3 Successful Years of Punjab Govt Under CM Buzdar - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf
3 Successful Years of Punjab Govt Under CM Buzdar - Insaf Blog

 

آبادی کے لحاظ سے پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بدقسمتی سے، مناسب قیادت اور معاشی منصوبہ بندی کا فقدان، صوبہ برسوں سے معاشی جمود کا شکار ہے۔ 2018 میں عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا اور پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آگئی۔وزیر اعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب کے محروم حصے سے تعلق رکھنے والے عثمان بزدار کو پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے کی قیادت دینے کا فیصلہ کیا۔ جو اپنی نوکری کو اپنا فرض سمجھتا تھا۔ ہر طرف سے بزدار پر تنقید کی گئی، لیکن انہوں نے نظر انداز کیا اور صوبے کی تقدیر بدلنے کے لئے دن رات کام کیا۔پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی کی تحصیل تونسہ سے تعلق رکھنے والے عثمان احمد خان بزدار کے بارے میں متنازع خبروں پر وزیراعظم عمران خان کو مداخلت کرنا پڑی اور انھوں نے ٹویٹر پر ایک پیغام میں عثمان احمد خان بزدار کی نامزدگی کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ عثمان بزدار کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔آج وزیر اعلی عثمان بزدار کی سربراہی میں، صوبے میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگیا ہے۔ در حقیقت، صوبہ پنجاب وزیر اعظم عمران خان کے نئے پاکستان کے وژن کی بنیاد بن گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے نہ صرف صوبے کی معاشی حالت کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی بلکہ لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے۔
وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی جرائتمنداور محنتی قیادت میں فلاح و ترقی کے ایسے تاریخ ساز اقدامات کیے جن کی مثال ملنا نامحال ہے۔وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے اپنے عملی اقدمات سے ثابت کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ہر طبقہ کا سوچا اور ان کی تعمیر و ترقی کے لئے عملی اقدامات کیے۔ آئیے وزیراعلی پنجاب کی تین سالہ کارگردگی پہ ایک نظر ڈالٹے ہیں

 

 

