پشاور بی آر ٹی میٹرو سے مختلف کیوں؟ ایک تفصیلی جائزہ
BRT-why-not-insaf-blog-Urdu


ریپڈ بس ٹرانسٹ ایک مشہور زمانہ ٹرانسپورٹ سسٹم ہے جو عوام کے لیے بنایا جاتا ہے تاکہ وہ سہولت کے ساتھ بسوں میں سفر کرسکیں۔ یہ منصوبہ سب سے پہلے ١٩٨٢ میں برازیل میں بنایا گیا جہاں یہ کافی مفید ثابت ہوا جس کے بعد یہ سسٹم میکسیکو، جکارتہ، بیچنگ، استنبول اور لاس اینجیلس میں بھی متعارف کروایا گیا۔ ٢٠١٧ میں خیبر پختونخواہ کی حکومت نے صوبائی دارلحکومت کا ٹرانسپورٹ نظام بہتر بنانے کے لیے ریپڈ بس ٹراسٹ منصوبہ شروع کرنے کا ارادہ کیا جس کے لیے متعدد سروے کروائے گئے اور نتیجہ یہی سامنے آیا کہ یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔

منصوبے کے لیے ایک ٢٦ کلومیٹر کا راستہ متعین کیا گیا اور میٹرو منصوبوں کے برعکس یہ راستہ پشاور کے ایک دور دراز علاقے چمکنی سے شروع ہوکر بارڈر کے نزدیک پشاور کے دوسرے سرے پر بارڈر کے نزدیک جاکر ختم ہوتا ہے جہاں حال ہی میں خیبر ڈسٹرکٹ کو ضم کیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ ریپڈ بس ٹرانسٹ سسٹم کا موازنہ گذشتہ حکومتوں کے دور میں شروع کیے گئے میٹرو بس منصوبے کے ساتھ کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ یہ مضمون انہیں لوگوں کے لیے لکھا گیا ہے۔ اور خاص طور پر پشاور کے رہائشیوں یا ان لوگوں کے لیے جو اکثر پشاور میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ سیروسیاحت سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لیے بھی یہ مضمون معلومات کا خزانہ ہے اور بیرون ملک بسنے والے پشاور کے لوگ بھی اس مضمون کے ذریعے اس منصوبے کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل حاصل کرسکتے ہیں۔

پشاور بی آر ٹی کا ٹریک چمکنی کے خوبصورت علاقے سے شروع ہوتا ہے جہاں دیگر کئی منصوبوں کے لیے بھی زمین مختص کی گئی ہے جس میں حاجی کیمپ بس سٹیشن کو بھی بی آر ٹی کے پہلے سٹیشن کے قریب منتقل کرنا شامل ہے۔ پہلے سٹیشن سے آگے بڑھیں تو ٹریفک کے شدید دباؤ کو متاثر کیے بغیر مسافر دوسرے سٹیشن تک پہنچیں گے جو کہ زرعی ترقیاتی بینک کے صوبائی ہیڈکوارٹر کے نزدیک ہے۔ یہاں سے بس رنگ روڈ کی ہیوی ٹریفک کو بائی پاس کرتے ہوئے ہوئے اپنے تیسرے سٹیشن کے طرف بڑھے گی جس کے اطراف میں مختلف شہروں سے آنے والی بسوں کے ٹرمینل بھی واقع ہیں۔

