محکمہ صحت ایک سال اور اس سے آگے | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Aik Saal - Dr Yasmin Rashid

پہلے سال کا سفر کٹھن تھا۔ بات صرف الجھی ہوئی انتظامی گتھیوں  کے سلجھانے تک محدود ہوتی تو اب تک منزل کے قریب ہوتے۔ 
مگر یہ ِ رفو گری کا سفر تھا۔قطار اندر قطار، انتظامی، مالی، تکنیکی اور سیاسی الجھنوں کا  ایسا لا متناہی سلسہ جس کا احاطہ ایک کالم میں نہیں ہو سکتا۔ 
پہلا راستہ جو ہمیں بار بار بتایا گیاکہ وہی کچھ کیا جائے جو ٹی وی یا اخبارات میں خبروں کی زینت بن سکے۔عوامی توجہ حاصل کر سکے۔  پراجیکٹس کی افتتاحی تختیاں لگاکر آگے چلے جانا شائد ایک سیاسی روایت بن گئی ہے۔ لیکن ایک دوسرا راستہ ہے جو کہ حکومت کا اصل کام ہے۔ وہ ہے پائیدار اصلاحات اور ایک پائیدار نظام کا قیام، وسائل کا درست استعمال اور حقیقی معنوں میں عوام کو ان کے ثمرا ت پہنچانا۔ چنانچہ خبریت سے عاری دوسرے مشکل مگر درست راستے کا انتخاب کیا گیا۔ تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی، نظام کی خامیوں پر تحقیق کی گئی اور نظام کی حقیقی درستگی پر کام شروع کیا گیا۔ 
چونکہ تمام عمر اسی دشت کی سیاحی میں گزری ہے اس لئے صحت عامہ کے مسائل اور ان کے حل پر تحقیق زندگی کا حاصل ٹھہرا۔ جب ممکن ہوا حالات کی بہتر ی کے لیے تگ ودو بھی کی۔ ساتھ اس بات کا ہمہ وقت احساس کہ آنے والی نسلوں کے لیے کچھ کر گزرنے کا موقعہ تاریخ میں بہت کم لوگوں کو ملتاہے۔ایک طرف میڈیکل کمیو نٹی اور عام آدمی کی توقعات کا انبا ر ہے دوسری طرف مسائل کا ایک انبوہ ہے۔ دونوں سے عہدہ برآ ہونا ہے اور وسائل او ر وقت دونوں کم۔ تاہم  امید، عزم اور خواب وہیں ہیں،  منزل یہ ہے کہ صحت کی معیاری سہولیات امیر غریب ہر ایک کو میسر ہوں، علاج، تعلیم اور ریسرچ کے مثالی ادارے قائم ہوں۔اور سب سے بڑھ کر اپنے آپ سے کئے گئے اس وعدے کی تکمیل کہ مجھے عوام، ضمیر اور تاریخ کی عدالت میں ہر حال میں سرخرو ہونا ہے۔
صحت عامہ کے سارے نظام میں ریڑھ کی ہڈی افرادی قوت ہے۔حکومت کی پہلی ذمہ داری علاج کویقینی بنانا ہے او ر علاج کی پہلی شرط ڈاکٹرز کی دستیابی ہے۔ حکومت ملنے کے بعد اعدادوشمار کے تفصیلی جائزے سے معلوم ہوا کہ پچاس فی صد سے زائد ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی اسامیاں تو خالی ہیں۔ جب ڈاکٹر ہی میسر نہیں تو علاج کیسے ملے گا۔  اگر کبھی بھرتیوں کا عمل جزوی طور پر شروع ہوا بھی تو وہ سرخ فیتہ اور ادارہ جاتی سست روی کا شکار ہو گیا۔محکمانہ سطح پر میٹنگز کے علاوہ پنجاب پبلک سروس کمیشن سے رابطہ کر کے رکی ہوئی بھرتیوں کے سلسلے کو جاری کرنے کے علاوہ نئی اسامیوں کی بھرتیوں کو مشتہر کرکے اس عمل کو تیز کیا گیا۔صرف ایک سال میں محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر اور محکمہ سپیشلائیزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں ہم 14903 نئے ڈاکٹرز کی بھرتیاں کر کے ان کو سسٹم میں لے کے آئے ہیں۔ صرف محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرمیں ڈاکٹرز کی دس ہزار کے قریب اسامیاں خالی  پڑی ہوئی تھیں۔ محض ڈاکٹرز ہی نہیں  3543  نرسز کی پوزیشنز  پر بھرتیاں مکمل کرنے کے علاوہ  7400   بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔  اس کے علاوہ  3537  پیرا  میڈیکل سٹاف کی بھرتیوں مکمل ہونے کے کے قریب اور مزید  1400 بھرتیوں کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔ اسی طرح  442 فارماسسٹس کی بھرتیاں بھی کی گئی ہیں۔ افرادی قوت کے پورا ہونے کے بعد سروس ڈیلیوری میں واضح بہتری نظر آئیگی۔ 

