گر جنگ لازمی ہے - انصاف بلاگ | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Jang Gar Lazmi Hai Insaf Blog.

 

آج صبح پارک میں سیر کرتے ہوئے دوستوں سے کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بات چیت ہو رہی تھی کس طرح نہتے کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو سلب کیا جا رہا ہے- قتل وغارت کیا جا رہا ان کشمیریوں کا جو حق کی آواز بلند کرتے ہیں- کشمیری مائوں بیٹیوں کو بے آبرو کیا جا رہا ہے اور سیکولر ہونے کے دعویدار آج مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے در پر ہیں، جس طرح سوشل میڈیا پر آپ دیکھ رہے ہیں- جے شری رام کہلوانے اوراسلام آباد میں بینر لگوانے سے لے کر شرم ناک ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں- کہیں کسی کی زبان کاٹی جا رہی ہے اور کسی کے ہاتھ اور کسی کی گردن یہ سب کچھ سرعام ہو رہا ہے- کیوں نہیں ہو گا جب انڈین گجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام میں ملوث ہونے والے انڈیا کے پردان منتری مودی سرکار اس کے سرغنہ ہوں- بابری مسجد بلوائیوں کی بے حرمتی کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے- شرم ناک حد تک گراوٹ کا شکار ہوچکے وہ تمام ہندو اور ان کے پیروکار جو اِن گھنائونے حربوں سے اپنی قوم اور مذہب کو بدنما داغ لگارہے ہیں- ہندوستان کے اپنے شہری مودی سرکار کی ان حرکتوں سے بے زار ہیں اور خاص طور پر بیرون ملک رہنے والے ہندوستانی کسی کو شکل دکھانے تک کے قابل نہیں رہے- ظلم و ستم کے پہاڑ جو وہ کشمیری آبادی پر ڈھا رہے ہیں اور اب جو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سے 370اور 35Aکی شقوں میں یکطرفہ اور غیرآئینی اقدام اُٹھائے ہیں- اس بے شرم مودی اور اُس کے حواریوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا کشمیریوں پر پہلے ہی سے تقریباً 9لاکھ کے لگ بھگ فوج تعینات تھی اور مزید 40ہزار فوجیوں کو وہاں بھیجا اور ظلم و ستم اور قتل و غارت کی کھلی چھٹی دے کر یہ کشمیریوں کی جدوجہد اور آزادی کے متوالوں کو سبق سکھانے کی کوشش بُری طرح سے ناکام ہو گی- آپ دیکھتے جائیں اب کس تیزی سے کشمیر کی آزادی کی موومنٹ ان پر عذاب بن کر گرنے والی ہے- مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اب کشمیریوں کی آزادی کے دن دور نہیں انشاء اللہ! پاکستان میں ہونے والی کل کی پارلیمنٹ کی کارروائی بلائی تو یکجہتی کے لیے گئی تھی اور میں امید کر رہا تھا کہ اپوزیشن عوام کی طرح سیسہ پلائی دیوار بن کر عمران خان کے فیصلوں پر لبیک کہیں گے جو انھوں نے کل کی پارلیمنٹ کی تقریر میں کہے لیکن تقریر سے پہلے پارلیمنٹ سے باہر اور پھر پارلیمنٹ کے اندر مودی کے یاروں اور ملک کے غداروں نے وہی راستہ اختیار کیا، جس کا مجھے یقین تھا انھوں نے پوری قوم اور دنیا کو بتا دیا کہ وہ یہ بھوت ہیں جو چالیس سالوں سے چمٹے ہوئے تھے ہمارے پاک وطن کو اور دیمک کی طرح چاٹ رہے تھے اس کی دولت کو اور بیچ رہے تھے اپنی دھرتی کو ان کے ہاتھوں جو آج کشمیر کی آزادی کی موومنٹ کو کچلنا چاہتے ہیں اور یہ لاتیں کھانے کے بغیر ٹھیک نہیں ہوں گے- خود تو انڈر ٹرائل وہ ہیں ہی اور جو جیلوں میں ہیں وہ ان کو بھی باہر دیکھنا چاہتے ہیں چاہے وہ ملک کے غدار ہی کیوں نہ ہوںیا پھر عدالتوں سے سزا یافتہ ہی کیوں نہ ہوں- عمران خان کی حالیہ دنوں میں کامیابیوں اور امریکہ میں بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی پزیرائی دیکھ کر وہ بدحواس ہو چکے ہیں اور ہر صورت چاہے وہ کل کی مشترکہ پارلیمنٹ کا سیشن کیوں نہ ہو جہاں انھوں نے یک زبان ہو کر کشمیریوں کی آواز میں آواز ملانی تھی اور عمران خان کا بیانیے کو غیرمشروط طور پر ساتھ دینا تھا تاکہ کشمیریوں کے ساتھ ساتھ دنیا تک یہ پیغام جاتا کہ ہم سب چاہیے گورنمنٹ کے نمائندے ہوں یا اپوزیشن ہم ایک ہیں اور ہندوستان کو واضح پیغام جاتا کہ اگر انھوں نے کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے کی کوشش کی ادھر پاکستان میں یا کشمیر میں تو ہماری فوج ان کو منہ توڑ جواب دے گی - لیکن اپوزیشن نے پاکستان کو کمزور کرنے کا یہ موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا بلکہ ساتھ ساتھ ہندوستان کے عوام، مودی اور ان تمام پاکستان مخالف قوتوں کے سر فخر سے بلند کر دیئے کہ وہ ان کے