اگلے کچھ منٹوں میں بس حاجی کیمپ بس ٹرمینل کے پاس پہنچے گی۔ کئی دہائیوں پرانا یہ بس ٹرمینل صوابی، مردان اور دیگر قریبی علاقوں اور دور دراز علاقوں جیسے کہ کراچی، کوئٹہ، پشاور، لاہور اور اسلام آباد سے آنے والے مسافروں کے لیے ایک حب کا کام کرتا ہے۔ مشہور زمانہ نیازی بس ٹرمینل اور ڈائیو بس ٹرمینل بھی اس سٹیشن کے بالکل قریب ہی واقع ہیں۔ ہر سٹیشن پر بصارت سے محروم افراد کے لیے خصوصی راستے بھی بنائے گئے ہیں۔ اگلے سٹیشن گلبہار کی بات کریں تو اس کے ذریعے گلبرک اور سٹی پولیس لائنز جیسے رہائشی علاقے باآسانی مسافروں کی پہنچ میں ہونگے۔ اگلے سٹیشن ہشتنگری پر پر بی آر ٹی کے لیے بنائے گئے ایک مخصوص پل کے ذریعے پہنچا جائے گا جہاں دیگر تمام سٹیشنز کی طرح انٹرنیٹ وائی فائی کی سہولت بھی موجود ہوگی۔ تاریخی اور کاروباری لحاظ سے یہ سٹیشن بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے ذریعے مسافر دہائیوں پرانے بازار اور صدیوں پرانے ہشتنگری گیٹ تک پہنچ سکیں گے۔ یہ وہی گیٹ ہے جس کے ذریعے صدیوں پہلے پرانے پشاور شہر کی حفاظت کی جاتی تھی۔

اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ ہر سٹیشن پر معذور افراد کے لیے خصوصی ٹریکس بنائے گئے ہیں تاکہ وہ ویل چیئر کے ذریعے باآسانی بس تک پہنچ سکیں۔ اگلا سٹیشن فردوس ایریا کا ہے جہاں درجنوں سیاحتی جگہوں کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑا کاروباری علاقہ بھی ہے۔ اگر آپ اس سٹیشن پر اترے تو آپ نا صرف ١١٩ سال پرانا گھنٹہ گھر دیکھ سکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ شاندار ثقافتی راستہ جو کہ خاص طور پر سیاحوں کے لیے بنایا گیا ہے اور مشہور زمانہ عظیم سیٹھی ہاؤس بھی دیکھ سکتے ہیں۔ لکڑی کے ذریعے سیٹھی ہاؤس پر جو دستکاری کی گئی ہے وہ دیکھنے والے کو مبہوت کردیتی ہے۔ یہاں آپ قدیم گور گتھڑی تحصیل کے بھاپ کے انجن سے چلنے والی فائر بریگیڈ کی گاڑی کو انجوائے کرتے ہوئے یہاں کا مشہور سری پائے کا ناشتہ بھی کرسکتے ہیں۔ یہی نہیں اسی فردوس بس سٹیشن کے پاس ہی ایک اور عظیم سیاحتی ورثہ موجود ہے جسے دنیا قلعہ بالا حصار کے نام سے جانتی ہے۔ جو کہ ١٥٢٦ میں تعمیر کیا گیا تھا۔ چند قدم کے فاصلے پر ہی مسجد بخت خان بھی موجود ہے جو کہ مغل دور حکومت میں  ١٦٣٠ میں تعمیر کی گئی تھی۔ تاریخی اہمیت کا حامل جناح پارک بھی نزدیک ہی واقع ہے جہاں صوبائی دارلحکومت کا سب سے بڑا قومی جھنڈہ چوبیس گھنٹے، ہفتے کے سات دن لہراتا ہوا آنے والے مسافروں کو خوش آمدید کہتا ہے۔

اگلا سٹیشن لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے قریب بنایا گیا جو کہ ناصرف علاج معالجہ کی بیش بہا سہولیات میسر کرتا ہے بلکہ فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار بھی ہے۔ یہ ہسپتال ١٩٢٤ میں بنایا گیا تھا اور اپنی طرز تعمیر اور پائیداری سے اس دور کے ہنرمندوں کی یاد دلاتا ہے۔ اس کا نظارہ آپ عظیم قلعہ بالا حصار کے صحن میں بیٹھ کر بھی کرسکتے ہیں۔