بنیادی اور دیہی مراکز صحت میں ڈاکٹرز کے نہ ہونے کی وجہ سے بڑے ہسپتالوں میں ضرورت سے زیادہ رش اور پھر رش کی وجہ سے سروس کوالٹی بری طرح متاثر ہوتی ہے  اس لیے ان مراکز صحت پر ڈاکٹرز کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ پنجاب بھر کے 2503  بنیادی مراکز صحت میں سے 93% سنٹرز پر نئے ڈاکٹرز کی دستیابی کوممکن بنایا گیا ہے۔صرف پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ میں کنسلٹنٹس کی 2200  اسامیوں پر بھرتیاں کی گئی ہیں۔ اکثر ہسپتالوں میں مشینری اور دیگر سہولیات کی دستیابی کے باوجود محض بے ہوشی کے ماہرین ((Anasthetists  کے نہ ہونے کی وجہ سے سرجریز بند تھیں ان ہسپتالوں میں فوری طور پرٹریننگ پروگرام، نئی بھرتیاں اور روٹیشن کے تحت ان ماہرین کا بندوبست کیا گیا۔ امید ہے کے اس سال تک آخر تک ہم ڈاکٹرز کی تمام خالی اسامیوں پر بھرتی کرنے میں کامیاب ہونگے۔  علاج کی سہولیات پر صرف اس ایک قدم سے بہت مثبت اثر ہو گا۔ ایک اور اہم مسئلہ ڈاکٹرز کی ترقی کا تھا  جو محض سرخ فیتہ و داخل دفتر ہونے کی وجہ سے سالوں سے وہیں پڑی تھیں اور سٹاف میں بد دلی کا باعث بن رہی تھیں۔ اس عمل کو تیز کیا گیا اور صرف 2019  میں اب تک صرف ڈاکٹرز کی  1673     ترقیاں کی گئیں۔
صحت عامہ کے تمام اصولوں اوراقوام متحدہ کے ایس ڈی جیز میں ماں اور بچے کی صحت بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔  وزارت کا قلمدان سنبھالنے پر اس بات کا تکلیف دہ ادراک ہوا کہ ہم زچہ بچہ صحت کے  ایس ڈی جیز کے ٹارگٹس حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔اس ناکامی پر  ہمیں بادل نخواستہ ٹارگٹس نظر ثانی کرنے کی درخواست کرنا پڑی۔ ماں اور بچے کی صحت شاید وہ موضوع تھا جس میں محنت زیادہ اور ذاتی تشہیر کے پہلو کم تھے۔ ماں اور بچے کی صحت سے صرفِ نظر کر کے کو ئی قوم کیسے ترقی کر سکتی ہے۔ قوم کی تعمیرو ترقی کے سب سے اہم مرحلے کو اس طرح نظر انداز کرنا نا قابل یقین ہے۔  
صورتحال کی سنگینی کی پیش نظر پنجاب میں زچہ بچہ صحت کے پانچ نئے ہسپتالوں پر فوری کام شروع کیا گیا۔  ان میں میانوالی، اٹک، راجن پور، لیہ اور بہاول نگر میں زچہ بچہ صحت کے ہسپتال شامل ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کی جنوبی پنجاب میں زچہ بچہ صحت کے اعشاریوں کے بہتر نہ ہونے کے سبب وہاں خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ گنگا رام ہسپتال لاہور میں بہترین ماہرین اور جدید ترین سہولیات سے مزین 400  بستروں پر مشتمل سپیشل زچہ و بچہ کواٹرنری ہسپتال کا منصوبہ بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ بچوں کے لیے بہترین علاج اورجدید ریسرچ کے لیے چلڈرن ہسپتال میں لاہور میں چائلڈ ہیلتھ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے 
