سر آئی ایم فرام کشمیر - انصاف بلاگ | Pakistan Tehreek-e-Insaf
I'm from Kashmir - Insaf Blog

 

"سر آئی ایم فرام کشمیر" 

آج ایک ہوٹل کے جنرل مینجر سے ملاقات تھی۔
ملاقات کے بعد کافی لانے والے لڑکے نے مجھے انتہائی احترام سے پوچھا، 

"سر آر یو فرام پاکستان؟" 

"یس"
 میں نے جلدی میں جواب دیکر کر اپنا لیپ ٹاپ سمیٹا اور تیزی سے میٹنگ روم سے باہر نکلا۔
پیچھے سے آواز آئی۔

"سر آئی ایم فرام کشمیر" 

دماغ میں بجلی سی کوندی، میرے قدم رک سے گئے وقت ٹھہر سا گیا فورا مڑ کر اردو میں پوچھا، 
"کونسا کشمیر ہماری طرف والا یا بھارتی قبضے والا؟" 

"مقبوضہ کشمیر سر" 

میں قریب پڑے صوفے پر بیٹھ گیا اور اس نوجوان کو بھی اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ 

اس بچے کی پینتالیس دن کے بعد اپنے گھر والوں سے بات ہوئی ہے۔ وہ عمران خان کو دعائیں دیتا نہیں تھک رہا تھا جس نے اس قدر خوبصورتی سے پوری دنیا میں کشمیر کا مسئلہ یوں اجاگر کیا اور کشمیر کا مقدمہ لڑا کہ بھارت سمیت پاکستان کے اندرونی و بیرونی دشمن ششدر رہ گئے۔

میں نے اسکو سمجھایا کہ بھارت خان کی کل والی پریس کانفرنس کے بعد مجبور ہوگیا تھا اس پر دنیا کا بے تحاشہ پریشر تھا۔ اپنی face saving کیلئے اسکو مقبوضہ کشمیر کا رابطہ پوری دنیا سے بحال کرنا پڑا۔  (موبائل سروس اور انٹرنیٹ ابھی بھی بند ہے) 

بقول اس نوجوان کے یہ پینتالیس دن اسکی زندگی کے کربناک ترین دن تھے، جس میں وہ ساری ساری راتیں جاگ کر اپنے گھر والوں کی زندگی کیلئے دعا کرتا رہا۔ 

چمکدار بوٹ پہنے، نیلی پینٹ اور سفید شرٹ، میرون رنگ کا خوبصورت ایپرین اس نوجوان کی آنکھوں میں امید کی چمک تھی اور بھارت سے شدید نفرت۔ 

اسکی یہ حالت دیکھ کر مجھے خان کا کل والا جملہ بہت یاد آیا، "آپ لوگ کیا سمجھتے جب کشمیر سے کرفیو اٹھا لیا گیا تو کیا صورتحال نارمل ہوجائے گی، کشمیری جوان اب شدید غصے میں ہیں، یہ سب اقدام کرکے بھارت نے سنگین غلطی کی ہے اور اسکے نتائج آنیوالے وقت میں سب پر واضح ہونگے۔"  

وہ نوجوان میرا بیگ پکڑ کر مجھے گاڑی تک چھوڑنے آیا،  میں نے اسکو ٹپ دی جو اس نے لینے سے انکار کردیا میں نے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا۔
 وہ کہنے لگا، "سر آپ لوگ کشمیریوں کیلئے اتنا کررہے ہیں، ہمارا بھی حق بنتا ہے کہ آپ ہمیں خدمت کا موقعہ دیں۔"

 اب میں اس بائیس تیئس سالہ بچےکو کیا بتاتا کہ وطن عزیز کے چند باعاقبت اندیش مُلا و دیسی لبرل اس وقت بھی پوری قوت سے بغض عمرانی میں ریاست اور فوج مخالف بکواسیات کررہے ہیں۔

اس نے جو عزت و احترام آج مجھے بطور پاکستانی دیا وہ صرف اور صرف میرے وزیراعظم کی وجہ سے مجھے ملا۔ 

اللہ تعالی خان کی حفاظت فرمائےاور اسکو کامیاب کرے۔ 
کیونکہ وہ ہمارے لیئے کھڑا ہے اور ہم اسکے شانہ بشانہ ہیں۔