بڑھتے ہیں اگلے سٹیشن کی طرف جو آپ کو ایک اور عظیم سیاحتی اور کاروباری دنیا میں لے جائے گا جسے قصہ خوانی بازار کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مشہورِ زمانہ قصہ خوانی بازار اور خیبر بازار میں آپ کو بڑی بڑی ہول سیل مارکیٹس دیکھنے کو ملیں گی اور ساتھ ہی ساتھ صدیوں پرانی عمارات اور دکانوں میں روایتی دیسی کھانے بھی۔ خان چپل یا چارسدہ چپلی جیسی انٹرنیشنل برانڈز بھی یہاں خریدی جاسکتی ہیں۔ نمک منڈی کے نام سے مشہور میٹ اور بیف کے مزیدار پکوانوں کی دکانیں بھی چند قدم کے فاصلے پر ہی ہیں۔ بس کا اگلا سٹاب شوبا بازار ہے جو کہ موٹر مکینکس کی جنت ہے ۔ یہاں سے چاہے تو اپنی گاڑی کے انجن میں جیسی چاہے تبدیلی کروالیں یا چاہے تو اس کی بہترین سروس کروالیں۔ یہ مارکیٹ انجن اورآٹوز کے حوالے سے پاکستان میں ایک خاص پہچان رکھتی ہے۔

آگے بڑھیں تو بس ٹریک پر جو اگلا سٹیشن ہے وہ شہر کا ایک بہت بڑا میڈیکل سینٹر ہے۔ ڈبگری گارڈن تک رسائی ایک الگ سٹیشن کے ذریعے دی گئی ہے جہاں سے چند منٹ پیدل چل کر سیاح اور مقامی لوگ پشاور میوزیم تک پہنچ سکتے ہیں۔ چند ہی قدم کے فاصلے پر پشاور ہائی کورٹ، پشاور جیل اور دیگر حکومتی ادارے اور دفاتر موجود ہیں۔ بس کے مین روٹ کے ساتھ ساتھ قلعہ بالا حصار سے لے کر اس سٹیشن تک سائیکل اور موٹر سائیکل کے لیے ایک الگ ٹریک بنایا گیا ہے تاکہ شہری اس سے مستفید ہوسکیں۔ سائیکل، موٹر سائیکل اور دیگر نجی سواریوں پر سفر کرنے والے شہری اپنی سواریاں ڈبگری سٹیشن کے ساتھ تعمیر کیے گئے وسیع و عریض پارکنگ پلازہ میں پارک کرسکتے ہیں۔ یہاں سے وہ چاہیں تو الگ روٹ پر سائیکل و موٹر سائیکل کا استعمال کرسکتے ہیں اور چاہیں تو بس کے ذریعے اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ سکتے ہیں۔ پارکنگ اور الگ بائیک ٹریک بھی بی آر ٹی کا ہی خاصہ ہے۔ یہیں پر پہلا فیڈر روٹ بھی مین ٹریک سے آکر ملتا ہے جو کہ کوہاٹ روڈ اور رنگ روڈ جیسے انتہائی گنجان آباد علاقوں سے مسافروں کو لے کر یہاں تک پہنچے گا۔

اگلا سٹیشن صدر ڈرائی پورٹ اور پشاور کینٹ ریلوے سٹیشن سے گذرتے ہوئے پشاور پریس کلب کے پاس آئے گا۔ اس سٹیشن کی بدولت بہت سے اداروں کے صوبائی ہیڈکوارٹر جیسا کی آر ٹی آئی، آر ٹی ایس اور ای او بی آئی باآسانی مسافروں کی پہنچ میں ہونگے۔ 

