گلاس توڑے بارہ آنے - انصاف بلاگ | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Glass-Insaf-Blog

 


لو جی آل پارٹیز کانفرنس بھی ہو گئی اپوزیشن کی تمام پارٹیاں بھی اکٹھی ہو گئیں اور بجٹ بھی پاس ہو گیا۔مولانا کی ساری کوششیں پھیکی پڑ گئیں ناکام ہو گئیں ش کسی نے بھلا تبصرہ کیا کھودا پہاڑ نکلا چوہا لیکن کچھ مزید شامل کر دونں وہ بھی لنڈورہ۔جماعت اسلامی اور اختر مینگل شریک نہ ہوئے جماعت اسلامی کا یہ فیصلہ ایک اچھا فیصلہ ہے اللہ کرے سید مودودی کی جماعت سید ہی کے فلسفے پر چلے اگر اسی طرح چلتی رہی تو عزت سادات بحال ہو جائے گی ویسے بھی جتنی قربت اور پیار قاضی حسین احمد عمران خان سے تھا کسی دوسرے سے نہ تھا۔پنجاب یونیورسٹی کے واقعے کی تلخی دور کرنا ضروری ہے ویسے بھی عمران خان کی اٹھان میں ان کے ایک ٹیلینٹڈ کزن حفیظ اللہ نیازی کا بڑا ہاتھ تھا جو اس لئے ان سے دور ہو گئے کہ دوسرا نیازی مجھ سے کیوں آگے نکل گیا ہے۔مولانا فضل الرحمن کے ساتھ جو کچھ ہوا اچھا ہوا۔آئیے آپ کو 2008 لئے چلتے ہیں اے پی ڈی ایم بڑے زور و شور سے جنرل مشرف کے خلاف تحریک چلائے ہوئے تھی۔ایک اجلاس میاں محمد اسلم کی رہائیش گاہ پر جاری تھا۔کے پی کے جس کا نام سرحد تھا وہاں ایم ایم اے بر سر اقتتدار تھی۔اگر وہ اسمبلیوں سے استعفے دے دیتی تو جنرل مشرف کا اقتتدار ختم ہو سکتا تھا۔مرکزی حکومت جو قاف لیگ کی تھی وہ لپیٹی جا سکتی تھی۔اجلاس جاری تھا جس میں عمران خان قاضی حسین احمد رسول بخش پلیجو چودھری نثار علی خان شامل تھے میں بھی عمران خان کے ساتھ شریک تھا اس وقت شفقت محمود ایک دانشور کی حیثیت سے شریک تھے۔قاضی صاحب مکہ مکرمہ میں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ رابطے میں تھے اور یقین دہانی کرا رہے تھے کہ انہوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ ایم ایم اے اسمبلیوں سے استعفے دے گی۔لیکن کسی کو ان پر اعتبار نہ تھا اور ہوا بھی وہی مولانا فضل سب کو دھوکہ دے گئے اور مشرف سے مزید رعائتیں لے کر اے پی ڈی ایم کو دھوکہ دیا۔اس اجلاس میں جنرل حمید گل بھی شامل تھے۔
قارئین اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اگلے روز اسلام آباد کا شہر بھی وہی تھا کم و بیش ویسے ہی لوگ موجود تھے مولانا کی خواہشیں بھی ایسی ہی تھیں جیسی اس اجلاس کے شرکاء کی تھیں لیکن کسی کے استعفوں کی بات کی جانب ہلکی سی ہلچل نہیں ہونے دی۔اسے کہتے ہیں قدرت کے فیصلے جو حضرت اس قوم کے ساتھ کھیلتے رہے کبھی لال مسجد والے واقعے کی اوٹ میں مکے چھپ جانا اور کبھی استعفوں کے معاملے میں سعودی عرب چلے جانا۔آخر وہی کچھ ان کے ساتھ ہوا جو دوسروں کے ساتھ کرتے رہے۔
اس آل پارٹیز کانفرنس میں گلاس توڑے بارہ آنے کے علاوہ کچھ بھی نہ ہوا۔
