پاکستان کی عجیب و غریب سیاسی جماعتیں | Pakistan Tehreek-e-Insaf

 

پاکستان کی عجیب وغریب سیاسی جماعتیں

ڈاکٹر زین اللہ خٹک

سیاسی جماعت ، افراد کے ایک گروپ یا گروہ جو اقتدار کے حصول کے لیے ایک پروگرام یا منشور لیکر میدان میں اترے ہو ۔ جدید سیاسی جماعتوں کی ابتداء 19 ویں صدی میں یورپ اور ریاستہائے متحدہ سے ہوئی۔ اس وقت مختلف ممالک میں مختلف اقسام وانواع کی سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔ کسی میں ایک پارٹی، کسی میں دو تو کسی میں زیادہ پارٹیوں کا نظام موجود ہے۔ جیسے چائنہ میں ایک پارٹی، امریکہ میں دو پارٹی اور پاکستان میں زیادہ پارٹیوں کا نظام موجود ہے۔دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان 167 جمہوری ممالک میں 105 نمبر پر ہے۔ جبکہ سیاسی جماعتوں کے لحاظ سے پاکستان میں سب سے زیادہ سیاسی جماعتیں ہیں۔ اس وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ 130 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔جبکہ غیر رجسٹرڈ پارٹیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان پارٹیوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً قومی پارٹیاں، علاقائی پارٹیاں، مذہبی پارٹیاں، لسانی پارٹیاں، نسلی پارٹیاں، لبرل، کمیونسٹ پارٹیاں، وغیرہ وغیرہ۔ بہت ساری پارٹیاں ملتے جلتے ناموں پر ہے۔ مثلاً عام لوگ پارٹی ، عام عوام پارٹی ، عام آدمی تحریک ، عام لوگ اتحاد ، عام لوگ اتحاد پارٹی ، عام لوگ اتحاد تحریک ، عوام لیگ ، عوام جسٹس پارٹی ، عوامی جسٹس پارٹی، عوامی مسلم لیگ ، عوامی نیشنل ، عوامی پارٹی پاکستان ، عوامی تحریک اور عوامی ورکرز پارٹی ان تمام سیاسی جماعتوں میں لفظ عوام اور عوامی کا ذکر ملتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عوامی جماعتوں کے دفاتر پوش ایریوں ڈی ایچ اے، بحریہ، ماڈل ٹاؤن، ایف سکس، گلبرگ وغیرہ میں قائم ہیں۔ سب سے زیادہ دھڑے پاکستان کے بانی جماعت مسلم لیگ کے ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ ، آل پاکستان مسلم لیگ جناح ، عوامی مسلم لیگ ، پاک مسلم لیگ ، پاکستان مسلم لیگ ، پاکستان مسلم الائنس ، مسلم لیگ ج ، مسلم لیگ ف ، مسلم لیگ ز ، مسلم لیگ ن ، مسلم لیگ ق ، مسلم لیگ شیر بنگال ، مسلم لیگ کونسل ، مسلم لیگ آرگنائزیشن ، پاکستان نیشنل مسلم لیگ وغیرہ وغیرہ۔ آل انڈیا مسلم لیگ 1906 میں بنگال میں قائم ہوئی۔ جس نے موثر ترین انداز میں جمہوری طریقے سے پاکستان مومنٹ چلائی۔ قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر رہ گی۔ آج درجن بھر سے زیادہ دھڑوں کے ساتھ ملکی سیاست میں موجود ہے۔ جبکہ 30 نومبر 1967 میں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں قائم ہونے والی سوشلسٹ نظریات کی حامل پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت چار دھڑوں میں منقسم ہے جن میں پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان پیپلز پارٹی شہید ، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز اور پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری ہے۔ یوں ایک ہی گھر میں دو سیاسی جماعتیں اور باپ بیٹا بالترتیب چیرمین اور صدر ہیں۔ مذہبی جماعتیں زیادہ تر فرقوں کے ناموں سے رجسٹرڈ ہیں۔ مثلاً سنی تحریک ، سنی اتحاد ، تحریک درویش ، تحریک لبیک ، تحریک لبیک پاکستان ، تحریک اہلسنت ، سنی اتحاد ، تحریک اجتہاد وغیرہ ۔ جنت پاکستان پارٹی ایک مذہبی جماعت ہے۔ جن کا دعویٰ مسلمانوں کی عالمگیر حکومت کا قیام اور دنیا میں نفاذ شریعت ہے۔ حیرت انگیز طور پر سیاسی پارٹی ہوتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے خلاف ہے۔ دوسری طرف ان کا منشور ملاازم اور سعودی مخالف ہیں۔ حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ اقلیتی برادری کے لوگ بھی سیاست میں کافی سرگرم عمل ہیں۔ اس وقت اقلیتی برادری کی رجسٹرڈ پارٹیوں میں مسیحی عوامی پارٹی ، پاکستان مسیح پارٹ، آل پاکستان اقلیت موومنٹ اور آل پاکستان اقلیتی الائنس شامل ہیں۔

 نسلی اور علاقائی جماعتوں میں سرفہرست بہاولپور نیشنل پارٹی ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی ، مہاجر قومی موومنٹ ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی ، سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی ، سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور تحریک صوبہ ہزارہ پارٹی شامل ہیں۔ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف جو کہ 1996 میں قائم ہوئی ۔ اس کے تین دھڑے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں جن میں پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان تحریک انصاف نظریاتی اور پاکستان تحریک انصاف گلالئی شامل ہیں۔ امید ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ملک کے اندر جمہوری روایات اور جمہوریت کے اقدار کو فروغ دیں گی۔ اور سیاسی جماعتٹ میں انٹرا پارٹی الیکشن کے ذریعے لیڈرشپ کو آگے لائیں گی۔