اب بھی وفادار ہیں اور پاکستان کو کسی بھی طرح مضبوط نہیں ہونے دیں گے- تقسیم کرکے رکھیں گے ہمیشہ کی طرح پاکستانیوں کو لیکن اب ہندوستان کی بدقسمتی کے ساتھ ساتھ یہاں ان کے گھس بیٹھیوں کا بھی انجام ہونے والا ہے ان کے چہرے پہلے ہی سے پہچانے جاچکے ہیں یہ تمام وہ لوگ ہیں جن کے نام گرے لسٹ، بلیک لسٹ یا پھر ایگزٹ لسٹ میں پہلے ہی سے ہیں جو کل پارلیمنٹ میں عمران خان اور ملک کے خلاف ابھی بھی سازشوں سے باز نہیں آرہے کیونکہ یہ ان کے لیے بہترین موقع تھا عمران خان کو بلیک میل کرکے NROلینے کا- ان کو NROدے دو اور پھر دیکھو یہ وہ سب کچھ ٹھیک کردیں گے جو انھوں نے خود ہی خراب کررکھا ہے- خدا کا خوف کریں صرف ایک شخص سے 500ارب روپے کی چوری کا انکشاف ، بے نامی اکائونٹس اور بے نامی جائیدادوں کی بھرمار- ایک لائن مین سے اب تک کا سفر خورشید شاہ صاحب کی لمبی زبان کی طرح کرپشن کی داستانیں بھی اتنی ہی طویل ہیں- تبھی اب میں سمجھا کہ ڈیتھ سیل سے موت گھاٹ کی طرف جاتے ہوئے قیدی اونچی آوازوں میں گالیاں کیوں دینا شروع کر دیتے ہیں دراصل وہ گالیاں اپنے آپ کو دے رہے ہوتے ہیں کہ وہ یہ سب کرپشن اور بدکاریاں کیوں کرتے رہے اور جن کے لیے کرتے رہے آج وہ اُن کو بچانے تک نہیں آ رہے -سیر کرتے ہوئے ایک ن لیگی MPAنے ہمیں جوائن کرلیا اور ہمیشہ کی طرح ان کے پاس کوئی جواز نہیں ہوتا بس جو اُن کے لیڈر جناب شہباز شریف صاحب نے کہہ دیا وہ اُسی کو پتھر پر لکیر بنائے پھرتے ہیں ان کے ساتھ ہمارے ایک اور دوست جو پہلے پی ٹی آئی کی ٹکٹ کے لیے کوشاں تھے اور جب ٹکٹ نہ مل سکا تو ن لیگ کی سپورٹ شروع کر دی اور صبح جب MPAصاحب کو ساتھ دیکھا تو ان کی خوشنودی حاصل کرنے واسطے مجھے ایک واقعہ سنایا کہ ایک صاحب اپنے باپ کو اپنے بزنس کی چابیاں دیکر چھٹیوں پر گئے اور عرض کی کہ ابو میرے واپس آنے تک آپ میرے بزنس کا خیال رکھیں تو باپ نے حامی بھرلی اور جب بیٹا واپس آیا تو چابیاں اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے باپ نے بیٹے سے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے بس میں نے تمھارے منشی کو فارغ کر دیا ہے وہ بہت بے ایمان اور رشوت خور تھا اور اُس کی جگہ ایک نہایت ایماندار منشی رکھ دیا ہے- بیٹا چابیاں لے کر شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت ہوا اور کچھ مہینوں بعد اپنے باپ سے آکر بولا کے آپ کے ایماندار منشی نے میرے بزنس کا ستیاناس کردیا ہے وہ ہر کام ایمانداری سے کرنے کا قائل ہے اور آج کل کے دور میں کیسے کیا جاسکتا ہے میری آمدنی آدھی رہ گئی ہے اُس کے آنے کی وجہ سے- آپ مہربانی فرماکر اس کو فارغ کریں اور مجھے اُسی منشی کو واپس رکھنے دیں جو خود بھی کماتا تھا اور چار پیسے مجھے بھی کما کر دیتا تھا- یہی سوچ ن لیگ کی ہے وہ سچائی کے راستے پر اس لیے چلنے کو تیار نہیں کہ ان کی جیبیں گرم ہونابند ہو گئی ہیں اور اس طرح ان کے حواریوں کی بھی تبھی اپنے غم و غصے کو وہ پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن جس میں انھیں وزیر اعظم پاکستان کی حوصلہ افزائی کرنی تھی اور انڈیا کو پیغام دینا تھا کہ اگر کشمیر کی طرف بری آنکھ سے دیکھا تو تمھاری آنکھیں نکال دیں گے- ہماری اندرونی مشکلات جیسی بھی ہوں لیکن ہم اپنی فوج اور حکومت کے ہر فیصلے پر لبیک کہتے ہیں لیکن وہ اس اہم موقع پر بھی دغا کر گئے اور حکومت میں نہ ہونے اور اپنے بھیانک چہرے بے نقاب ہونے اور کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کارناموں کے عیاں ہونے پر دماغی مریض ہو چکے ہیں میری عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ اب انھیں پروڈکشن آرڈر دینے کے بجائے سزائیں دیجیے جو ان کا مقدر ہیں اور دماغی مریضوں کو پاگل خانوں میں داخل کروا دیں تاکہ اپنے بچھڑے ہوئے دوستوں سے مل کر ہوسکتا ہے کچھ بہتر محسوس کریں- اور ہاں کشمیری عوام کے لیے پیغام ہے کہ ہم جتنے بھی سیاسی اختلافات رکھتے ہوں - جب مشکل وقت آئے گا یا ہندوستان آپ کی طرف یا ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا تو ہم سب اپنے فوجی بھائیوں کے شانہ بشانہ لڑتے نظر آئیں گے اور جیسے عمران خان نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ٹیپو سلطان کی طرح خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے-
گر جنگ لازمی ہے
تو پھر جنگ ہی سہی
امجد وٹو