انسانی زندگی کے لئے بنیادی ضروریات سب سے اہم ہیں جن میں صحت کا شعبہ اہمیت کا حامل ہے۔وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار ۹ مدر اینڈ چلڈرن ہسپتال کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا سب سے بڑا مقصد یہی تھاکہ پنجاب حکومت ماں اور بچے کو بہترین طبی سہولیات مہیا کرسکے اور ان کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔یہ پراجیکٹ آج پنجاب کے مختلف اضلاع میں بغیر کسی تفریق کے عوام کو مفت طبی سوہلیات مہیا کررہا ہے۔صحت سہولت کارڈز حکومت کا انقلابی پروگرام ہے، عالمی سطح پر اس پروگرام کو سراہا گیا ہے، 100 ارب روپے کے منصوبے سے تمام شہری مستفید ہوں گے۔ اس کارڈ سے خاندان کے تمام افراد مستفید ہوں گے اور 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک علاج کی سہولت حاصل کی جا سکے گی۔ ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال ڈویژن کے لاکھوں افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے، 64 ہسپتال پینل میں شامل کئے گئے ہیں،صحت سہولت کارڈ 100 ارب روپے کا منصوبہ ہے، کینسر کے مریض بھی اس پروگرام کے ذریعے علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ سات نئے زچہ بچہ ہسپتال بن رہے ہیں، میانوالی اور گنگا رام ہسپتال بھی جلد فعال ہو رہے ہیں، راجن پور، بہاولنگر، اٹک اور سیالکوٹ میں بھی زچہ بچہ ہسپتال بنائے جا رہے ہیں، ان علاقوں پر ماضی میں توجہ نہیں دی گئی، نشتر ہسپتال ملتان کی 40 سال کے بعد توسیع ہو رہی ہے، ڈیرہ غازی خان میں کارڈیالوجی ہسپتال بھی فعال ہونے جارہا ہے۔ بنیادی صحت کے تمام مراکز کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ حکومت عوام کو صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے، صحت کے محکموں میں 36 ہزار ملازمتیں دی گئی ہیں، جنوبی پنجاب کے لئے مزید 8 ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز مزید بھرتی کی جائیں گی۔صحت کے شعبہ کو خصوصی توجہ دی گئی اور پہلی دفعہ 15ہزار پوفیشنل ہیلتھ کئر ز کو بگیر کسی دفارش کے میرت کی بنیاد پہ بھرتی کیا اس سے جہاں لوگوں کو روزگار ملا وہی ہسپتالوں میں سٹاف کی کمی کو دور کیا گیا جس سے محکمہ صحت کا شعبہ ہر وقت عوام کی خدمت میں کوشاں ہے۔ تعلیم ہر انسان کے لئے چاہے وہ امیر ہو یا غریب،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کیلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے علم دوست اقدامات کے ثمرات سامنے آرہے ہیں۔ صوبائی حکومت اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کے وژن اسے عملی جامہ پہنانے میں ہر ممکن اقدامات اُٹھائے گی۔ صوبے میں معیاری تعلیم کا فروغ شروع دن سے صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے، نہ صرف ذہین اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل طلباؤ طالبات کو آگے بڑھنے کے مواقع دیئے جارہے ہیں بلکہ ضرورت مند طلباؤ طالبات کی مالی معاونت بھی جاری ہے.تعلیم کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار اداکرتی ہے، ا س کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت شعبہ تعلیم کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ پنجاب حکومت وزیراعظم عمران خان کے وژن یکساں قومی نصاب کے تحت صوبہ بھر میں ایک نصاب لاگو کیا ہے تاکہ امیر غریب مساوی تعلیم حاصل کر سکیں اور امتیازی تفریق کا خاتمہ ہو۔ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب کی تاریخ میں پہلی دفہ ہر ضلع میں یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ ہم اپنے طلباء کو بہتر سے بہتر تعلیم کے مواقع فرہم کر سکیں اور ان کو اعلی تعلیم کے لئے دور دراز کا سفر نہ کرنا پڑے۔

 

 