یہاں سکول ہیلتھ اینڈ نیو ٹریشن پروگرام کا ذکر کرنا بہت مناسب ہو گا۔ اس پر وگرام کے تحت پنجاب کے 9 اضلاع میں پائلٹ کے طور پر شروع کئے گئے پراجیکٹ ابھی تک 7442 بچوں کا طبی معائنہ کیا گیا ہے۔  اس سال کے آخر تک اس کا دائرہ کار تمام پنجاب تک پھیلا دیا جائیگا۔ میں بچوں کا طبی و غذائی معائنہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اس پراجیکٹ کا رسمی افتتاح بہت جلد کر دیا جائیگا۔ 
 جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ حکومت کی خصوصی توجہ بنیادی مراکز صحت کی بہتری پر ہے۔وزیر اعظم ہیلتھ اینیشیٹوکے تحت آٹھ اضلاع اٹک، چنیوٹ، ڈی جی خان، میانوالی، جھنگ، قصور، لودھراں اور راجن پور میں مخصوص بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت کی تعمیر نو اور تزئین نو کی جا رہی ہے۔ 35 دیہی مراکز صحت میں بچوں کی نرسریز کا قیام اور ایمر جنسی بلاکس کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ 
اسی طرح 300  سے زائدبنیادی مراکز صحت کو 24/7 کے مراکز میں شامل کرنا، 8 نئے وئیر ہاوسز کا قیام او  16اربن  ہیلتھ سنٹرز کااپ گریڈ کرنا بھی گزشتہ ایک سال کے قلیل عرصہ میں ممکن بنایا گیا۔موازنہ کی غر ض سے یہ ذکر کرنا مناسب ہو گا کہ گزشتہ دس سال میں ایک ہزارسے بھی کم بنیادی مراکزصحت کو 24/7 کے مراکزبنایا گیا جو کہ ایک سال میں 100کی اوسط بنتی ہے۔ ایک سال میں 300 سے زائد مراکز کو 24/7 میں تبدیل کرنے کے بعد ر یہ سفر تیزی سے جاری ہے۔24/7  بنیادی مراکز صحت میں زچہ و بچہ کی اضافی سہولیات  دستیاب ہو تی ہیں۔
 بڑے شہروں میں ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو کی سطح کے ہسپتالوں میں سہولیات کو بہتر بنایا جائے۔ صوبہ بھر میں اس وقت 40 ہسپتالوں کی ری ویمپنگ پر کام جا ری ہے جن میں 25 ڈی ایچ کیو اور 15ٹی ایچ کیو شامل ہیں۔  گزشتہ حکومت نے افتتاحی تختیاں لگانے اور ہسپتالوں کے انفرا سٹرکچر کو ادھیڑنے کے بعد اس پراجیکٹ کو نا مکمل چھوڑ دیا تھا، کہیں 20  فی صد تو کہیں  40 فی صدکام کے بعدہی کام بند کر دیا۔فنڈزکی فراہمی میں رکاوٹوں کو دور کرنے بعد اس پرتیزی سے کام شروع کیا گیا ہے۔
اب کچھ ذکر ہو جائے پنجاب میں بڑے ہسپتالوں کا۔ انفرا سٹرکچر کے حوالے سے  پنجاب میں 9  بڑے ہسپتالوں پر کام کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان  میں نشتر۔2  ملتان،  چلڈرن ہسپتال بہاولنگر، ڈی جی خان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، بہاولپور برن سنٹرکے علاوہ مزید12 ہسپتالوں میں ایمر جنسی کی بہتری، جناح ہسپتال میں سرجیکل ٹاور کی تعمیر،  ڈی جی خان میں نئے بلاکس کی تعمیر کے علاوہ میڈیکل کالج کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے۔ ہسپتالوں میں مہمان خانہ جات تعمیر کیے گئے ہیں جو مریضوں کے لواحقین کو رہائشی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کو بغیر قانونی اور ادارہ جا تی ہوم ورک کے شروع کیا گیا۔17  ارب روپے کی خطیر رقم ایک نجی تنظیم کو کسی ضابطے کے بغیرادا کی گئی۔ اس ادارے کو پی کے ایل آئی ایکٹ کے ذریعے قانون اور ضابطے کے تحت لایا گیا ہے۔ اس پر تفصیل سے بعد میں لکھا جائیگا۔