بس روٹ پر اگلا سٹیشن آپ کو مشہور زمانہ سنہری مسجد تک لے جائے اور ساتھ ہی ذائقے میں لاجواب نوتھیا مچھلی پوائنٹ بھی موجود ہے۔ بس کا راستہ یہیں سے ایک پل کی صورت میں صدر مال روڈ کے اوپر سے گذرے کا جو مسافروں کو یہاں کے شدید رش اور ٹریفک سے بچائے گا۔ جو مسافر بھی رہائشی علاقوں جیسا کہ  گلبرک سوسائٹی، کینٹ پولیس سٹیشن، وغیرہ جانا چاہیں یا پھر جنرل ہسپتال یا شافی مارکیٹ جو کہ لیڈیز گارمنٹس کے حوالے سے مشہور ہے تو وہ اگلا سٹیشن استعمال کرسکتے ہیں۔ یہاں سے مسافروں کو مشہور بلور پلازہ، یونائیٹڈ پلازہ اور ٹائم پلازہ تک بھی رسائی حاصل ہوگی۔ جہاں وہ موبائل فون یا گیمنگ سے متعلق اپنے حسبِ شوق خریداری کرسکتے ہیں۔ یہیں پر دوسرا فیڈر روٹ بھی سٹیشن پر آکر ملے گا جو کہ سواتی پھاٹک اور نیشنل قیوم سٹیڈیم کے علاقوں کو مین روٹ کے ساتھ ملائے گا۔ یہ فیڈر روٹ دہائیوں پرانی کھٹارہ بیڈ فورڈ بسوں اور ان کے غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں سے بھی خلاصی کا باعث بنے گا۔ یہ بسیں جو کہ انتہائی کھٹارہ اور پرانی ہونے اور انتہائی غیر ذمہ دار ڈرائیوروں کی وجہ سے مقامی طور پر “راکٹ“ بھی کہلاتی ہیں۔

یہیں سے معلق رستہ آگے بڑھتے ہوئے آپ کو اگلے سٹاپ درویش مسجد تک لے جائے گا جو کہ شہر کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ یہی نہیں اس سٹیشن کی بدولت صدیوں پرانے اور عالمی شہرت کے حامل گرجا گھروں  سینٹ جونز چرچ ١٨٦٠ اور سینٹ مائیکل کیتھولک چرچ تعمیر ١٨٥١ تک رسائی کو بھی بہت آسان بنا دے گا۔ پشاور سی ایم ایچ بھی اس سٹیشن سے چند منٹ کی واک پر موجود ہے اور اس ہسپتال کی عمارت بھی ایک تاریخی ورثہ کی حیثیت رکھتی ہے جس کی تعمیر ١٩٢٠ میں ہوئی۔

تمام کے تمام بس سٹیشن نا صرف موسم کے حساب سے مسافروں کے لیے  آرام دہ ہونگے بلکہ ان کی تعمیر اس طرح سے کی گئی ہے کہ مسافر اطمینان اور سکون کے ساتھ بس میں سوار ہوسکیں۔ یہ سسٹم مسافروں کو موجودہ اذیت ناک ٹرانسپورٹ سسٹم سے نجات دلائے گا جو پرانی بسوں، غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں اور دھواں چھوڑتے انجنوں پر مشتمل ہے۔ ان کی جگہ اب پڑھے لکھے تربیت یافتہ ڈرائیور اور ماحول دوست گاڑیاں لیں گی۔

بس روٹ پر تھوڑا آگے جائیں تو تیسرا فیڈر روٹ آملے گا جو کہ باچہ خان انٹرنیشل ایرپورٹ تک جائے گا جو کبھی ناقابلِ رسائی سمجھا جاتا تھا۔ مستقبل قریب میں اس ایئر پورٹ سے چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے سات دن انٹرنیشنل پروازوں کی آمد و رفت ہوگی۔ بسوں کے دروازے بھی مسافروں کی سہولت کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ جو کہ دائیں اور بائیں دونوں سمت کھل سکتے ہیں۔ بائیں سائیڈ فیڈر روٹ سے آنے والے مسافروں اور دائیں سائیڈ مین روٹ اور اور ایئر پورٹ جانے والے مسافروں کے لیے استعمال ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ اسے کسٹم ویلج اور رنگ روڈ ایک بلاک کے مسافر بھی استعمال کرسکیں گے۔ روٹ کا معلق حصہ جو کہ قلعہ بالا حصار سے شروع ہوتا ہے یہاں آکر گراؤنڈ لیول کے برابر ہوجائے گا اور پھر یہاں سے ایک انڈر گراؤنڈ حب کے ساتھ جڑ جائے گا جو کہ امان چوک پر واقع ہے۔ جہاں بی آر ٹی منصوبے کا دوسرا فیز اختتام پذیر ہوتا ہے۔

