Fighting the locust and COVID-19 simultaneously - Achievements of CM Buzdar | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Achivements of CM Usman Buzdar

 


کورونا وائرس نے جہاں دنیا بھر کو متاثر کیا وہیں اس کے اثرات سے وطن عزیز بھی محفوظ نہ رہ سکا  جب پنجاب میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تو اس وقت حالات ایسے تھے کہ  ڈاکٹرز، نرسز پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر فرنٹ لائن پہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے فرائض سر انجام دینے والے اداروں کے اہلکاروں کے لیے ذاتی حفاظتی سامان ، ٹیسٹنگ کیپیسٹی، لیبارٹریز تک کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ 

حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے استعمال ہونے والے تمام سامان کی فوری خریداری کے لیے متعلقہ اداروں کو فوری فنڈز فراہم کیے۔
ڈاکٹرز اور کارکنان صحت کو 1 کروڑ سے زائد ذاتی حفاظتی لباس / آلات کی فراہمی عمل میں لائی گئی۔
پنجاب کے تمام محکموں (پولیس ، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، ڈی سی صاحبان) کو فراہم گئے سامان میں 1لاکھ 10 ہزار گاؤن، 5 لاکھ 13 ہزار ماسک ،4 لاکھ 75 ہزار سرجیکل  گلوز  ، 70 ہزار گوگلز، 8 ہزار این 95 ماسک،۔34 ہزار لیٹر سینیٹائزر، 45 ہزار 5 سو فوڈ ہیمپرز ،21 ہزار 5 سو پانی کی بوتلیں اور 55 سو آٹے کے تھیلے شامل ہیں۔

پنجاب میں وبا کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے اداروں کے آسانی سے کام کرنے اور قانونی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر امتناع وبائی امراض آرڈیننس 2020 کا نفاذ  عمل میں لایا گیا۔بہترین فیصلہ سازی کے لئے نامور طبی ماہرین پر مشتمل ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔

صوبہ کے ہر شہر میں ہنگامی بنیادوں پر قرنطینہ مراکز آئیسولیشن وارڈز کا قیام عمل میں لایا گیا  ہنگامی بنیادوں پر 8 فیلڈ ہسپتالوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔
لاہور میں ایک ہزار بیڈز پر مشتمل ایکسپو فیلڈ ہسپتال ایک ہفتے کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا۔

جس وقت پنجاب میں کورونا کا پہلا کیس آیا اس وقت پنجاب میں بی ایس ایل 3 لیبارٹریز کی کمی کی وجہ سے صوبہ کے اندر روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹ کرنے کی کیپیسٹی 190  سے بھی کم تھی وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر ہنگامی بنیادوں پر صوبے میں 18 بی ایس ایل 3 لیبارٹریز کو فنکشنل کیا گیا جسکی بدولت الحمدللہ اب یہ تعداد  12 ہزار سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ اور اس وقت پنجاب میں 5 لاکھ سے زائد ٹیسٹ کئے جا چکے۔ 
حکومت پنجاب کی لیبارٹریز میں کورونا ٹیسٹ مفت کیا جاتا ہے جس کی قیمت کم و بیش 5 ہزار ہے۔ 
تمام تحصیل اور ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں میں آئسولیشن وارڈز ،CUs  اور HDUs کے بیڈز اور وینٹی لیٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔

زائرین، تبلیغی جماعت اور بیرون ملک  سے آنے والے پاکستانیوں کی سکریننگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدیدترین نظام کے ذریعے کورونا وائرس کے 2 لاکھ  سے زائد مشتبہ مریضوں تک رسائی اور بین الاقوامی ماہرین کی معاونت سے سمارٹ ٹیسٹنگ کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔
مربوط حکمت عملی اور اس کے نفاذ کے لیے جدید ترین 24/7 کمانڈ اینڈ کنٹرول روم قائم کیا گیا اور عوام کو فوری مدد اور ضروری آگاہی کی فراہمی کے لیے خصوصی ہیلپ لائن 1033 کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔
مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر ہسپتالوں میں ⁩1000 سے زائد ڈاکٹرز، کنسلٹنٹس، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی بھرتی کی گئی۔ 
کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی خدمات کے اعتراف میں تاریخ ساز رسک الاؤنس اور شہدا پیکج دیا گیا کورونا وائرس کے خلاف ڈیوٹی پر مامور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کے لیے بھی بنیادی تنخواہ کے برابر اعزازیہ جبکہ شہید ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کو 40 لاکھ روپے کی امداد کی منظوری دی گئی۔ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھرپور عوامی آگاہی مہم کا آغاز کیا گیا۔

