A man of the poor - Prime Minister Imran Khan - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Gharib e Shehr ka Apna Banda - Imran Khan - Insaf Blog.

 

جسے احساس ہوتا ہے وہی ہی اپنا ہوتا ہے۔
اور غریب شہر کا اپنا بندہ وزیر اعظم عمران خان ہے!
کیونکہ میرا تعلق ایک متوسط طبقے سے ہے جن کا نہ سیاست ، نہ بیوکریسی اور نہ کاروباری طرز سے کسی  ایسے فرد سے تعلق داری رہی جن کو عمومی طور  لوگ اپنے جائز ناجائز کام نکوالنے کے لئے اپنا بندہ کہتے ہیں۔ یہ لفظ بالخصوص  سرکاری محکموں میں پھنسے کام نکلوتے وقت سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔  چاہے کورٹ کچہری کا معاملہ ہو، تھانے یا پٹواری، ہسپتال ہو یا سکول، بجلی کا معاملہ ہو یا پانی کا۔ حتی کہ ہنگامی صورتحال جیسے کہ سیلاب، زلزلہ یا وباء میں راشن و امداد کی تقسیم۔  72 سال سے ہمارے ملک میں یہ ریت چلی آرہی تھی کہ اگر ان اداروں اور ان معاملات میں کسی کا کوئی اپنا رشتہ دار یا تعلق دار اپنا بندہ شامل ہے تو اسکو عزت و احترام کیساتھ ہسپتال میں علاج میسر ہوتا، بجلی کی کنکشن  گھر بیٹھے مل جاتی، تعلیم اچھی ملتی، تھانہ کچہری میں تکریم کسیاتھ معاملہ نبٹ جاتا، اور تو اور ہنگامی صورتحال میں ضرورت سے زیادہ اور ناحق بھی امداد کی رقم یا راشن  ملی جائی۔ 

لیکن آپ معاشی، سیاسی و سماجی طور کمزور خاندان سے تعلق رکھتے تو اس سب میں سے کسی بھی ادارے میں  آپکا کوئی تعلق دار نہی ہوتا جسے آپ اپنا سمجھ کر کوئی کام نکلوانے میں مدد لیتے۔ آپ کا مسئلہ کتنا بھی جائز ہو ہر ادارے میں آپ کی  درخواست کھڑے لاین لگتا، دھکے کھانے پڑتے۔ حتی کہ تذلیل بھی کرواتے یا پھر پیسے دے کر کام نکلوانا پڑتا۔ اب غریب پیسے کہاں سے لائے۔ چنانچہ اپنی قسمت پہ لعن طعن کرکے  گھر میں اپنے مسائل کیساتھ چپ سادھ کر بیٹھ جاتے۔ 

لیکن یہ ریت کافی حد تک  بدل گئی ہے۔ 

اس بات کا اندازہ کرونا وباء کی وجہ سے بپا ہونے والی ہنگامی صورت حال میں ریاستی مشینری اور اداروں کیطرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور اس میں عام عوام کے لئے پائی جانے والی عزت و تکریم سے ہوتا ہے۔ چاہے وہ قرنطینیہ مرکز کا قیام ہو، اس میں دی جانے والی معیاری سہولیات ہو اور اس کا انتظام کرتے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو رات دن ایک کرتے پانا ہو۔ 
پہلے تو ایسا ہوتا تھا کہ ایک پٹواری پورے کے پورے گاوں کو اپنے آگے پیچھے لگوادیتا تھا۔ اب ضلع کے سب سے بڑی سرکاری آفیسر کو عوام کے آگے پیچھے چلتے دیکھا جاسکتا ہے۔
اور  وزیر اعظم کے کرونا ریلیف پیکج کے تحت احساس کفالت کے زریعے لاکھوں خاندانوں کو فی کس 12000 روپے دینا ایک انقلابی کامیابی ہے۔ بالخصوص اس پیسے کی تقسیم کے دوران پورے ملک میں جو منظم انتظامات کیے گئے وہ ناقابیل یقین ہے۔ اب تک 10 لاکھ خاندانوں کو 1300 کروڈ روپوں کے لگ بھگ روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں وہ بھی صرف 3 دنوں میں۔  یہ کامیابی  بھی ناقابل یقین ہے۔ اس کا پورا سہرہ ڈاکٹر نشتر کو جاتا ہے جنہوں نے دن رات ایک کرکے اپنی ٹیم کو اس کامیابی کے لے تیار کیا، اس کی منصوبہ بندی کی اور اسی عملی جامہ پہنایا۔ اور یقینی طور ڈاکٹر نشتر کی تعیناتی پہ جناب وزیراعظم عمران تحسین کے مستحق ہے۔ 

اس سارے عمل و انتظامات میں ملک کے غریب طبقے کے لئے جو احساس نظر آرہا ہے یہ چشم فلک نے ملک کی 72 سالہ تاریخ میں ایسے نظارے نہی دیکھے تھے۔
ایسا کیوں ہوا؟
جب جناب عمران خان نے 2018 میں بطور وزیراعظم حلف اٹھایا تو میں نے اسی وقت کہا تھا کہ اس ملک کے غریب، بے بس، مجبور، محکوم کا اپنا بندہ ریاست و سرکار کے سب سے بڑے انتظامی عہدے پہ آگیا۔ اب اس طبقے کو کسی پٹواری، کسی تھانیدار، کسی کمشنر یا کسی سیاسی شخصیت میں اپنا بندہ ڈھونڈنے لہ نوبت نہی آئیگا۔۔ 
اور ایسا ہی ہوا۔ اور یہ صرف و صرف جناب عمران خان کے وزیراعظم بننے سے ہوا۔ کیونکہ جناب عمران خان ملک کے کونے کونے میں گھومیں پھریں ہیں۔ سند کے ہاریوں کے جھونبڑیوں میں، بولان کی خشک سالی کا شکار ریگستانوں میں، کراچی  کی مچھر کالونی ہو یا پھر سکردو کے سرد علاقے ہو، یا پھر کشمیر کی پہاڑیاں ہو یا قبائل کے کوہسار۔۔ جناب عمران خان نے ان سب علاقوں میں عام لوگوں میں رہ کر وقت گزارہ ہے۔ انہوں نے ایسے علاقوں میں بسنے والے عام لوگوں کی مشکلات کا ذاتی مشاہدہ کیا ہے۔ اس لئے اس کے ہر تقریر، فیصلے، اور عمل میں  غریب شہر کے مشکلات کا احساس نمایاں ہیں۔ اور اب احساس ریاست و سرکار کی پالیسی اور مشینری میں جھلکتا نظر آرہا ہے۔ 

انشاء اللہ! یہ مشکل وقت گزر جائیگا اور یہ قوم اور اسکا نظام اشرافیہ پسندی سے نکل کر غریب پروری کیطرف نکل جائیگا۔ 

اسلئے میں کہتان ہوں جس احساس ہوتا ہے وہی اپنا ہوتا ہے۔ اور جناب وزیراعظم عمران خان اس ملک کے غریب کا اپنا بندہ ہے۔