یاد ماضی عذاب ہے یا رب - انصاف بلاگ | Pakistan Tehreek-e-Insaf

 

تحریک انصاف کی حکومت کے لگ بھگ ساڑھے تین برس بیت گئے اور اس دورانیے میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو پہلے دن سے ہی نااہلی کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ وہی اپوزیشن ہے جو 1985 سے اقتدار کے مزے لوٹتے آ رہے ہیں اور ان 35 سال کی حکمرانی کا داستان عبرت انگیز ہے۔ ان 35 سالوں میں ان کی حکمرانی کے داستان کا سرسری طور پر جائزہ لیتے ہیں تو خلاصہ کچھ یوں بنتا ھے ۔
بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا یہ عالم تھا کہ گھنٹوں بجلی کا نام و نشان نہیں ہوتا تھا اور عوام پینے کے پانی کے لئے ترس جاتے تھے اور یہ لوگ آج پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر عوام کی مصائب کا رونا روتے ہیں ۔
پٹرولیم مصنوعات ان کے دور ميں بھی مسلسل مہنگے ہوتے رہے ہیں اور بغیر کسی عالمی وباء کے ان کے اقتدار کے دوران قیمتوں میں استحکام نہیں رہا۔
ڈالرکی قیمت میں اضافے پر بات کی جائے تو60 سے 90 تک اور 90 سے 120 تک کا اضافہ ان کے ادوار میں ہوا مگر ان کی یاداشت شاید کمزور ہو گئی ہو مگر عوام کو یاد ہے ۔
ان کے اقتدار میں گردشی قرضوں کا حجم پہلے زیرو سے 1300 ارب پر پہنچا یوں ہر پاکستانی ایک لاکھ پچیس ہزار کا مقروض ہو گیا اور بعد میں ان ہی لوگوں نے اس قرضے کا حجم 30000 ارب تک پہنچایا اور قرضے لے لے کر عیاشیاں کرتے رہے اور قرضوں کی واپسی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور یہی لوگ آج ملک و قوم پر قرضوں کی فریاد کر رہے ہیں ۔
ان کے دور اقتدار میں ہی تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالر تک پہنچ چکا اور یہ آج پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر عوام کی بات کر رہے ہیں ۔
عوام نے ان کے ادوار میں یہ بھی دیکھ لیا کہ جو ادارے قومی خزانے کو منافع دے رہے تھے مثال کے طور پر ریلوے ، سٹیل ملز اور پی آئی اے وغیرہ ۔ ان منافع بخش اداروں کا ستیا ناس کر کے الٹا قومی خزانے پر بد ترین بوجھ بنا کر چھوڑا گیا اور ان کے ذاتی کاروبار چمکتے گئے اور یہ پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر تحریک انصاف کی حکومت کو کوس رہے ہیں ۔
ان کے ادوار میں جعلی دستاویزات پر بھرتیاں اتنی بے رحمی سے کی گئیں کہ پائلٹ جیسے حساس کردار کے حامل جاب بھی بندر بانٹ کا شکار ہو گئے ۔
ان کی رینٹل پاور سیکٹر میں کرپشن پر عالمی خبریں بن گئیں اور کرپشن پر تحقیقات کرنے والا ایماندار آفیسر اپنے ہی گھر میں پھانسی پر جھولا ہوا مل گیا اور یہ پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر عوام کے حقوق کی بات کر تے ہیں ۔
ان کے دور میں منی لانڈرنگ کے لئے استعمال ہونے والی ماڈل کے کیس میں رقم برآمد کرنے والا انسپکٹر اپنے ہی گھر میں قتل کیا گیا اور یہ پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر مری سانحے پر بول رہے ہیں ۔
ان کے دور میں ماڈل ٹاؤن میں ہونے والا قتل عام  شاید ان کے ذہنوں سے محو ہو چکا مگر عوام نہیں بھولے۔
ان کے دور میں ملک کی بے مثال بدنامی ہوئی اور ہر لحاظ سے ملک مثبت اشاروں کے حامل معاملات میں فہرستِ کے اختتام پر ملا۔اس ملک کے وزیراعظم کی ایئر پورٹ پر جامہ تلاشی ہوئی مگر یہ سبز پاسپورٹ کی عزت پر لب کشائی کرتے ہیں ۔ہمارے ملک کے وزیراعظم کو عالمی اخبارات میں " بحری قزاق " کا لقب دیا گیا اور یہ پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر عمران خان کو نااہل قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
ہمارے صدر اور وزیراعظم سے جو سربراہان مملکت ہاتھ ملاتے تھے تو ان کو مشورہ دیا جاتا تھا کہ count your fingers
ان تمام حالات و واقعات میں ملک خداداد کی جو بدنامی ہوئی اس پر کوئی بلاول نہیں بولا۔
کوئی سیاسی نومولود مولانا جب پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کے الزام سے سپیکر قومی اسمبلی کو نوازتا ھے تو اسے کوئی یاد دہانی کروائے کہ باعث شرم افعال یہ ہی ہیں اور ان پر روشنی ڈالی جائے ۔غیرت دکھانے کے معاملات اور بھی تو ہیں ۔ان معاملات پر چیخنا چلانا بنتا ہے۔
70 برس کی بے حیائیوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والے سیاسی اماموں کا عمران خان کے احتساب پر بات کرنا بنتا ہی نہیں