چوتھا فیڈر روٹ خیبر روڈ سے آکر شامل ہوگا جو کہ قلعہ بالا حصار سے ایک شارٹ کٹ کے طور پر امان چوک پر آکر ملے گا۔ یہ روٹ مختلف اہم سرکاری دفاتر کو کور کرے گا جن میں ہائی کورٹ، گالف کورٹ، گورنر ہاوس، سی ایم ہاؤس اور کے پی پی ایس سی وغیر شامل ہیں۔ یہ فیڈر روٹ پشاور کے سکولوں کے مرکز، وارسک روڈ اور ڈیفنس آفیسرز کالونی کو بھی کور کرے گا۔ امان چوک میں واقع حب کے بعد ٹریک شہر کی ٹریفک کو متاثر کیے بغیر شہر کے جدید حصے سے آملے گا۔ اگلا سٹیشن تہکال کے انتہائی گنجان آباد علاقے میں ہوگا جوکہ تھوڑا معلق ہے۔ تمام معلق سٹیشنوں کی سیڑیاں ہر سٹیشن کی ضروریات کے حوالے سے خاص طور ڈیزائن کی گئی ہیں۔

اگلے کچھ سٹیشن جوکہ فیز تھری میں شامل ہیں، یونیورسٹی روڈ، مشہور فرنیچر مارکیٹ، گل حاجی پلازہ،  اور رہائشی علاقوں آبدارہ اور پرانا بارہ روڈ کے مسافروں کو سفری سہولیات مہیا کریں گے۔ ان مشہور و معروف کاروباری مراکز سے گذرتے ہوئے اگلا سٹیشن مسافروں کو ایک اور طبی مرکز کویت ہسپتال تک لے جائے گا جو کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے بعد شہر کا دوسرا بڑا ہسپتال ہے۔

سرسبزوشاداب پشاور یونیورسٹی اور ہائیر ایجوکیشن کے دیگر ادارے جیسے کے زرعی یونیورسٹی، اور یونیورسٹی آف انجینیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی تک رسائی کے لیے بھی دو خصوصی سٹیشنز بنائے گئے ہیں۔ جو کہ مشہور و معروف اسلامیہ کالج پشاور اور ایگریکلچرل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے قریب واقع ہیں۔ 

تاج آباد، ڈی ایچ اے پشاور، ناصر باغ روڈ اور دیگر رہائشی علاقوں کے لیے اپنے اپنے الگ سٹیشنز موجود ہیں جس کے بعد یہ ٹریک حیات آباد کے رہائشی براعظم سے آملتا ہے۔ ایک بہت بڑا بس ڈپو حیات آباد میں قائم کیا گیا ہے جب کہ اس منصوبے میں کل تین بس ڈپوٹ شامل ہیں۔ اس بہت بڑے رہائشی علاقے کو کور کرنے کے لیے دو فیڈر روٹ بھی قائم کیے گئے ہیں جو کہ انتہائی خوبصورت باغِ ناران پارک اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ہیڈ کوارٹرز سے گذریں گے۔ پاکستان انجینرنگ کونسل، ہائر ایجوکیشن کمیشن کا صوبائی ہیڈکوارٹر، شوکت خانم ہسپتال، رحمان میڈیکل ہسپتال اور نارتھ ویسٹ ہسپتال جیسے ادارے بھی اس منصوبے کی بدولت باآسانی مسافروں کی پہنچ میں ہونگے۔ نارتھ ویسٹ ہسپتال شہر کا تیسرا بڑا ہسپتال ہے جبکہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس بھی اس منصوبے کے تحت آسانی سے مریضوں کے لیے قابلِ رسائی ہوگا۔


حیات آباد سے مرکزی بی آر ٹی روٹ ایک بار پھر معلق ہوتا ہوا مشہور کارخانو مارکیٹ تک جائے گا جو کہ پشاور انڈسٹریل اسٹیٹ کے ساتھ واقع ہے۔ ان دونوں مارکیٹس کے دو اسپیشل سٹیشن بنائے گئے ہیں جو کہ مسافروں کی ان مارکیٹس تک رسائی آسان بنائے گے جہاں پر سوئی سے لے کے رہائشی کنٹینرز تک کی ہول سیل مارکیٹس موجود ہیں۔