سابقہ ادوار میں بہت سے اضلاع کو ترقی سے دور کھا گیا لیکن موجودہ دور میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکج کا اجراء کی کیا گیا جس سے ہر ضلع کو مساوی فنڈز دئے گئے اور ہر ضلع مساوی ترقی کی طرف گامزن ہوا جس میں ضلع چیؤٹ اور سرگودھا کی عوام کی فلاگ و بہبود کے لئے 1700کروڑ کا ضلعی ترقیاتی پیکج،ضلع ڈیرہ غازیخان کی تعمیر و ترقی کے لئے 1ارب 27کروڑ کے مختلف منصوبہ جات اور 4کروڑ کی لاگت سے سخی سرور میں ریسکیو 1122ایرجنسی سروسز کا قیام عمل میں لایاگیا،شیخوپورہ، حافظ والہ اور گوجرانوالہ کی عوام کے لئے25 ارب سے زائد مالیت کا ضلعی ترقیاتی پیکج،ملکہ کوہسار مری کی عوام کے لئے وزیر پنجاب سردار عثمان بزدار کی جانب سے 780 کروڑ سے زائد مالیت علاقائی ترقیاتی پیکج،ضلع لیہ کی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے 13ارب روپے کا ضلعی ترقیاتی پیکج،ضلع ناروال کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے 5ارب روپے سے زائد مالیت کا ضلعی ترقیاتی پیکج،ضلع بہاولپور کے عوام کی فلاحو بہبود کے لئے 12 ارب روپے کا ضلعی ترقیاتی پیکج،ضلع بکھر کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے 9 ارب روپے سے زائد کا ضلعی ترقیاتی پیکج، ضلع ملتان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے 16.7 ارب روپے کا ضلعی ترقیاتی پیکج،ضلع راجن پور کے عوام کے لئے تاریخ میں پہلی بار 14 ارب روپے کا تاریخ ساز ضلعی ترقیاتی پیکج دئے گئے ان مساوی ضلعی ترقیاتی پیکج سے جہاں جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ ہوا وہی ہر ضلع مساوی ترقی کی جانب گامزن ہوا۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملکی معیشت میں کسان کا ایک اہم کردار ہے۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلے بار کسان کو اس کا پورا حق ملا اور بروقت ادائیگیوں کو ممکن بنیاگیا ۔ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی کسان دوست پالیسیز سے کسان خوشحال ہوا۔حکومت کی کسان دوست زرعی پالیسی – خوشحال پاکستان کی ضامن وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پنجاب حکومت شوگر فیکٹریز آرڈیننس لے کر آئی جسکی وجہ سے اس سال پہلی بار کسان کو وقت پر اور پورا معاوضہ ملا-جب اس آرڈیننس کو ایکٹ کے طور پر پاس کروایا گیا تو کچھ ایسی ترامیم کر دی گئیں جو کسان دوست نہیں اور کسان کو 2018 کے زمانے میں لیجاسکتی ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو ہدایت کی کہ اس ایکٹ میں تمام کسان دوست ترامیم کو شامل کر کے پاس کروایا جائے۔ وزیراعظم عمران خان ہر صورت کسان کا تحفظ ضروری بنائیں گے۔ پہلی بار کوئی حکومت کسان دوست پالیسی دے رہی ہے جس کے نتائج حوصلہ افزاء رہے ہیں۔ ٹریکٹر و فارم مشینری کیلئے 28 ارب روپے کی سبسڈی۔مویشیوں میں بہتر جینیاتی تبدیلیوں کیلئے 14 ارب روپے کی معاونت۔رواں سال کسان کو اضافی1100 ارب روپے کی فراہمی۔ کسان کارڈ پروگرام سے 10 لاکھ سے زائد کاشتکاروں کو سالانہ 5 ارب روپے کی سبسٹڈی دی جائے گی۔ کسان اے ٹی ایم کے ذریعے اپنی سبسٹڈی حاصل کر سکیں گے۔کسان کارڈ ایک انقلاب ہے آج سے پہلے کسان کو پیسہ پہنچانا نہایت مشکل تھا اب کسان کارڈ کے ذریعے کسان کو براہ راست کھاد، بیج، دوائی، بجلی پر سبسڈی ملے گی۔پنجاب میں 13 لاکھ 55 ہزار سے زائد کاشتکار کسان کارڈ کے لئے رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔کلین گرین پنجاب مہم کے تحت جنگلات پہ خصوصہ توجہ دی گئی اور وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں حکومت پنجاب کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور صوبہ کو کلین اینڈ گرین بنانے کے لئے 4 ہزار ملین روپے رکھے گئے ہیں گزشتہ سال کی نسبت یہ اضافہ 129 فیصد ہے. صاف پانی کے مسلہ پہ وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب کے 36 اضلاع میں سال 2021 کے اختتام تک 4ارب روپے کی لاگت سے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے جائیں گے جس سے صوبہ کی عوام کو صاف پانی کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی ۔سالہا سال سے نظر انداز جنوبی پنجاب کے لئے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے نہ صرف علیحدہ فنڈز مختص کئے بلکہ علیحدہ سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لاگیا۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کی تاریخی اقدام سے نظرانداز کیے جانے والے علاقوں کے عوام کو کافی حد تک راحت ملے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے عام انتخابات کے دوران جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ کیے گئے وعدہ کی تکمیل کہ ہے۔”جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو تاریخی اقدام قرار دیا گیا۔ جنوبی پنجاب سکریٹریٹ جنوبی پنجاب کے عوام کی خواہشات کے مطابق ان کے مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ جنوبی پنجاب کے عوام علاقے کے دیرینہ مطالبے کو حقیقت میں ڈھالنے پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی عثمان بزدار کی تعریف کر رہے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے جنوبی پنجاب کے عوام کے حقوق کو نظرانداز کیا۔جنوبی پنجاب سکریٹریٹ ایک تاریخی واقعہ ہے یہ جنوبی پنجاب صوبہ کے لئے ایک نئی شروعات ہے،جنوبی پنجاب کے عوام کا وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی عثمان بزدار کے ساتھ پیار کا مضبوط رشتہ ہے اور پی ٹی آئی حکومت معاملات حل کر رہی ہے۔ لوگوں کے تمام معاملات سیکرٹریٹ میں حل ہوں گے۔جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ میں ایک ایڈیشنل آئی جی اور ایک ایڈیشنل چیف سیکریٹری کا دفتر بنایا گیا ہے جن کے ماتحت دیگر محکمے کام کر رہے ہیں۔ اِن محکموں کے اسپیشل سیکریٹری صاحبان جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ میں کام کر رہے ہیں۔۔ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، محکمہ فنانس، محکمہ داخلہ، محکمہ بورڈ آف ریونیو، محکمہ بلدیات، محکمہ زراعت، محکمہ خوراک، محکمہ پرائمری ہیلتھ، محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ، محکمہ ہائیر ایجوکیشن، محکمہ جنگلات، محکمہ آبپاشی، محکمہ کمیونیکشن اینڈ ورکس اور محکمہ پبلک ہیلتھ کے دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔حکومت پنجاب کا مجوزہ بجٹ برائے مالی سال 22_2021وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کا عکاس ہے.جنوبی پنجاب کے معاشرے کے پسماندہ طبقات کے لیے پروگرامز کا اجراء، تعلیم و صحت کے شعبے میں ریکارڈ فنڈز کا مختص ہونا اور جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ سے پنجاب میں ترقی و خوشحالی کا نیا دور شروع ہو ہے۔ جنوبی پنجاب کے لئے بجٹ 22_2021 کا %35 حصہ مختص کیا گیا ہے جو کہ 189 ارب روپے بنتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے  صوبائی محکموں میں جنوبی پنجاب کے لئے نوکریوں کا 32 فیصد کوٹہ مقرر کرنے کا اعلان کیا اور بھکر اور میانوالی اضلاع کو شامل کرنے کی تجویز کی منظوری سے، کوٹہ 35 فیصد تک بڑھ جائے گا۔
وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ہمیشہ عملی کام کیا۔پہلی بار 15 یونیورسٹیوں، 250 کالجز اور 8 تعلیمی بورڈز کے سربراہان کی میرٹ پر آزاد سلیکشن بورڈز کے ذریعے تقرری ہوئی،3 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیوں کا آغاز ہوا،50 کالجز میں BS کلاسز کا آغاز کیاگیا،1200 سکولوں کو اپ گریڈ کر دیا گیا،سکولوں میں ”دوپہر کی شفٹ” شروع کی گئی،نئی ایجوکیشن پالیسی لائی گئی،پہلی بار 40 ہزار اساتذہ کے گھر بیٹھے بغیر رشوت/سفارش کے ٹرانسفرز ہوئے،تمام اداروں میں آنلائن ہیومن ریسورس سسٹم  لانے پر کام شروع ہوا، 2800 سے زائد کلاس رومز بنانے کا کام شروع، تقریباً 10 ہزار سکولوں کو سولر انرجی پر منتقل کر دیا گیا،. 50 لاکھ کارڈز تقسیم،40 تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی revamping جاری،194 بنیادی مراکز صحت اب 24 گھنٹے فنکشنل،16 ارب کے میگا پراجیکٹس جاری، میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹشنز (MTI) ریفارمز ایکٹ پاس ہو چکا، پانی چوری روکنے سے 10-15 سال بعد کئی علاقوں میں نہروں کی ٹیل تک پورا پانی پہنچا، کئی دہائیوں بعد نہروں پر کام شروع ہوا (جلالپور کینال سسٹم اور تھل کینال سسٹم کے میگا پراجیکٹس)،تمام بیراج اور ”فلڈ پروٹیکشن بند” پہلے سے زیادہ مضبوط کیے،کھالے پکے کرنیکا کام شروع کیاگیا،10 سپیشل اکنامک زونز منظور،غیر ملکی سرمایہ کاروں سے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور قائداعظم بزنس پارک کے لیے اربوں ڈالر کے معاہدے، ہنرمند پنجاب سکیم کے تحت TEVTA سیکٹر کے لیے 1.5 ارب روپے دئیے گئے، کسانوں کو منڈیوں اور ماڈل بازاروں میں ”کسان پلیٹ فارم” کی مفت فراہمی، اینٹی کرپشن کے ادارے نے 132 ارب روپے سے زائد کی تاریخی ریکوریاں کیں، قبضہ مافیا سے 10 لاکھ کینال سیزائد رقبہ واگزار کروایا گیا، 10 ہزار سے زائد کرپشن انکوائریاں کی گئیں اور 2300 سیزائد گرفتاریاں کی گئیں، عوامی شکایات کیلیے?#ReportCorruption ایپلیکیشن متعارف کروائی، کاروبار میں آسانی کے لیے E-Governance منصوبے شروع کیے گئے، ملکی تاریخ کا سب سے بہترین بلدیاتی سسٹم منظور کروایا گیا. حلقہ بندیاں جاری ہیں، لیگل ریفارمز کے لیے پنجاب اسمبلی سے ریکارڈ 30 سے زائد بل پاس کیے گئے اور تقریباً اتنے ہی قوانین منظوری کے مختلف مراحل میں ہیں، گنے اور گندم کیکاشتکاروں کو تاریخ میں پہلی بار پورا ریٹ ملا، کسانوں کے 26 ارب کے بقایا جات شوگر ملز سے ریکور کروائے گئے، وزیراعظم ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام کے تحت مختلف سکیموں کے لیے ان 5 سالوں میں تقریباً 65 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، کھادوں پر تاریخی سبسڈی دی گئی