نون لیگ کے میاں شہباز شریف کو علم تھا اور پیپلز پارٹی بھی جانتی تھی کہ اراکین سے استعفے لینا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ویسے بھی سارے لوگ پارٹیوں کے نشانات پر نہیں جیتتے بہت سوں کا اپنا حلقہ انتحاب ہوتا ہے۔کیا الیکشن میں بار بار جانا آسان حل ہے؟سوچئے بھی نہیں۔ایک بار معروف انڈین صحافی نے بھارتی لیڈر یادو سے پوچھا آپ استعفی کیوں نہیں دے دیتے تو انہوں نے بڑا ٹکاسہ جواب دیا کہ صحافی صاحب ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر استعفے کی بات کرنا آسان ہے کبھی میلوں پیدل چل چل کے دو چار ووٹوں کے لئے نکلنا ہوا ہوتا تو یہ بات نہ کرتے۔اور بات بھی صیح ہے یہ کوئی عمران خان نہیں ہے کہ فون پر استعفی مانگ لئے تو اراکین نے دے دئے جنہوں نے نہیں دئے وہ اسمبلیوں سے باہر بیٹھے ہونقوں کی طرح اپنے ساتھیوں کو دیکھ رہے ہیں۔
اس کانفرنس میں البتہ مریم نواز اور بلاول کی مفاہمت کچھ زیادہ ہی نظر آئے۔آج کل سوشل میڈیا میں ایک مولانا اور بھی دکھائی دئے جو سیلفیاں لے رہے ہیں یہ صاحب گرچہ جمیعت العلمائے اسلام اسلام آباد راولپنڈی کے امیر ہیں اور نام ہے ان کا عبدالمجید ہزاروی موصوف کے والد گرامی مولانا عبدالحکیم مانسہروی تھے جو گجر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور ستر کی اسمبلی میں پی پی پی کے ٹکٹ سے اسمبلی میں پہنچے تھے۔ان کے خون میں پیپلز پارٹی شامل ہے اور اسی لئے وہ بلاول پر صدقے واری نظر آتے ہیں۔پیارے بھائی اور دوست ہیں ان کو مدت پہلے پی ٹی آئی میں شرکت کی دعوت دی تھی انہیں پی ٹی آئی کی کے پی کے میں اسلامی محاذ پر اقدامات بہت پسند تھے یکم محرم کی چھٹی قرانی تعلیمات ھفظ اور نظرہ کے اسباق کی نصاب میں شمولیت۔لیکن بعض اوقات انسان کو مجبوریاں مار دیتی ہیں اور وہ غلط جگہ پر ڈٹا رہتا ہے۔ہمارا کام تبلیغ ہے ہم آج بھی کہیں گے مولانا سچ ادھر ہے چھوڑو سلفیوں کو ہمارا علماء ونگ آپ کا منتظر ہے کہاں وقت ضائع کر رہے ہیں۔
میں جماعت اسلامی کا بھی شکر گزار ہوں کے جس نے برسوں بعد درست فیصلہ کیا۔میری یہ عادت ہے میں اپنے دوستوں سے رابطے میں رہتا ہوں فرید پراچہ کا بھی شکریہ۔
اس اے پی سی سے جو نتیجہ نکلا اس سے ثابت ہوا یہ لوگ ابھی منتشر ہیں انہیں علم ہے کہ ان کے پاس نہ تو سٹریٹ پاور ہے اور نہ ہی وہ عمران خان کے خلاف مہنگائی کا چورن بیچ سکتے ہیں بیس اراکین نے اپوزیشن کا ستھ چھوڑ دیا ہے بجٹ پاس ہو گیا ہے کسی کٹوتی کی تحریک کو کامیابی نہیں ملی۔یقین کیجئے اگر عمران خان کی نیت پر لوگوں کو شک ہوتا تو جو مہنگائی کا طوفان بد تمیزی آیا ہوا ہے اور جو ڈالر میاں روپے کے ساتھ کر رہے ہیں حکومت کبھی کی الٹ دی جاتی لیکن اس ملک کے لوگ اتنے بھی سادہ نہیں انہیں علم ہے ہماری اس تباہی کے ذمہ دار بھی ماضی کی حکومتیں ہیں خصوصا گزشتہ دس سال بر سر اقتتدار رہنے والی حکومتیں جنہوں نے چھ ہزار ارب سے قرجہ تیس ہزار ارب تک پہنچایا۔آئیندہ چند ماہ جب آئی ایم ایف،قطر،سعودی عربیہ کے قرضے ہماری معیشت کی ڈھارس بندھانے معاشی دائرے میں آئیں گے تو دیکھ لیجئے گا پاکستان سنبھل جائے گا
میں گزشتہ دو ہفتوں سے جدہ میں ہوں میں نے محسوس کیا ہے کہ سعودی معیشت اٹھان لے رہی ہے۔یہاں میں ذلفی بخاری سے براہ راست مخاطب ہوں کے وہ فی الفور اپنی ٹیم کو سعودی عرب بھیجے یہاں کی حکومت سے افرادی قوت کی ایکسپورٹ کے معاہدے کرے۔خاص طور پر پاکستان میں جو مین پاور ایکسپورٹر ہیں انہیں اپنی ٹیم میں لے۔میں یہاں صاف لکھے دیتا ہوں آپ ان مین پاور ایکسپورٹرز کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔انہیں ترغیب دیں آسانیاں مہیا کریں دیکھیں نتائیج کیا نکلتے ہیں۔
