این اے 249 میں پاکستان تحریک انصاف کی شکست۔۔۔ وجوہات اور سدباب | Pakistan Tehreek-e-Insaf
NA 249 and PTI - Insaf Blog


این اے 249 کراچی کی نشت مارچ میں فیصل واڈا کی سینیٹر منتخب ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ 2017 کی حلقہ بندیوں سے پہلے این اے 249 دو مختلف حلقوں پر مشتمل علاقہ تھا ۔ جبکہ 2018 کے جنرل انتخابات میں پارٹی چیئرمین عمران خان نے اس نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔ عمران خان نے 2018 کے انتخابات میں چار حلقوں سے بیک وقت کامیابی حاصل کی تھی۔ لہٰذا آپ نے میانوالی کا حلقہ اپنے پاس رکھا اور باقی حلقوں سے مستعفیٰ ہوگئے۔ لہذا دیگر حلقوں کی طرح یہاں ضمنی انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پاکستان تحریک انصاف کے فیصل واڈا نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ چونکہ 2017 کی حلقہ بندیوں سے پہلے یہ حلقہ دو مختلف حلقوں میں منقسم تھا یہاں کسی خاص پارٹی کا گڑھ نہیں تھا۔ مختلف وقتوں میں محتلف پارٹیوں کے امیدواروں نے کامیابیاں حاصل کیں۔ پہلی بار پاکستان تحریک انصاف نے اس حلقہ سے 2018 کے جنرل انتخابات اور بعد ازاں ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ جوکہ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا ووٹ بنک مضبوط ہیں۔یہ حلقہ مختلف قوموں اور برادریوں پر مشتمل ہے۔ یہاں اُردو سپیکرز مہاجروں کی آبادی تقریباً 40 فیصد، پشتون اور ہزارہ والوں کی تعداد 45 فیصد کے لگ بھگ ، پنجابی زبان بولنے والوں کی تعداد 10 فیصد جبکہ 5 فیصد دیگر آباد ہیں۔ این اے 249 کے نتائج حیران کن ہے۔ کیونکہ مختلف اداروں کی طرف سے کئے گئے سروے رپورٹس میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن ٹاپ تھری نہیں تھی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اصل مقابلہ پاکستان تحریک انصاف, مسلم لیگ ن اور پاک سرزمین کے درمیان متوقع تھا۔ ایکشن کے دن شام چھ بجے تک پیپلز پارٹی کی پوزیشن بہت کمزور تھی تاہم چھ بجے کے بعد پیپلز پارٹی یک دم ٹاپ پر چلی گئی۔ ان تمام سوالات سے قطع نظر پاکستان تحریک انصاف کی شکست اور پانچویں پوزیشن پر براجمان ہونا قابل تشویش ہے۔ ٹکٹ ایک متوسط گھرانے کے نظریاتی ورکر امجد اقبال آفریدی کو دیا گیا۔  جس پر حلقہ سے تعلق رکھنے والے بااثر سرمایہ داروں اور سیاسی پنڈتوں نے مخالفت کی۔ روز اول سے ایک خاص سازش کے تحت  امجد آفریدی کو ناکام بنانے کے لیے پارٹی کے اندرونی گروپ نےایڑی چوٹی کا زور لگایا۔  دوسری طرف پارٹی کے مرکزی تنظیم سے لیکر صوبائی اور ریجنل تنظیم نے کمپین میں امجد آفریدی کا بھرپور ساتھ نہیں دیا۔ اس الیکشن میں 15 فیصد ٹرن آؤٹ تمام سیاسی جماعتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ہارنے خصوصاً انتہائی کم ووٹ حاصل کرنا ، کی وجوہات جاننا بہت ضروری ہے۔ تاکہ ان کمزوریوں ں کو ختم کیا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ہارنے کی مختلف وجوہات ہیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پارٹی نے اس طرح سپورٹ نہیں کیا جس طرح سپورٹ کی ضرورت تھی۔ حلقہ کے سابقہ ایم این اے فیصل واڈا کا کردار بھی سوالیہ تھا۔ موصوف نے وفاقی وزارت تک حاصل کرلی مگر حلقہ کے مسائل پر خاص توجہ نہیں دی۔ اس عدم توجہ کی بنیاد پر پاکستان تحریک انصاف کے لئے ووٹ کے حصول میں دقت کا سامنا تھا۔ حلقے کے عوام کی فیصل واڈا نے وابستہ توقعات پوری نہ ہوسکی۔ چند سال قبل بلدیہ ٹاؤن کراچی کے فیکٹری میں سینکڑوں مزدوروں کو زندہ جلایا گیا۔ آج تک سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی مداخلت اور الیکشن کمیشن کا یک طرفہ طرزِ عمل سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی ایز کو انڑی کی اجازت نہیں دی گئی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز کھلے عام پھرتے رہے۔ الیکشن کے دن پیپلز پارٹی کے امیدوار کے ساتھ بندوقوں سے لیس چتہ ووٹرز میں اشتعال کی وجہ بنی۔یہ اس حلقے سے جوڑا ہوا اہم مسئلہ ہے۔ سرکاری سرپرستی میں صوبائی حکومت نے پولیس کی مدد سے راتوں رات لوگوں میں پیسے تقسیم کیے۔ حالیہ دنوں میں تحریک لبیک کے ساتھ تنازعہ کی وجہ سے تحریک لبیک کے ووٹوں میں اضافہ ہوگیا۔ پچھلے سال جب تحریک لبیک کے ساتھ معاہدہ کیاگیا۔ جس کے رو سے فرانس کے سفیر کے نکالنے یا نہ نکالنے سے متعلق فیصلہ قومی اسمبلی کریں گی۔ تو اس بل کو بروقت کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ اس حلقے میں 60 فیصد بریلوی مسلک کے ووٹ موجود ہیں۔ انتخابات کے دن یہ افواہ پھیلائی گئی کہ تحریک لبیک کا امیدوار مسلم لیگی امیدوار کے حق میں دستبردار ہوگیا۔ اس پروپیگنڈا کی وجہ سے بریلوی مسلک کا زیادہ ووٹ مسلم لیگ ن کو پڑا۔ ملکی سطح پر مہنگائی کا مسئلہ بھی ایک اہم نکتہ ہے۔ کیونکہ مہنگائی کنٹرول نہیں ہورہی ہے۔ اس حلقے میں 70 فیصد آبادی ورکنگ کلاس ہیں۔ جو مہنگائی سے متاثر ہیں۔ الیکشن کمیشن کو کئی بار الیکشن کے ملتوی ہونے سے متعلق گزارشت کی گئی۔ مگر کورونا اور گرمی کی باجود الیکشن کو ملتوی نہیں کیا گیا۔یہ وہ اہم وجوہات ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کے مطابق 17500 پرچیاں ان کے کیمپوں سے ووٹرز کو ایشو کئی گئی تھی۔ جوکہ پارٹی کے پکے ووٹرز تھے۔ دوسری طرف 2 بجے کے قریب فارم 45 پر دستخط کرنا الیکشن کے دھاندلی زدہ ہونے کے لئے کافی ہے۔
 جن کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف نے این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں کم ووٹ حاصل کیے ۔ ضرورت اس امر کی ہے۔ کہ پاکستان تحریک انصاف فوری طور پر پارٹی کی مضبوطی کے لیے انٹرا پارٹی انتخابات کروائے۔ پارٹی کو حقیقی معنوں میں ادارہ بنائے۔ جن سرمایہ داروں اور ورکروں نے این اے 249 میں امجد آفریدی کے خلاف کمپین چلائی ان کو سخت سے سخت کھڑی سزا دی جائے۔ الیکشن کمیشن کو ازسرنو تشکیل دے۔ایم این ایز اور ایم پی ایز حلقوں پر زیادہ توجہ دے۔ الیکشن ریفارمز وقت کی ضرورت ہے۔الیکٹرونک وٹنگ مشین کو  تجرباتی بنیادوں پر کشمیر الیکشن میں استعمال کیا جائے۔ مہنگائی کنٹرول کے حوالے سے بولڈ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ ان اقدامات سے پاکستان تحریک انصاف کا امیج بہتر ہوگا۔