Fifth Generation Warfare and Pakistan - Insaf Blogby Aalim Khan Mehmand | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Fifth Generation Warfare Insaf Blog

 

اکیسویں صدی کو اگر ڈیجیٹل صدی اور تیز ترین صدی  کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ 
پہلے زمانے میں لوگ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر انحصار کرتے تھے اور خبر بھی دیر سے پہنچتی تھی۔ اگر کوئی وطن سے باہر ہوتا تو اس کے لیے گھر کیساتھ منسلک رہنے کے لیے صرف ایک ہی راستہ تھا اور وہ تھا خط وکتابت جو بعد میں آڈیو ریکارڈ کی کیسٹس کے ذریعے اپنے پیاروں کیساتھ رابطے رہتے۔

دنیا نے کروٹ لی اور ٹیلی فون ایجاد ہو گیا جو کہ اس وقت بہت ہی کم لوگوں کے پاس یہ سہولت میسر تھی اور لوگوں کے زندگیوں میں ایک بہار آ گئی۔ موبائیل فون عام ہوگئے اور پردیسی لوگ یا اندرون ملک افراد نےاپنے خاندانوں سے موبائیل پر رابطے میں رہتے۔

اس کیساتھ انٹرنٹ آگیا اور رفتہ رفتہ موبائیل کیساتھ  انٹرنٹ پر توجہ دینے لگے۔اب تقریبا پاکستان میں ہر بندے کے پاس سمارٹ فونز تھری جی یا فور جی  ہوگیا۔ اگر یہ نہیں  تو کم از کم عام موبائیل تو ضرور ہوگا۔ اس خط وکتابت کی  جگہ ایمیلز نے لی اور آڈیو ریکارڈ کیسٹس کی جگہ سمارٹ فونز نے لی۔یہ سب کچھ اس صدی میں عروج کو پہنچا۔
یہ سوشل میڈیا کی صدی ہے۔اس میں خبر دنیا کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک چند سیکنڈز میں پہنچ جاتی ہے خواہ وہ  خبر درست ہو یا فیک یعنی جعلی نیوز ہو۔

موجودہ صدی میں پچھلی صدیوں کے بنسبت انسانوں کے طور طریقے، رہن سہن کے علاوہ جنگ وجدل کے طریقے بھی تبدیل ہوگئے۔ مثلآ پہلے زمانے میں جنگیں تلوار ،نیزہ بازی اور تیر کے زریعے ہوا کرتے تھیں جو بعد میں تلوار کی جگہ بندوق ،نیزے کی جگہ ٹینک اور توپ خانے نے لی اور تیر کی جگہ میزائیل ٹیکنالوجی نے لی۔

اب دنیا اور ایڈوانس لیول پر آگئی  اور اب اگر ڈرون کے ذریعے جاسوسی کرتے ہیں تو دوسری طرف اس سے دشمن پر حملے کے لیے بھی استعمال کیا جاتاہے۔

سوشل میڈیا کے آنے سے اب تقریباً ہر بندے کیساتھ سمارٹ فون ہوگا تو اب دشمن ڈرون یا میزائیل سے حملے نہیں کریگا بلکہ اس کے لیے آسان حدف میڈیا وار یا ففتھ جنریشن وآر ہے جو آجکل ہمارے پاکستان کے خلاف  لڑی جا رہی ہے۔ اس جنگ میں جس کے پاس نیٹ اور سمارٹ فون ہے وہ پاکستان کا سپاہی ہے اور یہ جنگ ہم سب کی ذمہ داری یے کہ اس جنگ کو لڑیں۔

اب سوالات ذہین میں اٹھتے ہیں کہ یہ جنگ ہم کیسے لڑیں اور جیتیں ؟

جیسے آجکل پیارے پاکستان کے خلاف مختلف قسم کے پروپیگنڈے ہو رہے ہیں دنیا بھر میں بیٹھے دشمن جو مختلف  تنظیموں کو فنڈنگ کر رہے ہیں اور اس فنڈنگ کا استعمال پاکستان کے اندر ان تنظیموں کے لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔

ریاست ایک ماں جیسی ہوتی ہے جب ماں کو لگے کہ بچے کی پرورش اور تربیت کے لیے ڈانٹنا ضروری ہوگیا یے تو وہ کرلیتی یے اس طرح کبھی کبھی دشمن ہمارے صفوں میں گھس جاتے ہیں تو اس کے لیے ریاست کو کبھی بھی اقدمات کی ضرورت پیش آتی ہے ورنہ ماں کبھی نہیں چاہتی کہ اس کے بچے کیساتھ سختی ہو اور اس کو تکلیف ملے۔

ففتھ جنریشن وآر میں ہم کیسے معلوم کرسکتے ہیں کہ یہ پروپیگنڈا ہے؟ آپ لوگوں  کی خدمت کے لیے چند تجاویز رکھتے ہیں:۔

1۔ جب بھی کوئی خبر پاکستان کے خلاف ملک کے اندر  یا باہر سے آئے تو اس کی تصدیق ضرور کریں۔

2۔ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ خبر کون دے رہا ہے؟ 

3۔ یہ جو خبر دے رہا ہے اس کے ذرائع کیا ہیں؟

4۔  یہ خبر دینے والے نے اس سے پہلے جو خبریں دی تھی وہ کتنی سچی ثابت ہوئیں؟

5۔ سوچ سمجھ کے خبر پر نظر دوڑانا چاہئے اور خبر کے ہر پہلو پر نظر رکھئے ایسا نہ ہوا کہ جو خود کو پسند ہے صرف اس پہلو کو پھیلایا جائے۔

6۔ خبر پر اپنی پسند و نا پسند مسلط نہ ہونے دیں اور حقیقت کو دیکھ کر اپنی رائے دیں۔

کیا یہ حققیت نہیں ہے کہ آج جو ہم پرسکون اور پرامن زندگی بسر کر رہے ہیں وہ کس کی قربانیوں سے ملا ؟ 
کس وجہ سے ہے؟
کتنے ہمارے فوجی جوانوں نے اپنی قیمتی جانیں نچھاور کیں اور کتنے  عام پاکستانیوں نے قربانیاں دیں؟

آج ہماری ریاست جوکہ ماں  ہے ایک پرامن طریقے سے اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے اور اپنے بچوں سے پیار و محبت سے پیش آ رہی ہے۔

بس ہمیں دشمن کے پروپیگنڈا کے خلاف اس میں حصہ لینا ہوگا اور جو ریاست پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بچھاتے ہیں ان کو سمجھنا ہوگا اور اس کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔

پاکستان ہے تو ہم ہیں، اللّٰہ سے دعا ہے کہ پیارا پاکستان تا قیامت رہے (آمین) کیونکہ یہ 27 رمضان المبارک کو بنا ہے اور اس کی بنیاد ہے :- لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