 
پولیس ریفارمز کے تحت:
پولیس سے متعلقہ 80٪ کاموں کے لیے 36 اضلاع میں خدمت مراکز کا قیام،8787 پر آئی جی شکایت سیل کا قیام، 10 ہزار نئے پروفیشنلز کی بھرتی کی منظوری، 50/720 سمارٹ پولیس سٹیشنز کا افتتاح، میرٹ پرپروفیشنل افسران کی تقرری، سخت ادارہ جاتی احتساب کا آغاز۔ 61 میں سے 24 ایسی تحصیلوں میں سپورٹس کمپلیکس شروع کیے گئے جہاں کھیلوں کی سہولیات نہ ہونے کیبرابر ہیں، 8 سال بعد پنجاب گیمز کا انعقاد، کبڈی ورلڈکپ کی میزبانی، نشتر سپورٹس کمپلیکس میں ”سپورٹس سکول” بنانیکی منظوری، 1400 دیہاتوں میں ”گرین گراؤنڈز” بنانیکا منصوبہ شروع، ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ”والڈ سٹی اتھارٹی” کا دائرہ کار صوبے بھر تک بڑھا دیاگیا، 10 نئے سیاحتی مقامات کی ڈویلپمنٹ جاری، صوبے میں 50 کروڑ پودے لگانے کا ٹارگٹ، 4 نئے نیشنل پارکس کی منظوری،”اربن فارسٹ” متعارف کروائے گئے، وائلڈ لائف تحفظ کیلیے قوانین میں ترامیم، لاہور سمیت تمام بڑے شہروں کے اگلے 30 سالہ ماسٹر پلان پر کام جاری، ”پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی” کا قیام جس کے تحت:لاہور اور راولپنڈی رنگ روڈ پراجیکٹس کیساتھ 13 دیگر بڑی سڑکوں کیمنصوبوں پر مختلف مراحل میں کام جاری،تقریباً 1500 کلومیٹر دیہاتی/چھوٹی سڑکوں کی تعمیر، جنوبی پنجاب کیفنڈز کی ”Ring Fencing” جس سے پچھلے ادور کی طرح فنڈز کہیں اور ٹرانسفر کرنا ناممکن ہے، کورونا جیسی وبا کا باتوں کی بجائے بہتر ایڈمنسٹریشن سے مقابلہ!! یہ ہمارے کچھ محکموں کے چیدہ چیدہ کام تھے جو ہم نے پچھلے تین سالوں میں شروع یا مکمل کیے.انشاء اللہ اگلے 2 سالوں میں ہماری ٹیم مزید تندہی اور جانفشانی سے پاکستان تحریک انصاف کے منشور اور وزیراعظم عمران خان کے وعدوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیگی اور عوام کی امیدوں پر پورا اترے گی۔ وزیر اعلی پنجاب باتیں کم اور کام زیادہ پہ یقین رکھتے ہیں انہوں نے تنقید برائے تنقید کرنے والوں کو ہمیشہ عوامی خدمت کے ذریعے جواب دیا۔میں بلا جھجک یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنے پورے کیریئر کے دوران عثمان بزدار جیسا بے لوث اور شریف النفس صوبائی سربراہ نہیں دیکھا۔ میڈیا انٹرویو ہوں یا صحافیوں کے سوالات، سیاسی اجتماعات ہوں یا پارٹی میٹنگز انہوں نے وزیراعلیٰ کے طور پر اپنے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات اور رہنماووں کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر ان کا رد عمل ہمیشہ سادہ مگر پراعتماد ہوتا۔ میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عثمان بزدار اقتدار کے بھوکے نہیں اور نا ہی ان کے ذاتی مفادات ہیں۔ نا ہی وہ لالچی اور خود غرض انسان ہیں اور ناہی ان میں صحیح اورغلط طریقوں سے ”مال بنانے” کی خواہش۔ لہذا وہ صوبے کی خدمت کرنے کے لیے ایک بہترین پوزیشن میں ہیں۔
صوبے کے لیے ان کی بے لوث خدمت اور آنے والے برسوں کیلئے اٹھائے جانے والے صوبائی ترقی کے ثمرات عوام کو مل رہے ہیں۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار متعدد صنعتی علاقوں کو خصوسی اقتصافی رون کا درجہ دیا گیا ہے اور ان اسپیشل اکنامک زونز کے بننے سے ایک اندازے کے مطابق 250,000سے زائد لوگوں کو ملازمت کے مواقع ملیں گے۔ پچھلی حکومتوں نے 3 جبکہ عثمان بزدار کے دور میں 10 اسپیشل اکنامک زونز پر کام جاری ہے، ان میں نجی زونز بھی شامل ہیں۔ جو نہ صرف اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے بلکہ پورے صوبے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ وزیراعلیٰ کے 9 ارب روپے کے آسان قرضوں کی اسکیم سے نئے کاروبار شروع کرنے والے نوجوان اور باہنر لڑکے لڑکیوں کے ساتھ موجودہ چھوٹے کاروباری افراد کو اپنے کاروبار کو ترقی دینے کا موقع ملے گا جس سے 5 لاکھ سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہونگی۔

