ہم ہیں پاسبان - انصاف بلاگ | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Pasban-Insaf-Blog

اسلامی جمہوریہ پاکستان  دہائیوں سے بادشاہت کے نظام تلے دبی دبی سانسیں لیتا رہا ۔ جمہوریہ پاکستان ؟؟؟ لفظ "جمہوریت " حال کی طرح ماضی میں بھی صرف فسادات برپا کرنے کیلئے ، کالے دھن کو چھپانے اور تخت نشینی کیلئے استعمال ہوتا رہا ۔ لفظ جمہوریت کا راگ الاپنے والی قوتوں نے اس کے معنی بدل دئیے ۔ یہ لفظ قاتلوں ، چوروں غرض کہ ہر طرح کے مافیا کیلئے بطورِ ڈھال استعمال ہونے لگا  ۔
پاکستان کی راج نیتی میں تخت شاہی کی جنگ صرف دو گھرانوں میں چھڑتی رہی ۔ تختِ شاہی ان دونوں گھرانوں میں سے ایک کے قبضے میں ہوتا تو کبھی دوسرے کے ۔ پاکستان کو ان لوگوں نے اپنی وراثتی جائیداد سمجھ رکھا تھا جو نسل در نسل منتقل ہونے کی خواہش مند تھی ۔ باپ کے بعد بیٹی ، بیٹی کے بعد بیٹی کا شوہر اور پھر نواسہ تو کبھی باپ کے بعد باپ کا بھائی ، بیٹی اور بھتیجا ۔
یہ شجرہ بادشاہت جوں کا توں ہی آگے بڑھتا رہتا اگر ایک شخص اس گھاگ مافیا کے سامنے آ کر انہیں للکارتا نہ تو یہ یوں ہی وطنِ عزیز کی بندر بانٹ کرتے رہتے ۔
اس شخص نے بائیس سال کی انتھک محنت اور ثابت قدمی سے ان موروثی آقاؤں کا تخت چھین کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔ لیکن تخت کے لالچ نے ان آقاؤں کی اولادوں کو سکون نہ لینے دیا ۔ دونوں گھرانوں کے چشم و چراغ نے اپنے خاندانی وطیرہ بلیک میلنگ کو بروئے کار لاتے ہوئے ریاست کو کمزور کرنے کی ٹھان لی، کبھی اداروں پر جملے کسے جاتے ہیں تو کبھی قومی سلامتی کو رسک پر رکھا جاتا ہے ۔ ان کے لالچ نے ملک میں عدم استحکام کو جنم دے دیا ہے
 ۔
اس شخص نے پاکستانی قوم پر سب سے بڑا احسان اس سوئی ہوئی قوم کو جگا  کر کیا ۔ ہم خوابِ غفلت کا مزہ لے رہے تھے اس شخص نے ہماری آنکھیں کھول دیں ۔ پاکستان کی گونگی عوام کو زبانیں دی ۔ ہمیں ہمارے حقوق سے آشنا کیا ۔
 لیکن یہ مافیا ایک بات کو یکسر بھلائے ہوئے کے اس شخص نے صرف ان سے ان کا تخت ہی نہیں چھینا بلکہ اس قوم کو غلامی کی ان دیکھی زنجیروں سے آذادی دلائی ہے ۔ ہماری قومی عزت ، وقار اور غیرت کو جگا دیا ہے ۔ اور  شعور کی اس دولت سے بڑا ہتھیار اس مافیا کے خاتمے کیلئے اور کوئی نہیں ہو گا ۔
اب اس قوم کا بچہ بچہ اس تختِ شاہی کے نظام اور بادشاہوں کی بپھری ہوئی اولادوں کے مطالبات کو مسترد کرتا ہے ۔
شہنشاہِ سندھ آصف علی زرداری آج پابندِ سلاسل ہیں اور جب کوئی صحافی ان سے کسی بھی معاملے کے متعلق سوال کرتا ہے تو ہر سوال کے جواب میں وہ ایک ہی بات کہتے ہیں کہ مریم اور بلاول پاکستان کا مستقبل ہیں اور بلاول کو جیل ہوتی ہے تو بختاور اور آصیفہ پارٹی کا مستقبل ہوں گی ۔ عجیب بات ہے کہ پیپلزپارٹی میں زرداری صاحب کی اولاد سے ذیادہ کوئی قابل اور تجربہ کار نہیں ہے جو پیپلزپارٹی کا مستقبل بن سکے ۔ خیر پارٹی کی بات پیپلزپارٹی کے کارکنان کا ذاتی مسئلہ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں ۔
مریم اور بلاول پاکستان کا مستقبل ہیں ، یہ بیان اس قوم کے ساتھ گھٹیا اور گھناؤنا مذاق ہے ۔ شہنشاہ صاحب شاید اس حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں کہ اب یہ وہ قوم نہیں رہی جسے یہ بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا کرتے تھے ۔ یہ قوم بہت باشعور ہو چکی ہے اور اپنے حق کی جنگ لڑنا جانتی ہے ۔
پاکستانی قوم ان شہنشاہوں سے یہ سوال کرتی ہے کہ آیا مریم ، بلاول اور بختاور کی پروفائل میں ایسا کیا ہے جو یہ پاکستان کا مستقبل بننے کے اہل ہوں ماسوائے اس کے یہ ظلِ الہٰی کی اولاد ہیں ؟؟؟
مریم ، بلاول اور بختاور سے سو درجہ ذیادہ قابل ، ذہین اور تجربہ کار اس قوم کے بیشتر نوجوان ہیں تو یہ مریم ، بلاول اور بختاور وغیرہ کس کوٹے کے تحت پاکستان کا مستقبل ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں ؟ کیا ہم عوام نے انہیں یہ حق دیا ہے ؟
نہیں ہم پاکستان کی عوام ایسا کبھی نہیں کریں گے ، یہ وطن ہمارا ہے ، ہم آج کے نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں ۔ انشاءاللہ  ہم اپنے وطن کی پاسبانی خود کریں گے ۔
اس قوم کے نوجوانوں کی پروفائل آپ کے چشم و چراغ سے ذیادہ روشن اور قابل ہے ۔ الحمدللہ ہم وہ قوم بن چکے ہیں جو کسی بادشاہ کو اور موروثی سیاست کو اپنے سر پر مسلط نہیں ہونے دیں گے ۔ ہم پاکستانی قوم موروثی سیاست کو مسترد کرتے ہیں ۔
پاکستان کے مستقبل کی ڈور سنبھالنے کیلئے اب مڈل کلاس اور غریب کا بچہ آگے بڑھے گا ۔ قائداعظم اور ہمارے اسلاف نے اپنے جان و مال کی قربانی دے کر ہمیں آزادی اس لیے نہیں دلائی کے ہم ان چاہے دیوتاؤں کی غلامی کرتے رہیں ۔ اور 2018 میں کروڑوں لوگوں نے اس فرسودہ نظام کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا ہے اور اس کا سر دوبارہ سے کچلنے کیلئے بھی تیار ہیں ۔ 
پاکستان کوئی کھلونا نہیں ہے جسے دونوں گھرانوں کے بچوں کو بہلانے کیلئے بانٹ دیا جائے ۔ یہ وطن پاکستان کی عوام کا ہے اور ہم ہی اس کے پاسبان ہیں ۔