کڑے احتساب کے ابتدائی مراحل - انصاف بلاگ | Pakistan Tehreek-e-Insaf
ehtsab-insaf-blog

 

 ۱۹ ستمبر ۲۰۱۸ ایک فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے آیا جس میں نواز شریف، مریم صفدر اور کیپٹن (ر) صفدر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حُکم دیا گیا اور ان مجرموں کی سزائیں معطل کرنے کے احکامات صادر کیےگیۓ۔ یہ مقدمہ سُپریم کورٹ کی تجویز کردہ سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔ سزا معطلی کی خبر آنا ہی تھی کہ جاہلوں کا ہجوم مٹھائیاں بانٹنا اور بھنگڑے ڈالنا شروع ہو گیا۔ حیران کُن بات یہ تھی کہ قومی مجرموں کااستقبال ایسا کیا گیا جیسے کوئی مسلہ فلسطین یا کشمیر  حل ہوگیا ہو۔
ضمیر فروشی  کی بھی کوئی حد نہیں ہے قانون کا رکھوالا جیل سپرنڈنٹ جو جیل کے اندر اپنے خاص دفتر میں مجرموں کی میٹنگز کرواتا رہا اُس کی تصویریں سرِ عام گردش کرتی رہی ہیں۔

خیر اس طرح کے فیصلے بہت سارے شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں۔ مُٹھی بھر قلم فروش  اس فیصلے کو ڈیل اور خُفیہ معاہدہ سمجھ رہے تھے ۔ وقت کا امتحان واقعی کڑا ہوتا ہے ۔ بالآخر وہ وقت بھی آن پہچا کہ بلاول جو میاں نوازشریف کو بُرا بھلا کہا کرتے تھے مفاہمت کا ڈھونگ رچانے کوٹ لکھ پت جیل جاپہنچے۔

لیکن تبدیلی کا مضبوط نعرہ لگانے والے منتخب وزیرِ اعظم عمران خان اسمبلی میں اپنے  پہلے خطاب میں واضح کر چُکے ہیں کہ احتساب کڑا ہو گا اور واقعی کڑا ہو بھی رہا ہے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ کسی ڈیل  یا ڈھیل کی بات ہو؟