یہ لوگ پارٹی چیئرمین نہیں بن سکتے؟ بلکل بن سکتے ہیں اور ان میں زرداری خاندان سے زیادہ قابلیت اور اہلیت ہت۔ لیکن آخر میں بات پھر آجاتی  ہے موروثی سیاست پر جو ان جیسے قابل لوگوں کو راستہ نہیں دیتا۔
اب آجاتے ہیں مسلم لیگ ن کی طرف جو اپنے آپ کو جمہوری لوگ کہتے ہیں لیکن جمہوریت کا ان لوگوں سے دور دور کا واسطہ نہیں۔ کیونکہ نواز شریف کو سیاست میں ایک صنعتکار بڑے میاں صاحب المعروف "ابا جی" کی سفارش پر ایک جنرل لایا تھا۔
نواز شریف  خود بھی اپنے آپ کو جنرل ضیاء  کا لے پالک بیٹا کہتا تھا۔  خود نوازشریف؛ جنرل ضیاء  مرحوم کی قبر پر کھڑے ہوکر کہا کرتے تھے کہ میں آپ کا مشن آگے لے کر جاونگا۔
جب سے پانامہ کیس میں سپریم کورٹ  نے اسے نااہل کیا ہے تو اس کی جگہ اس کی بیٹی مریم صفدر  آئی ہے ۔ محترمہ پارٹی کی نائب صدر ہے اور سپریم کورٹ سے سزا یافتہ مجرمہ ہے اور کورٹ سے ضمانت پر رہا ہے۔کیا وہ پارٹی میں الیکشن لڑ کے نائب صدر بنی ہے؟ اس کی قابلیت  کیا ہے؟ اس کی قابلیت  صرف اور صرف نواز شریف  کی بیٹی ہونا ہے۔
ن لیگ میں کتنے سنئیر لوگ موجود ہے جو مریم سے کیا نواز شریف  سے بھی زیادہ قابل اور اہل ہیں لیکن بات وہی ہے موروثی سیاست اور موروثی پارٹی۔
جمعیت علماء اسلام ف گروپ جو مولانا فضل الرحمن  صاحب کئی دہائیوں سے صدر بنے ہیں اور اپنی پارٹی میں کبھی بھی الیکشن  نہیں کرایا ۔ایک دفعہ کرایا جب مولانا شیرانی صاحب نے اس کے خلاف الیکشن لڑنے کی جرأت کی تو ان کو پارٹی سے نکالا اور وہ عہدے اپنے بھائیوں میں تقسیم کیے۔
پاکستان میں اصولی نہیں بلکہ  وصولی سیاست کی جاتی ہے اور
اس کی تازہ مثال  پی ڈی ایم کی شکل میں غیر جمہوری پارٹیوں کا اتحاد ہے جو موجودہ عمران خان کی الیکٹیڈ اور جمہوری حکومت ختم کرنے کے درپے ہیں کیونکہ خان این آر آو دینے کے لیے تیار نہیں اور وہ احتساب کی بات کرتے ہیں۔
اب جبکہ کرپٹ مافیا  کے ساتھ اپنے کرپشن بچاو کا کوئی دوسرا آپشن نہیں رہا اس لیے سب نے غیر فطری اتحاد کیا ہے۔
وگرنہ پی ڈی ایم کی سب سے بڑی پارٹیاں ماضی میں کیسے ایک دوسرے کی حکومتیں گراتی رہی ہیں یہ بات تاریخ کے اوراق میں موجود ہے۔
ان خاندانوں کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان کا خزانہ لوٹا ہے اور باہر کے ملکوں میں اپنے بچوں کے نام اربوں کھربوں ڈالرز کے کاروبار اور جائیدادیں ہیں اور جب ان سے ان کا حساب مانگا جاتا ہے تو ان کو جمہوریت خطرے میں نظر آتی ہے۔
 حالانکہ ماضی میں ان خاندانوں نے مشرف حکومت سے ڈیل کرکے اپنے کرپشن معاف کرائی تھی اور ڈیل کے نتیجہ میں ملک سے باہر گئے ہیں۔
ان پر جب بھی برا وقت آیا ہے یہ ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں اور جب ملک میں ہوتے ہیں تو گلو بٹوں کا ہجوم تیار کیا ہوتا ہے اور ریاستی اداروں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
اصل میں حکومت اور ریاست اداروں پر دباو ڈال کر این آر آو مانگتے ہیں۔ان کے بارے میں مشہور ہے کہ جب حکومت میں ہوتے ہیں تو گریبان پکڑتے ہیں اور جب ان سے احتساب مانگا جاتا ہے تو پاوں پڑ جاتے ہیں۔
حکومت اور ریاستی اداروں کو اس دفعہ دباؤ میں نہیں لاسکے کیونکہ اب حکومت اور ریاست ایک پیج پر ہے اور دونوں ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور احتساب چاہتے ہیں۔
عوام کی بھی دیرینہ  خواہش اور مطالبہ ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے کسی کرپٹ کو این آر آو نہ دیں بلکہ لوٹا ہوا مال واپس لاکر پاکستان کے خزانے میں جمع کریں اور یہ لوٹا ہوا پیسہ عوام کی فلاح وبہبود پر لگائی جائے نہ کہ کرپٹ خاندانوں کے بچوں اور اس کے آنے والے نسل پر خرچ کی جائے ورنہ پاکستان ان چوروں اور ڈاکوؤں کی نسل در نسل غلام ہوگی اور پاکستان دنیا میں وہ مقام حاصل نہیں کرسکے گا جس کا خواب علامہ اقبال  نے دیکھا تھا، قائداعظم محمد علی جناح نے عملی جامہ پہنایا تھا اور ہمارے بزرگوں نے اپنے جانیں قربان کیے۔
ہمارے سکیورٹی فورسز اور عوام اس لیے قربانیاں نہیں  دیں رہی ہے کہ یہ کرپٹ خاندانیں پاکستان پر حکومتیں کرتے رہے اور کرپشن کرتا رہے۔
پاکستان ایک عظیم مقصد کے لیے بنا تھا اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سخت احتساب اور شدید قسم کی سزائیں دینا ہونگی اور جس نے لوٹا ہے اس کو نشان عبرت بنایا جائے تو علامہ اقبال  اور قائد اعظم کی روح کو سکون بھی ہوگا اور پاکستان عظیم ممالک میں شمار ہوگا جس کے لیے پاکستانی عوام  شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔
پاکستان میں اب لوٹا ہوا مال کی وصولی چاہئے نہ کہ کرپشن بچاو سیاست ورنہ ہمارے کرپٹ سیاستدان وصولی کو اصولی سیاست کہتے رہے گے لیکن اب پاکستان قوم مزید ان لوگوں کے چال میں نہیں آئے گی۔
پاکستان زندہ آباد