بلین ٹری سونامی۔ انصاف بلاگ | Pakistan Tehreek-e-Insaf
billion-tree-tsunami

 

پختونخوا میں کتنے لوگ ہیں۔ان سب لوگوں کے جمع کر کے ہاتھ کتنے بنتے ہیں۔ سال میں کتنے دن ہوتے ہیں، راتیں کتنی ہیں گھنٹے منٹ اور سیکنڈ کتنے ہیں۔ درخت کتنے لگ سکتے ہیں۔ اچھا اگر واقعی اتنے درخت لگے ہیں تو ہمارے سامنے کیوں نہیں لگائے۔ یہ اور ان جیسے نہ جانے اور کتنے سوال۔ تعصب کی چربی آنکھ اور دماغ پر چڑھ جائے تو یہی ہوتا ہے۔ یہ سوچنے کی صلاحیت ہی سلب ہوجاتی ہے کہ بھئی اپنے ہی ملک میں لگ رہے ہیں یہ درخت۔ ان درختوں کا فائدہ پاکستان کو ہوگا ہماری ہی اگلی نسلوں کو ہوگا۔درخت زیادہ ہونگے تو پرندے زیادہ ہونگے، کیڑوں مکوڑوں کی بہتات ہوگی، جانوروں کی قدرتی افزایش ہوگی۔ گلوبل وارمنگ سے بچاو ہوگا۔ سیلاب کا سد باب ہوگا۔ فضا مین اکسیجن بڑھے گی۔ماحول خوشگوار ہوگا۔ لیکن حسد بغض اور جہالت بہت تکلیف دہ بیماریاں ہیں جو بھی ان میں مبتلا ہو جائے۔ 
    ہمارا شمارآنے والے تیس برسوں میں گلوبل وارمنگ سے شدید متاثر ہونے والے سات ممالک میں ہوتا ہے۔ درخت اور ساتھ ساتھ ڈیم ، آبی ذخائر ہی وہ نعمتیں ہیں جن کے ذریعے قدرت ہمیں محفوظ بنائے گی۔ اس بات کا احساس کرنے کے لیئے ایک ویڑن اور نظریئے والا رہنما ہونا چاہئیے جو کہ کپتان کی شکل میں ہمیں میسر ہوا، جو آج کا نہیں آنے والے دنوں کا اور آنے والی نسلوں کو سوچ رہا ہے۔ جو جانتا ہے کہ سڑکیں ، پل ، فلائی اوور اور انڈر پاسسز کا ماحولیاتی نظام سے کوئی تعلق نہیں۔ 
    چالیس فیصد پودے ہاتھوں سے لگائے گئے۔ ساٹھ فیصد فضا سے چھوٹے جہازوں کے ذریعے اورپروٹیکٹڈ ری جنریشن کے ذریعے ہوئی۔ پرانے جنگلات اور بیڈ لینڈز، بنجر، نرسریز اور ویٹ لینڈز کو ٹھیک کیا گیا۔ ہیلی کاپٹر سے بھی بیج پھینکے گئے۔اور یہ سب بہت تیز رفتار ی سے ممکن بنایا گیا۔زیادہ تر شجرکاری کاٹے گئے جنگلات کی جگہوں پر کی گئی۔جنگلات کوتین ریجن تقسیم کیا گیا۔ پہلا سینٹرل سدرن فاریسٹ ریجن جس میں پشاور، مردان کوہاٹ وغیرہ کے علاقے شامل ہیں۔ دوسرا ناردن فاریسٹ ریجن ایبٹ آباد۔ جس میں ہری پور، کوہستان بونیر کے علاقے شامل ہیں۔ تیسرا ناردن مالا کنڈ ریجن جس میں دیر، سوات چترال کے علاقے شامل ہیں۔2011 میںبون چیلنج کا آغاز انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) نے کیا تھا۔ دنیا کے ک±ل بیس ممالک نے جنگلات میں اضافے کے اس چیلنج کو قبول کیا تھا۔ بون چیلنج کا مقصد 2020 تک ایک سو پچاس ملین ایکڑ رقبے پر جنگلات کی بحالی تھا۔ پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس نے سب سے زیادہ تقریباً 35 ہزار ایکڑ کا رقبہ آباد کیا۔ آئی یو سی این کی ڈائریکٹر جنرل اور ڈنمارک کی معروف ماہر ماحولیات اینگر اینڈرسن نے پاکستان کی اس کامیابی کو سراہا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے نمائندے سید کامران حسین کے مطابق بلین ٹری سونامی پروجیکٹ کے دوران صوبے بھر میں لگائے گئے درخت عین بین الاقومی اصولوں کے مطابق ہیں۔ بلین ٹری پروجیکٹ اپنی نوعیت کا ایک منفرد منصوبہ ہے۔ میڈیا میں شائع یہ خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں کہ صرف بیس فیصد درختوں کا جائزہ لیا ہے بلکہ ادارے نے سروے کے دوران عالمی معیار کے مطابق بیس فیصد نمونے اکھٹے کیے۔ سروے رپورٹ میں ظاہر کیا گیا ہے کہ صوبے بھر میں منصوبے کے تحت لگائے درخت سو فیصد درست کاشت ہوئے ہیں۔گویا اس ادارے نے بلین ٹری سونامی کے تمام مراحل پر گہری نظر رکھی۔
     آپ کیا سمجھتے ہیںکہ بس پودے لیئے اور لگانا شروع کر دیئے گئے۔ نہیں۔۔ ایسا نہیں ہوا۔علاقائی ضروریات اور ماحول کے مطابق درختوں اور پودوں کی اقسام کا انتخاب کرکے یہ شجرکاری کی گئی۔ایک اندازے کے مطابق تئیس فیصد سفیدہ، بیس فیصد چیڑ اور اس کے علاوہ علاقے کے حساب سے اخروٹ، کیلاور ملبری لگائی گئی۔ سرکاری اور نجی سکولوں کے طالب علموں نے بھی پودے لاگا کر اس عظیم الشان مہم میں اپنا حصہ ڈالا۔بین الاقوامی اداروں نے اس مہم کی اس مہم کے اعدادوشمار کی کھلے عام تصدیق کی۔ یہ عملا کوئی آسان کام نہیںتھا۔ لیکن جب منصوبے کے پس منظر میں کپتان کا جوش اور ولولہ کارفرما ہو تولفظ ناممکن کو شب و روز سے منہا ہی کر دیں۔ 13 ہزار سرکاری نرسریاں قائم کی گئیں۔ نجی این جی اوز کی شراکت سے بھی نر سریز کا قیام عمل میں لایا گیا چھوٹے سکیل کی نرسریوں نے 25 ہزار بیج کی کم از کم مقدار مہیا کی۔پختونخوا حکومت نے اس پراجیکٹ کے لئے 123 ملین ڈالر مختص کئے۔ ان کے علاوہ مزید سو ملین، جو 2020 تک پودوں کی دیکھ بھال پر خرچ ہونے ہیں۔زبانوں سے آگ اور کانوں سے دھواں نکالنے والوں کو یہ بھی دکھائی نہیں دیتا کہ ورلڈ وائلڈ فنڈ جیسی غیر جانب دار اور بین الاقوامی تنظیم نے اس شجرکاری منصوبے کی نگرانی کی اور اس کی کامیابی پر مہر تصدیق ثبت کی۔