The Family System - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Family System - Insaf Blog

 

خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہوتی ہے۔ خاندان ملکر معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں۔ خاندان کی تشکیل دو طریقے سے ہوتی ہے۔ پہلا پیدائشی اور دوسرا اختیار کرنے مثلاً شادی وغیرہ
 خاندان کے بنیادی دو مقاصد ہوتے ہیں۔ پہلا نسل انسانی کی روانی اور دوسرا تعلیم وترتیب
پہلے مقصد نسل انسانی کی روانی کو میں  physical اور دوسرے کو   social کہتا ہوں۔  جب دنیا میں صنعتی انقلاب آیا تو دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ خاندانی نظام پر بھی بہت زیادہ اثر انداز ہوا ۔ آج ہم سائنس وٹیکنالوجی کی صدی میں رہ رہے ہیں۔ ضروریات کے لئے ہمارا انحصار مشینوں پر ہیں۔ ہم مشینوں کے محتاج ہے۔ اس لئے ہماری زندگی میں مشینوں کے اثرات نمایاں ہیں۔ پہلے دور میں زراعت کے لئے ہمیں زیادہ انسانی وسائل کی ضرورت پڑتی تھی ۔ اس لئے مشترکہ خاندانی نظام کامیاب تھا۔ کیونکہ ہماری ضروریات مشترکہ خاندانی نظام سے پوری ہوتی تھی۔ آج کے دور میں چونکہ ہماری ضروریات مشینوں سے پوری ہورہی ہے اس لیے ہم مشینوں کے محتاج ہیں۔ آج ایک طرف مشینوں نے ہماری زندگی کو سہل بنادیا تو دوسری طرف ہمیں تن تنہا کردیا۔ ہمارے physical مقصد پورے ہورہے ہے جبکہ سوشل مقصد یعنی تعلیم وترتیب کا مقصد بگاڑ کا شکار ہیں۔ آج والدین کے ہاتھوں میں موبائل فون کے آنے سے بچوں کی پرورش کے لیے وقت نہیں۔ بچوں کو چپ کرانے کے لیے موبائل فون ہاتھ میں پکڑا کر کارٹون لگا دیتے ہیں۔ جس سے وقتی طور پر بچہ چپ ہو جاتا ہے لیکن بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ کیونکہ بچوں کے ساتھ زبانی مشقیں کرانے کی روایت نہیں رہی۔ جس طرح چند سال پہلے تک بچوں کو دادی اماں کہانیاں سناتی۔ نماز پڑھاتی۔ زبانی مشقیں ذہنی نشوونما کے لیے بہت مفید اور ضروری ہوتی ہے۔ کیونکہ مشینوں نے انسانی زندگی کو سہل تو بنا دیا مگر انسانی ذہن پر تالے لگا دیئے۔ خاندان کے درمیان گپ شپ اور بات چیت کا روایتی انداز بدل کر "   مشینی" ہوگیا۔ آج ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ہم اجنبیوں کی طرح رہتے ہیں۔ خاندانی نظام میں الفت و محبت ہوتی تھی۔ آج مشینی دور نے اس کا جنازہ نکال دیا۔  غم و شادی کے موقع پر ہفتوں تک یاردوست ساتھ ہوتے۔ غم و خوشی کے لمحات شئیر کرتے تھے۔ آج مشین " موبائل" کے بٹن تک محدود رہ گئے ہے۔ غم و خوشی کے موقع پر ایک مختصر میسج کے ذریعے شرکت کی جاتی ہے۔ رشتوں کے اندر خلوص پیار و محبت معدوم ہو چکی ہے۔ بڑوں کی عزت و تعظیم کی روایت ختم ہوچکی ہے۔ کیونکہ مشینوں نے ہمارے اندر کے انسان کو مشین بنا دیا ہے۔ جو انسان اور انسانیت کے اقدار کی بجائے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق عزت و تعظیم کراتے ہے۔ اگر ضرورت ہو تو تعظیم وعزت ورنہ  گھاس تک نہیں ڈالتے۔مشینوں کی وجہ سے ہمارے اندر انسانی حس ختم ہوچکی ہے۔ ہم مشین بن گئے ہے۔ اس لئے ہمیں کسی کی غم و تکلیف کا احساس نہیں ہوتا۔ اسی لیے معاشرہ مکمل طور پر انحطاط کا شکار ہیں۔نہ رشتوں کی پاسداری، نہ عزت واحترام، نہ غریب کے دکھ درد کا احساس ۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں پر الزامات لگانے کے بجائے اپنے گریبان میں دیکھے۔ اور پہلی فرصت میں خاندانی نظام کو ازسرنو تشکیل دیں۔