 

یہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور حکومت میں نئے اور موجودہ بڑے صنعتوں اور تعلیمی اداروں کی بحالی کی چند مثالیں ہیں جبکہ ابھی بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے سیاسی میدان کے وسیم اکرم پلس اب اپنی پوری فارم میں کام کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کی موجودہ کارکردگی اور منصوبہ بندی کو سامنے رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بالکل اسی طرح نہایت ذمہ داری سے کام کررہے ہیں جیسے ان کی تعیناتی کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے امید لگائی ہوگی۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اپنی پارٹی اور حزب اختلاف کی شدید مخالفت کا مقابلہ کرنے کے ساتھ بیوروکریسی اور سیاسی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے انہوں نے اب تک جتنا کام کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد سے آزادی سے کام کرنے کے لیے مشکل ترین حالات کے باوجود عثمان بزدار اپنی ترجیحات پر ناصرف قائم رہے بلکہ اس پر عمل پیرا رہنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ آخر میں میں یہی کہوں گا کہ ایک ایسے وقت جب صوبہ پنجاب کے انتظامی اور ترقیاتی امور کامیابی سے آگے بڑھنا شروع ہو گئے ہیں، صوبے کی حکومت میں کسی بھی غیر ضروری اور بے وقت تبدیلی سے گورننس ماڈل پر انتہائی منفی اثر مرتب ہوں گے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ۔۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار اب ایک برینڈ بن رہے ہیں۔