The Master Stroke By Kaptaan - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf

 

سیاست ہار جیت کا نہیں بلکہ صحیح وقت پہ صحیح فیصلہ لے کر حالات کا رخ اپنی پسند کے میدان کی جانب پلٹنے کا نام ہے۔ عمران خان جیسا مدبر سیاستدان تو ان روایتی سیاست دانوں کو کسی بھی وقت پٹخنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ جب مخالفین کے کارڈ ختم ہو چکے ہوتے ہیں تب خان اپنے پتے شو کرتا ہے اور اعصابی وار کر کے مخالفین کو زمین بوس کر دیتا ہے۔ اس کی چھبیس سالہ سیاست اور بائیس سالہ کرکٹ اس کی شاہد ہے۔ کپتان جیسے فیصلہ ساز ، شاز شاز ہی ہوتے ہیں۔ فیصلہ سازی میں کپتان کو ایک الگ ہی مقام حاصل ہے۔ خان کی سب سے بڑی طاقت اس کا unpredictable ہونا ہے اور اس کے ساتھ risky and bravery مل جائے تو پھر ناقابل شکست ہو جانا طے ہوتا ہے ۔ کپتان میں تو لیڈر شپ کوالٹیز بدرجہ اتم موجود ہیں۔ایک دفعہ پھر اس کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا ہے۔ 

عمران خان نے اس لانگ مارچ کے سحر میں مخالفین کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ اسلام آباد ایک جنگی ماحول اور محصور قلعے کی سی کیفیت میں چلا گیا۔ مخالفین نے تشدد و بربریت کے وار سے کپتان کو اشتعال دلا کر اپنی ناکامیوں کا بوجھ اس پہ لاد کر پتلی گلی سے فرار کا منصوبہ بنایا تو کہیں کچھ طاقتوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر اپنی الٹیمیٹ پاور منوانے کی ٹھانی لیکن کپتان نے انھیں ہمیشہ سجی دکھا کر کھبی ماری۔ اب کی بار تو مخالفین چیف اٹھے ہیں۔ کپتان نے طاقت کے مرکز میں گھس کر خوف کے بت کو پاش پاش کیا ہے ۔ یہ اپنے آپ میں ایک الگ اچیومنٹ تھی۔ اب اس نے معاشی تںاہی میں امپورٹڈ کو ریلیف دینے کے بجائے ان کو پٹخ پٹخ کر مارنے کا فیصلہ کیا اور جلسہ دکھا کر اسمبلیاں تحلیل کرنے کا باؤنسر دے مارا۔ اس صورت حال میں وہ بھی نکلنا چاہتے ہیں لیکن کپتان اب خود ساحل پہ ڈنڈا لیکر کھڑا ہے اور انھیں موقع ہی نہیں دے رہا۔ سب کی امیدوں پہ پانی پھیر کر وہ اپنی مرضی ، اپنی پاور سے مخالفین کو توڑ رہا ہے۔ اس ماسٹر سٹروک نے امپورٹڈ اور اس کے ہینڈلرز کو چکرا دیا ہے ۔ جن کو اس کے اثرات کا علم نہیں وہ پی ڈی ایم راہنماؤں کی چیخوں سے اندازہ لگا لیں۔ 
کپتان نے ان سب کا سیاست سے نام و نشان ہی مٹانے کی ٹھان لی ہے اور اپنے پہ در پہ اعصابی وار سے انھیں زمین بوس کرتا چلا جا رہا ہے۔ ظلم و بربریت سے سارے مسئلے حل کرنے والوں کے قدم اکھڑ چکے ہیں اور ایسے وقت میں کپتان کا باؤنسر انھیں منہ کے بل گرا گیا۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ 


خان کے ماسٹر اسٹروک کی سیاسی اہمیت بھی سمجھ لیجیے۔ 
اس فیصلے کے بعد امپورٹڈ حکومت اور ہینڈلرز بیک فٹ پہ چلے گئے ہیں۔ ان کے پاس اس بدترین معاشی صورتحال میں فرار اور سیاسی شہید بننے کی راہ ختم ہو گئی۔ ہینڈلرز کے پاس اس وقت نئی کمان آتے ہی باؤنڈری سیٹنگ سے پہلے غیر متوقع وار نے ان کے سارے پلان چوپٹ کر دیے ہیں۔ خان سجی دکھا کر کھبی مار گیا اور اپنی مرضی کے میدان میں گھسیٹ کر لے گیا جہاں وہ اپنی مرضی سے پھینٹا لگاتا ہے۔ 
تحریک انصاف کی جانب سے استعفوں کے بعد 65 فیصد نشستیں خالی ہو جانی ہیں جس میں عام الیکشن کی جانب ہی بڑھا جا سکتا ہے ۔ ایسے میں ناکامیوں اور نالائقیوں کے بوجھ میں بغیر کسی سیف ایگزٹ کے کپتان کی جانب سے باؤنسر نے امپورٹڈ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 
اگر ذاتی انا یا بقا کی خاطر صرف صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات ہوتے ہیں تو بھی یہ ہر لحاظ سے کپتان کےلیے وننگ صورتحال ہے ۔ 
الیکشن کا ماحول ملے گا جو اس بیڈ گورننس میں اپوزیشن کےلیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ یوں خان اپنے فیورٹ میدان میں ان کو گھسیٹے گا۔
الیکشن میں کپتان 75 فیصد ضمنی الیکشن جیت چکا ہے۔ دونوں صوبائی اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت سے واپسی پہ وہ مزید طاقتور ہو گا اور اس دوران عام انتخابات بھی قریب آ چکے ہوں گے جس پہ ان الیکشن کا براہ راست اثر پڑے گا ۔ 
عام انتخابات میں صوبائی اسمبلیوں میں دوبارہ سے الیکشن نہیں ہوں گے کیونکہ نگران سیٹ اپ اور الیکشن ہو چکے ہوں گے سو تحریک انصاف کی صوبائی حکومتوں کی موجودگی میں عام انتخابات ہر لحاظ سے امپورٹڈ کےلیے زہر قاتل کی حثیت رکھیں گے۔ 
عمران خان نے اس ماسٹر اسٹروک سے امپورٹڈ و ہینڈلرز کے تمام پلان چوپٹ کر کے ان کی پھینٹی لگا کر سیاست سے ان بوریا بستر ہی گول کرنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امپورٹڈ کی چیخوں سے اندازہ لگائیے کہ وہ کس بری طرح پھنس چکے ہیں۔ کپتان الیکشن کی تیاری بھی کر رہا ہے ، اپنی مہم کو پولٹیکل انگیجمنٹ کا زریعہ بھی بنا رہا ہے ، پولٹیکل اوئیرنس سے ان کا مکو بھی ٹھپ رہا ہے اور ان کےلیے سیاسی قبریں بھی کھود رہا ہے اور یہ روز اس میں گرتے چلے جا رہے ہیں ۔ عام انتخابات بس مٹی ڈالنے کی حثیت رکھتے ہیں۔