امن کی آشا اور بھارت کی بھاشا۔ | Pakistan Tehreek-e-Insaf
aman ki aasha insaf blog


گذشتہ کچھ عرصے کے حالات کو دیکھ کر میرا تجزیہ ہے کہ پاکستان اور بھارت میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک کہ بھارت کو اس زعم یا خوش فہمی سے نانکالا جائے کہ شاید وہ کوئی بہت بڑی سپر پاور بن گیا ہے اور پاکستان اس کے مقابلے میں بہت ہی حقیر ہے۔ بھارتیوں کی اکثریت بالی وڈ زدہ ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بالی وڈ فلم کی طرح ان کا کوئی "میجر" تن تنہا پاکستان پر حملہ کرکے صبح تک اس پر قبضہ کرلے گا۔ آپ شاید مذاق سمجھ رہے ہو لیکن حقیقتا ایسا ہی ہے کیونکہ میں بہت عرصے سے بھارتیوں کو سوشل میڈیا پر بہت closely فالو کررہا ہوں۔ وہ تحقیر آمیز حد تک پاکستان اور پاکستانیوں کو کمزور اور مفلوک الحال سمجھتے ہیں۔  مزے کی بات یہ ہے کہ یہ مائنڈ سیٹ صرف عام جاہل یا نیم خواندہ بھارتیوں کا نہیں بلکہ اس کے کئی بہت بڑے بڑے ناموں کا بھی یہی حال ہے۔ پلوامہ واقعہ پر آپ کو بھارتی اداکارہ کنگنا کا وہ ٹویٹ تو یاد ہوگا جس میں وہ کہہ رہی تھیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان پر قبضہ کرلیاجائے۔ اسی طرح موجودہ حالات میں بالی وڈ کے ایک بہت بڑے اداکار کا کہنا تھا کہ کشمیر اب اپنے حل کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ حل یہ ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی کی جائے۔ بالی وڈ نے بھارتیوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اس حد تک مفلوج کردیا ہے کہ وہ باآسانی کسی بھی پروپیگنڈا کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مودی نے دو بار کھلے عام سرجیکل سٹرائک کا جھوٹ بولا اور بھارتی مہینوں تک اس پر خوش ہوتے رہے۔ چند ایک لوگوں نے ثبوت بھی مانگے جس پر بھارتی حکومت کوئی ایک تصویر تک نا دکھا سکی لیکن بھارتی پھر بھی شدید مطمئن ہیں۔ بھارتیوں کی ذہنی حالت دیکھ کر مجھے اکثر اپنے پٹواریوں پر رشک آنے لگتا ہے۔ میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ شاید مطالعہ پاکستان میں ہمیں بعض چیزیں غلط پڑھائی گئی ہوں لیکن ایک چیز خو 200 فیصد سچ پڑھائی گئی ہے وہ یہ کہ بھارتی ایک بہت ہی تنگ نظر، متعصب اور چھوٹے دل کی مالک قوم ہے۔ اسے بھارتیوں کی خوش قسمتی یا اس کے ہمسائیوں کی بدقسمتی سمجھ لیں کہ بھارت رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ایک انتہائی بڑا ملک ہے۔ بھارت کی موجودہ کاروائی کے بعد لنڈے کے بہت سے لبرل جو پاکستان کے وجود سے خوش نہیں ہیں اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ شاید متحدہ بھارت میں وہ اتنے عظیم ہوتے کہ انہیں چیف sanitation officer کا رتبہ ملتا وہ بھی کچھ کچھ شرمندہ نظر آتے ہیں۔ بات پراپگنڈہ پر یقین کی ہورہی تھی تو بھارتی اس قدر آسانی سے بیوقوف بنتے ہیں کہ ابھی نندن ان کے نزدیک ہیرو ہے جس نے مگ طیارے کے ذریعے دو پاکستانی F 16 لڑاکوں ویمانوں کو گرادیا اور اسی میں اس کا اپنا جہاز بھی گرگیا۔ پھر یہ لوگ اتنی چھوٹی سوچ کے مالک ہیں کہ ابھی نندن کو صحیح سلامت واپس کرنے پر شکر گذار ہونے کی بجائے یہ کہتے رہے کہ پاکستان نے ڈر کے مارے 24 گھنٹے میں ہی ابھی نندن کو رہا کردیا۔ سو میرا تجزیہ یہ ہے کہ آپ الٹے لٹک جائیں اور اپنا پورا زور لگا لیں کہ بھارت کے ساتھ امن قائم ہوجائے تو ایسا کبھی بھی نہیں ہوسکے گا۔ اس وقت تک نہیں ہوسکے گا جب تک آپ بھارت کو واضح طور پر اور عملی طور پر یہ دیکھا نہیں دیتے کہ نا تو بھارت اتنا طاقتور ہے اور ناہی پاکستان اتنا کمزور ہے جتنا بھارتی سمجھتے ہیں۔