
آپ سارا وقت سارے لوگوں کو بیوقوف نہیں بنا سکتے ،سپریم کورٹ نے پانامہ کیس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کے نتیجے میں تفصیلی فیصلہ سنا دیا . سپریم کورٹ نے کہا کہ نواز شریف نے حتی کہ سپریم کورٹ کو بھی بیوقوف بنانے کی کوشش کی ، ان کو اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ "آپ کچھ وقت کیلئے کچھ لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن آپ سارا وقت سارے لوگوں کو بیوقوف نہیں بنا سکتے "
فیصلے میں کہا گیا کہ ملک کے وزیر اعظم کو اخلاقی لحاظ سے اعلیٰ سطح پر ہونا چاہیے کیونکہ وہ ملکی اور عالمی سطح پر قوم کی نمائیندگی کر رہا ہوتا ہے ، کسی اثاثے سے انکار کرنا اور2006 میں لکھی گئی ایسی ٹرسٹ ڈیڈ کا دفاع کرنا جو کہ ایسے فونٹ میں لکھی گئی جو 2007 میں کمرشل ہوا ،یہ اس عہدے کے وقار کے خلاف ہے جو اسکے پاس موجود ہوتا ہے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس شعر کا ذکر بھی کیا
ادھر ا ُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے شریف خاندان کی جانب سے دائر کی گئی متعدد نظر ثانی کی اپیلوں کو مسترد کیا . فیصلے کے مطابق نواز شریف نے قوم اور عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ، مریم نواز لندن فلیٹس کی بینفشل اونر ہیں ، فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ نواز شریف نے FZE کمپنی سے ساڑھے چھ سال تک تنخواہ وصول کی لیکن انہوں نے جھوٹ بولا اور اسکو چھپایا ، نواز شریف نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ دانستہ طور پر ایک جعلی دستاویز جمع کروایں ، جس کو نظر انداز کیا ہی نہیں جا سکتا ، یہ امیدوار کا قانونی فرض ہے کہ وہ کاغذات نامزدگی میں تمام اثاثوں کا ذکر کرے ، یہ بات نا قابل قبول ہے کہ نواز شریف کو اکاونٹنگ کے ایک بنیادی قانون کا ہی نہیں پتہ FZE کمپنی سے تنخواہ نواز شریف کا اثاثہ تھی ،
جسٹس اعجاز افضل کی جانب سے لکھے گئے فیصلے میں یہ کہا گیا کہ نواز شریف کی نا اہلی ایک غیر متنازع فیصلہ تھی
مکمل فیصلہ پڑھیں یہاں کلک کرکے
