پی ٹی ایم، مریم بلاول،موب جسٹس، اور طاقت کا استعمال | Pakistan Tehreek-e-Insaf
ptm-bilawal-maryam-insaf-blog.2.jpg

 


کسی بھی پاکستانی کی اس پر دو رائے نہیں کہ کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے نام پر جو تحریک شروع ہوئی تھی اس کے مطالبات بالکل جائز تھے۔ قبائلی علاقوں اور پختونخواہ دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ یہ سب کچھ ہماری ہی “تزویراتی“ پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔ پھر اس کے بعد دوبارہ ڈالر لے کر انہیں “مجاہدین“ کو مارا گیا جنہیں اپنے ہاتھوں سے بنایا اور تربیت دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں کی تعداد میں عام پختون بھی متاثر ہوئے جن کا نا آرمی سے، نا “مجاہدین“ سے اور نا ہی بعد کے دہشگردوں سے کوئی لینا دینا تھا۔ چنانچہ جب پشتون تحفظ موومنٹ شروع ہوئی تو اس میں متاثرہ لوگوں کی شمولیت نا گزیر تھی۔ کوئی شخص جس کا گھر بار ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے تباہ ہوگیا ہو یا جس کے گھر میں لاشیں آئی ہوں آپ کبھی بھی اس کو حُب الوطنی اور وطن پرستی کا سبق نہیں پڑھا سکتے۔

ہونا یہ چاہیے تھا کہ جیسے ہی یہ تحریک شروع ہوئی تھی تو ان لوگوں کو انگیج کیا جاتا۔ ان کے مسائل سنے جاتے اور ان کے حل کے لیے کوئی عملی اقدامات جنگی بنیادوں پر اٹھائے جاتے۔ لیکن ہمیشہ کی طرح ریاست نے دیر کی اور یہ لوگ مضبوط ہوتے گئے۔ پھر جب آپ اندر سے کمزور ہوتے ہیں تو باہر کے لوگ آپ کی کمزوریوں کو استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ جب ریاست نے ان لوگوں کی نا سنی تو پاکستان دشمن بیرونی طاقتوں نے اس تحریک کو ہائی جیک کرلیا۔ اب جس طرح کسی بھی پاکستانی کو ان کے مطالبات کے جینوئن ہونے میں کوئی شک نہیں تھا اسی طرح اس تحریک کے ملک دشمن لوگوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ اب وہ سب لوگ اس تحریک کو لیڈ کررہے ہیں جن میں زیادہ تر بیرونِ ممالک بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کا پشتونوں کے تحفظ یا ان کے حقوق سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ یہ سب لوگ این جی او زدہ ہیں، ان کو فنڈز ملتے ہیں اور اس پر یہ لوگ بیرون ملک بھی بیروزگاروں کو دیہاڑی دے کر پاکستان اور آرمی کے خلاف مظاہرے کرواتے ہیں اور ملک کے اندر بھی ان کی یہی سرگرمیاں ہیں۔

اس تحریک کے لیے جو خواتین کام کررہی ہیں وہ اپنا مشن یہ بتاتی ہیں کہ وہ پختونخواہ کی خواتین کی چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لیے کام کررہی جبکہ ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ چادر تو دور کی بات اپنا تن بھی شاید معاشرتی مجبوریوں کے باعث ڈھانپا ہوا ہے۔ پھر اس تحریک کو سپورٹ کرنے والی تنظیموں، میڈیا ہاوسسز، صحافیوں اور دیگر لوگوں کو دیکھ لیں تو ان میں ایک چیز کامن نظر آتی ہے اور وہ ہے بغضِ فوج۔ یہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ ہماری زیادہ تر تباہی اور بربادی کے پیچھے ہمارے ہی کچھ اداروں کے کچھ افراد کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ پورے ادارے کو ہی خراب کہیں یا اس کو کمزور کرنے کے لیے ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگیں۔ 

صرف اپنی سیاست کے لیے ملک دشمنوں کے ہاتھوں کھیلنے والے ان چند لوگوں کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر بولنے والے سیاستدانوں کو بھی دیکھ لینا چاہیے کہ جن ممالک کی فوجیں کمزور تھی وہاں اب کیا حالات ہیں۔ میں یہاں بلاول اور مریم کا ذکر کررہا ہوں جو صرف اپنی کرپشن اور سیاست بچانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو اپنی فوج کے خلاف اُکسا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چلوا رہے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کے جن بھی ممالک کی فوج کمزور تھی وہاں خانہ جنگی ہوئی اور اس کے بعد “موب جسٹس“  Mob Justice ہوا۔ پاکستان کا قانون اور عدالتیں تو آپ پر ہاتھ نہیں ڈال سکتیں لیکن اگر ملک اور ہماری فوج اس حد تک کمزور ہوئی جو آپ کی خواہش ہے تو پھر ہمارے ملک میں بھی وہی کچھ ہوگا جو عراق، لیبیا، مصر، الجزائر، افغانستان وغیرہ میں ہوا۔ آپ کو صدام حسین کو یاد رکھنا چاہیے جس کے عراق میں ستر سے زائد عالی شان محلات تھے لیکن آخر میں اسے ایک پائب لائن میں چھپنا پڑا اور پھر بھی نا بچ سکا۔ اس طرح کرنل قذافی کو بھی مت بھولیں جس کی دولت اور خزانے کے ذخائر اب بھی دریافت ہورہے ہیں لیکن خانہ جنگی کے دوران لوگوں نے اسے گلیوں میں گھسیٹ گھسیٹ کر قتل کیا۔ 

اب اگر اس مسئلہ کے حل کی بات کریں وہ قطعا طاقت کا استعمال نہیں ہے۔ یہ صرف چند سو لوگ ہیں لیکن اگر آپ ان سے طاقت سے نمٹیں گے تو ان کے ہزاروں ہمدرد پیدا ہوجائیں گے۔ ریاست کو ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ریاست کو ان عام پختونوں تک پہنچنے ان سے بات کرنے اور انے کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے جن کو یہ لوگ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ تمام پختون ان کے ہمدرد نہیں۔ پختونوں کے پاکستان کے ہر شہر میں سٹیکس ہیں، بزنسز ہیں گھر ہیں لہذٰا وہ کبھی بھی کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے جو ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کا باعث ہو۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کسی بھی صورت میں طاقت کا استعمال کرنے کی بجائے متاثرہ پختونوں کی داد رسی کرکے ان لوگوں کے ارادوں کو ناکام کردیا جائے۔