Imran Khan and his Promises - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Imran Khan and his Promises - Insaf Blog

 

وزیر اعظم عمران خان نے الیکشن مہم کا آغاز کیا تو انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کام کریں گے۔ ان وعدوں کے پیش نظر سب سے پہلی ضرورت کرپشن کا خاتمہ اور احتساب کے عمل کو تیز کرنا تھا. بعد ازاں غریب عوام کے حقوق کے لیے کام اور بیروزگاری کا خاتمہ تھا.جہاں وزیر اعظم عمران خان نے عوام سے دیگر وعدے کیے وہاں ایک وعدہ پاکستان میں الیکشن کے نظام کو بہتر بنانا تھا۔
وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے پہلے سال عوام کو احساس پروگرام کے ذریعے شیلٹر ہوم فراہم کیے تاکہ وہ لوگ لجن کے پاس رہنے کی جگہ نہیں وہ پناہ لے سکیں, غریب عوام کے لیے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام, ہاوسنگ اسکیم، صحت انصاف کارڈ جیسے اہم اور ضروری پیکج متعارف کروائے۔ وزیراعظم عمران خان کی بدولت خیبر پختونخوا اور کشمیر کی عوام کے لیے مفت علاج کی سہولت فراہم کی گئ. کشمیر ، جہاں مخلاف حکومت آتے ہی بجٹ کٹ لگا دیتی تھی ۔وزیر اعظم خان نے تاریخ میں پہلی دفعہ کشمیر کا بجٹ بڑھایا تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
جہاں وزیر اعظم عمران خان وعدوں کی تکمیل کی طرف رواں دواں ہیں وہاں وزیر اعظم عمران خان کے راستے میں بہت مشکلات اور رکاوٹیں آئی جس نے ترقی کی رفتار کو آہستہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان کو اپوزیشن کے ہتھکنڈوں کا سامنا تو تھا ہی ،مگر اسی دوران اس لڑکھڑاتی معیشت کو کرونا اور لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا مگر وزیراعظم عمران خان نے ہمت نہیں ہاری. "ضروت ایجاد کی ماں ہے" کو مد نظر رکھتے ہوۓ بہت سے ایسے اقدام کئے گئے جو اب نہ صرف ہمارے ملک پاکستان کی ضرورت پوری کر رہے ہیں بلکہ ہمارا ذریعہ معاش بھی بن  سکتے ہیں ۔ان اشیاء میں وینٹیلیٹرز اور ماسک وغیرہ شامل ہیں۔
کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باوجود پاکستان میں کیے جانے والے تمام اقدام ہماری  معیشت کی طرف مثبت اشاریے کے حامل ہیں. ڈالر کی قیمت بھی مستحکم  ہو رہی ہے۔ہنڈی حوالہ سے پیسے آنا کا سلسلہ بھی ختم ہوتا نظر آرہا ہے ۔ عوام کا اعتماد حکومت پر بڑھ رہا ہے جس کی بہترین مثال گلگت بلتستان کے الیکشن میں نظر آئی۔
حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے ایک اور نہایت اہم وعدہ اور پاکستانی عوام کے لیے احسن اہم اعلانات کئے جو کہ بدقسمتی سے عوام کی توجہ حاصل نہ کرسکے۔

1۔ اگلا الیکشن بیلٹ پیپر کی بجائے الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے ہوگا۔ ہر شخص اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے اپنے فنگر پرنٹ کو استعمال کرے گا اور یہ مشین نادرا کی ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک ہوگی۔ اس ایکاقدم سے دھاندلی کے تمام امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔ لیکن آپ دیکھیں گے کہ اپوزیشنز الیکٹرانک ووٹنگ کی مخالفت کریں گی کیونکہ ان  جماعتوں نے پنجاب اور سندھ کے حلقوں میں ہزاروں کی تعداد میں جعلی شناختی کارڈز بنوا رکھے ہیں جنہیں یہ ہر الیکشن میں استعمال کرتی ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک شخص صرف ایک ہی ووٹ ڈال سکے گا کیونکہ اس کی فنگر پرنٹ ریکارڈ ہوجائے گی

2۔ دوسرا اہم اعلان یہ کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو تاریخ میں پہلی مرتبہ ووٹنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ 
آپ دیکھیں گے کہ اپوزیشنز اس کی بھی مخالفت کریں گی کیونکہ اوورسیز پاکستانیوں کی تعداد کم و بیش 90 لاکھ ہے جن میں سے  90 فیصد سے زائد شعوری طور پر عمران خان کے حامی ہیں۔ اگر یہ ووٹ عمران خان کو ملتے ہیں اور ن لیگ کے جعلی ووٹ ختم ہوجاتے ہیں تو عمران خان کو اگلے الیکشن میں اللہ کی مہربانی سے دو تہائی اکثریت لینے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

3۔ تیسرا اعلان یہ کیا کہ آئندہ سال سینیٹ کے انتخابات کیلئے خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈز کے ذریعے ووٹ ڈالے جائیں۔ یاد رہے کہ اپوزیشن کو یہ شکوہ تھا کہ ایجنسیاں ان کے اراکین پر دباؤ ڈال کر سینیٹ کے انتخابات پر اثرانداز ہوتی آئی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سینیٹ کے الیکشن میں کروڑوں روپے لے کر اراکین اسمبلی ووٹ بھی ڈالتے آئے ہیں لیکن اس طریقے کے بعد ہارس ٹریڈنگ کا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔
اگر وزیراعظم عمران خان یہ سب انتخابی اصلاحات نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقیناً یہ پاکستان کی عوام کے لیے ایک بہت ہی اہم قدم اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ٹرنگ پواءنٹ ثابت ہوگا.
انشا اللہ، عمران خان یہ سب اصلاحات لانے میں کامیاب ہوجائے گا اور اگلے الیکشن میں ہم بھی مہذب قوموں کی طرح الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے اپنے امیدوار منتخب کرسکیں گے.