آل پارٹیز کانفرنس عمران خان کی پگڑی اچھالنے بیٹھی تھی اللہ نے کرم کیا اسے اللہ پاک نے اور عزت دے دی اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم ڈالر کمانے افرادی قوت کو پاکستان لائیں۔یہاں جدہ میں انویسٹرز سے میری میٹینگز ہوئی ہیں وہ چاہتے ہیں زلفی یہاں آئیں۔سیاسی وابسگیوں سے ہٹ کر ؤئیں کسی ٹھیکے دار کی انگلی نہ پکڑیں جدہ پاک انویسٹرز فورم سے ملاقاتیں میں کرا دوں گا۔دیکھئے نتائیج کیا نکلتے ہیں؟ہماری یہاں کوئیمپارٹی نہیں ہونی چاہئے کوئی گروپ کوئی سیکشن نہیں ہے پی ٹی آئی کے لوگ بھی پاکستانی ہیں اور دوسرے بھی۔یقین کیجئے یہاں کا پاکستانی اس قسم کی ؤل پارٹیز کانفرنسون سے عاجز ہے وہ پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہے۔میری خدمات وزارت خارجہ کے لئے بھی ہیں اور منسٹری آف اووسیز کے لئے بھی۔پاکستانی جہاں بھی ہو پہلے پاکستانی ہوتا ہے اسے ہم لوگ آ کر مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کا بناتے ہیں شہر جدہ گواہ ہے کہ ہم نے حلقہ ء یاران وطن کے پلیٹ فارم سے سب کو اکٹھا کیا یہ لوگ اب بھی اکٹھے ہیں۔یہاں کی پارٹیوں کے اندر کے گروپ یہاں کے سفارت خانے اور قونصلیٹ بناتے ہیں۔ان لوگوں نے صحافیوں میں اپنے کارندے چھوڑ رکھے ہیں جو کمیونٹی کی جاسوسی کے سوا کچھ نہیں کرتے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی نوکریاں لیتے ہیں اور سب اچھا کی رپورٹیں دیتے رہتے ہیں۔یہاں سبز پاسپورٹ کی پارٹی ہونا چاہئے۔
البتہ اگر سیاسی پارٹیاں اپنے تئیں انہیں قومی امور میں شریک کرنے کے لئے اقدام کر رہی ہیں تو وہ خالصتا کار کردگی کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔
میں اس شہر سے مخاطب ہوں جہاں احسن رشید تھے جہاں سردار رحمت خان ارشد خان قاری شکیل تھے یہ سب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں احسن رشید نے پی ٹی آئی کو بنایا یہ میرے دوست وہی ہیں جنہوں نے مجھے پی ٹی آئی کی راہ دکھائی،
یہاں کی کمیونٹی بھلے سے کسی پارٹی سے تعلق رکھتی ہو پاکستان کا درد رکھتی ہے۔آج چودھری اکرم نے فیملی ڈنر دیا وہیں ملک محی الدین بھی تھے باہر ہال میں پی ٹی آئی کے دوست مل گئے سب کا یہی خیال تھا کہ اوورسیز پاکستانی کو صرف اور صرف دودھ دینے والی گائے سمجھا جاتا ہے ہمیں بڑے بڑے فیصلے کرتے ہوئے پوچھا نہیں جاتا۔
کیا ہم وہ کام کرنے جائیں گے جو آج سے پہلے کبھی نہیں ہو سکا اور وہ ہو گا اوورسیز پاکستنیوں کا ایک وہ کنونشن جو پارٹی سطح سے بالاتر ہو کر ہو اور اس میں صرف وہ شریک ہوں جنہوں نے زر مبادلہ سب سے زیادہ بھیجا ہو۔ایسی کانفرنس جو پاکستان کے ان سفیران کو عزت بخشے۔
موضوع دو تھے لیکن محور پاکستان تھا مولانا کی آل پارٹیز کانفرنس کھایا نہ پیا گلاس توڑا بارہ آنے ہی تھا یہ بارہ آنے کس نے دئے اس کی بات بعد میں کریں گے