بی آرٹی کا مین روٹ حال ہی میں ضم کیے گئے خیبر ڈسٹرکٹ کے پاس گراؤنڈ لیول کے برابر ہوجائے گا جہاں ایک اور فیڈر روٹ اس سے آن ملے گا جو کہ حیات آباد اور انڈسٹریل ایریا سے گذرے گا۔ یہاں سے مسافر مشہور ستارہ مارکیٹ سے شاپنگ کے ساتھ ساتھ پرانے فاٹا کا لذیذ گوشت سے بنا پکوان بھی انجوائے کرسکیں گے۔

مضمون کو سمیٹتے ہوئے بات کریں تو یہ میگا پراجیکٹ پشاور شہر کے تقریبا سارے حصے کو کور کرے گا اور لوگوں کے لیے ایک تیز رفتار، سستی اور معیاری سفری سہولت میہا کرے گا۔ ساتھ ہی ساتھ اس منصوبے سے ٹریفک اور گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو بھی کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ یہ منصوبہ شہر کی تقریبا ساری بڑی سڑکیں  کور کررہا ہے۔ تعلیمی اداروں سے لے کر سیاحتی مقامات، ہسپتالوں سے لے کر مشہورِ زمانہ فوڈ پوائنٹس، پرانے کمرشل ایریاز سے لے کر جدید رہائشی علاقوں تک پھیلا ہوا یہ منصوبہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے جدید ترین سفری سہولیات میسر کرے گا۔ میٹرو منصوبوں کے برعکس یہ منصوبہ فیڈر روٹس کے ذریعے دور دراز علاقوں کے مسافروں کی بھی شہر تک رسائی کو آسان بنائے گا۔ یہ منصوبہ ماحولیات کے لیے بھی ایک نعمت ثابت ہوگا، گردو غبار کا خاتمہ ہوگا اور لینڈ سکیپنگ کے ذریعے فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ غرض یہ کہ اب یہ صرف دنوں کی بات ہے کہ یہ منصوبہ مکمل ہو اور لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے کہ یہ میٹرو منصوبوں سے نا صرف مختلف بلکہ ایک انقلابی منصوبہ ہے۔

مضمون ختم کرنے سے پہلے ایک چھوٹی سی وضاحت اس تصویر سے متعلق ضروری ہے جو کہ اس وقت سوشل میڈیا پر زیرگردش ہے جس میں ایک میٹرو سٹیشن کے بیچوں بیچ گیس پائپ لائن گذر رہی ہے۔ کسی بھی پراپیگنڈہ کا حصہ بننے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیں۔ نون لیگ کی گذشتہ وفاقی حکومت کے دور میں سوئی گیس پائپ لائن سے متعلق ایک منصوبہ شروع کیاگیا چونکہ یہ وفاق کی ڈومین میں آتا تھا اس لئے نون لیگی حکومت نے اس کی تکمیل میں بے تحاشہ روڑے اٹکائے تاکہ بی آر ٹی منصوبے کو متاثر کیا جاسکے۔ اس منصوبے پر ابھی بھی کام جاری ہے اور محکمہ سوئی گیس متبادل پائپ لائن بچھانے میں مصروف ہے۔ اس بنیاد پر بی آر ٹی کا کام روکا نہیں جاسکتا تھا چنانچہ جیسے ہی نئی پائب لائن مکمل ہوجائے گی پراپگنڈہ تصویر میں نظر آنے والی پرانی پائب لائن کو ہٹا دیا جائے گا۔ آپ نے دیکھا ہو گا اس تصویر میں لوگ وہاں سے گزر رہے ہیں، ابھی تو یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوا ، ایسی جگہ جہاں ابھی کام جاری ہو اس جگہ سے گزرنا نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی۔ لہذہ عوام کو چاہیے ایسے راستے کو گزرگاہ نہ بنائیں۔