ملکی معیشت اور تاجروں کی ہڑتال | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Economy and Strike by Traders Insaf Blog

 

عوام کو سمجھنا پڑے گا کہ جو تاجر حکومت کی پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ان کا اصل ذریعہ معاش درآمدات ہیں۔ یعنی ایسے تاجر باہر سے اشیاء پاکستان لا کر بیچتے ہیں جس سے ان کا تو روزگار چلتا رہتا ہے لیکن ملک میں بننے والی لوکل اشیاء اور صنعتکاروں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ان ہی کی وجہ سے ملک کا پیسہ ملک کے اندر گھومنے کے بجائے باہر چلا جاتا ہے۔ 

تحریک انصاف نے پچھلی حکومتوں کی پالیسی کے بر خلاف برآمدات بڑھانے پر توجہ دی اور اس کا ثمر ملک کو آہستہ آہستہ ملنا شروع ہو چکا ہے۔ پاکستان کی اشیاء اب پاکستان کی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکتی ہیں اور وقت کے ساتھ بہتر سے بہتر بن سکتی ہیں۔ اسی طرح باہر کی منافع بخش مارکیٹوں میں بھی ہماری اشیاء بیچ کر ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ 

خراب کام کو درست کرتے وقت لگتا ہے، اور یہاں پر تو جنگ ایک پورے نظام سے ہے۔ عوام زیادہ سے زیادہ بزنس کرنے پر توجہ دیں، حکومت کی نئی پالیسیوں کو سمجھیں اور فائدہ اٹھائیں۔ یقین جانیں پاکستانی اشیاء دنیا میں بہترین کارکردگی دکھا سکتی ہیں بس عوام شکایتیں کرنے کے بجائے جدت پسندی سے کام لیں اور نئی سے نئی پراڈکٹ بنانے پر توجہ دے۔

 

Blog-6-Nov

جہاں تک سوال تاجروں کی ہڑتال کا ہے تو پہلی بات تو یہ کہ وہ تاجر نہیں "ریٹیلرز" ہیں جن کو تاجر کا نام میڈیا نے دے رکھا ہے۔ ریٹیلرز کا کام ہی تو ٹھپ ہوا پڑا ہے کیونکہ اب ان کے لیے باہر کی اشیاء بیچنا مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے۔ وہ پہلے باہر سے چیزیں لا کر اونچے مارک اپ لگا کر مہنگے دام بیچتے تھے لیکن اب ان کو اس پر بھاری ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ اب ان کا مقابلہ پاکستان کی اپنی بنائی ہوئی اشیاء سے ہے جو کم قیمت پر تقریباً اسی کوالٹی میں دستیاب ہیں۔ ان کو درد تو ہو گا۔ لیکن ریٹیلرز کی ایک نشانی یاد رکھیں، ان کا سب سے بڑا خوف یہ ہوتا ہے کہ ان کا سامان گودام میں یا دکان میں پڑا نہ رہ جائے۔ عوام ہمت کریں اور جس دن یہ ہڑتال کریں اس کے اگلے دو دن عوام ان کا بائیکاٹ کر دیں۔ پھر دیکھیں یہ اگلی دفعہ ہڑتال کب اور کیسے کرتے ہیں۔ 

- یاسر نوید