⁦صوبے میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ادارے بند ہونے پر بے روزگار ہونے والے متاثرہ غریب خاندانوں کے لیے
 18 ارب روپے کی لاگت سے انصاف امداد پروگرام کے ذریعے نقد رقم تقسیم کی گئی۔
اس دوران وزیر اعلیٰ پنجاب نے دفتر میں بیٹھ کر حالات کا جائزہ لینے کی بجائے خود فیلڈ میں نکل کر حالات کا جائزہ لینے کی روش اپنائی کورونا اور ٹڈی دل کے ایشو میں وزیر اعلیٰ پنجاب 25 ڈسٹرکٹ کے تحصیل ہیڈکوارٹر تک خود دورے کرکے حالات کا جائزہ لیتے رہے کبھی کسانوں کے پاس کھیتوں میں جاکر تو کبھی پی پی ای پہن کر ڈاکٹرز نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا حوصلہ بڑھاتے نظر آئے۔ 
کورونا کی وجہ سے مشکلات میں گھری عوام کو ریلیف دینے کے لیے پہلی بار وفاقی حکومت کی طرح پنجاب نے بھی ٹیکس فری بجٹ 2020-21 پیش کیا۔جس میں کورونا کی روک تھام مریضوں کے علاج اور عوام کو ٹیکس ریلیف دینے کے لیے 44.8 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم مختص کی گئی۔

اسی دوران تقریباً 28 سال بعد ٹڈل دل کا پاکستان میں حملہ ہوا ایران سے بلوچستان کے رستے ٹڈی دل پنجاب میں داخل ہوئی۔ اس سے پنجاب کی فصلوں کو شدید متاثر ہونے کا خدشہ تھا وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹڈی دل کے تدارک کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کیں صوبائی حکومت کی جانب سے فوری طور پر ٹڈی دل کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا جس میں پاکستان آرمی نے بھرپور معاونت کی وزیر اعلیٰ پنجاب ٹڈی دل کے متاثرہ علاقوں میں بھی بذات خود دورے کرتے نظر آئے۔

 ٹڈی دل کے خلاف آپریشن میں 1کروڑ 90 لاکھ 49 ہزار 4 سو 13 ایکڑ کا سروے کیا گیا اور 7لاکھ 62 ہزار 2 سو تین ایکڑ پہ سپرے کیا گیا ۔ پنجاب حکومت کے بروقت اقدامات کی بدولت الحمدللہ ٹڈی دل اتنا نقصان نہیں پہنچا پائی جس کا اندیشہ تھا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایات پر ٹڈی دل کے جولائی میں دوبارہ حملے کے پیش نظر پیشگی تیاری مکمل ہے حملہ شدہ علاقوں میں سپرے کے لیے 12 مائیکرون مشینیں موجود جبکہ 20 نئی مشینیں بھی تیار ہیں۔یہ مائیکرون مشین خود ملک میں پی ڈی ایم اے نے تیار کروائی ہیں ایک مشین کی تیاری پر تقریباً 3 لاکھ لاگت آئی ہے اگر یہ درآمد کی جاتیں تو ایک مشین کی لاگت 21 لاکھ روپے آتی


وفاقی حکومت کے بھرپور تعاون وزیر اعلیٰ پنجاب اور اسکی ٹیم کی بھرپور محنت کے صلے میں پنجاب میں کورونا اس حد تک نہیں پھیلا جتنا خطرہ تھا۔
بیک وقت آنے والی قدرتی آفات کورونا وائرس، ٹڈی دل ، ڈینگی وائرس اور ممکنہ سیلابی صورتحال میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور ان کی ٹیم نے جس  محنت دل جمعی سے کام کیا ہے اس کی نذیر نہیں ملتی۔
کہتے ہیں کسی لیڈر کی کارکردگی ہمیشہ مشکل وقت میں جانچی جاتی ہے اور اس مشکل وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان کا انتخاب درست تھا وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی کمان کے صحیح حقدار ہیں۔