صحت عامہ کی سہولیات کی تمام آبادی تک رسا ئی کے لیے صحت انصاف کارڈز ایک بہت بڑا پراجیکٹ ہے۔ تنگ دستی اور بیروزگاری سے ستائے کم آمدنی والے گھرانوں کی صحت کی مجبوریوں کا خیال حکومت کی بنیادی ذمہ داری تھی جسے نظر انداز کیا گیا۔اب علاج کی رقم کے لیے  ایک عام آدمی کوکسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا۔ ابتدائی طور پر یہ کارڈکم آمدنی والے گھرانوں کو دیا جا رہا ہے تاہم مستقبل میں اس کا دائرہ کار بڑھا دیا جائیگا۔ گزشتہ ایک سال میں صوبہ بھر کے 28 اضلاع میں تیس لاکھ گھرانوں میں یہ کارڈز تقسیم کیے گئے ہیں جلد ہی صوبہ کے تمام اضلاع میں اس کا دائرہ کارپھیلا دیا جائیگا۔ اس کارڈ کے تحت ایک گھرانہ 720,00تک مختلف سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات سے استفادہ کر سکتا ہے۔ رقم کی لمٹ ہونے کی صورت میں اس میں اضافے کی سہولیات کی درخواست بھی دی جا سکتی ہے۔ یہ سکیم گزشتہ حکومت نے خیبر پختون خواہ کے ماڈل کو دیکھ کر عجلت میں کو ئی دو سال پہلے شروع کی اور جن چند اضلاع میں شروع بھی کی وہاں ہسپتالوں کو پینل میں نہ لانے اور انشورنس کمپنی کو  عدم ادائیگی کی وجہ سے سروسز کی فراہمی تعطل کا شکار تھی۔کارڈ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کے رہ گیا تھا۔ گزشتہ ایک سال میں ہم نئے ہسپتالوں کو پینل میں لانے کے علاوہ انشورنس کمپنی کو ادائیگیاں کر کے اس سکیم کو پورے پنجاب تک پھیلانے کی کوششوں کا آغاز کیا اور اب ہم پنجاب 36 اضلاع مکمل کرنے کے قریب ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایس ڈی جیز کو مد نظر رکھتے ہو ئے حکومت نے پنجاب ہیلتھ سیکٹر سٹر یٹیجی  2019-2028 کو متعارف کروایا۔ یہ ایک اہم سنگ میل ہے کیونکہ اس میں اگلی دہائی کے لیے صوبہ بھر میں صحت کے حوالے سے تمام اہداف کا  تعین کیا گیا ہے۔ پنجاب ملک بھر میں ایک جامع سٹریٹیجی متعارف کرنے والا پہلا صوبہ ہے۔ اس میں اہداف کا سائینسی بنیادوں پر تعین کر کے حکومتی راستہ متعین کیا گیا ہے۔ ۔ اس سٹریٹیجی میں ماں اور بچے کی صحت، خوراک، بہبود آبادی، ہیلتھ گورننس اور مانیٹرینگ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، افرادی قوت، ادویات اور جدید ٹیکنالوجی، ایم ائی ایس، بیماریوں سے بچاؤ، مریض کی حفاظت اور دیکھ بھال، ہیلتھ ایمرجنسیز اور ون ہیلتھ کے موضوعات پر اگلے دس سالوں کا روڈ میپ دیا گیا ہے۔ فیملی پلاننگ کی بہتر سہولیات حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے اور اگلی دہائی میں ہماری ترقی کافی حد تک اسی سے جڑی ہو ئی ہے۔ اس سٹریٹیجی میں خاص طور پر فیملی پلاننگ کے موضوع پرتفصیل سے کام کیا گیا ہے۔ 
پالیسی سازی کے حوالے سے حکومت نے پہلے سے موجود  قوانین کا تکنیکی جائزہ لیا ہے اور سروس ڈیلیوری میں رکاوٹ بننے والے  معاملات میں انتظامی اصلاحات متعارف کروانے کی کوشش کی ہے۔ نئے متعارف ہونے والے قوانین میں  ایم ٹی آئی اور پی کے ایل آئی ایکٹ ہیں جبکہ تکنیکی اور دیگر مراحل میں زیر غور دیگر  قوانین میں تھیلیسیمیا اینڈجنیٹک ڈس آرڈر ایکٹ، ڈاکٹرز پروٹیکشن بل،، ڈرگز ایکٹ، پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن ایکٹ، چلڈرن یونیورسٹی ایکٹ،پنجاب مینٹل ہیلتھ اتھارٹی ایکٹ اور پنجاب ہیومن ٓرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی ایکٹ شامل ہیں۔
ہم اپنی پالیسیاں اقوام متحدہ کے ایس ڈی جیز کے مطابق بنا رہے ہیں۔ اور انشا اللہ محنت سے اپنی منزل پا لیں گے۔
معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی تحریک انصاف کی حکومت کا مشن ہے اور جلد شعبہ صحت میں انقلابی تبدیلی نظرآئے گی۔