Budget Special 2020-21 - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Budget Special

 

پاکستان جب کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے نمٹنے میں مصروف تھا ، حکومت پاکستان کرونا ذدہ معشیت کو سنبھالنے کیلئے اقدامات کر رہی تھی ، اس نازک وقت میں بھی ہماری سو کالڈ اپوزیشن سیاست کرنے میں مصروف تھی ۔ پوری دنیا ایک عالمی جنگ عظیم کی سی کیفیت سے دوچار تھی اور ہماری نااہل اپوزیشن اس موقع کو کیش کرنے کی سازشوں میں مصروف تھی ۔ لیکن پاکستانی قوم نے انہیں شکست سے دوچار کیا ، ہمیشہ کی طرح شکست خوردہ اپوزیشن کو سب سے بڑا جھٹکا بجٹ 2020-2021 کے منظور ہونے پر لگا ، BNP مینگل کے اپوزیشن کے حق میں ووٹ دینے کے باوجود حکومت کو 40-41 ووٹوں کی برتری حاصل رہی۔ اتنی بری شکست کا سامنا متحدہ اپوزیشن نے یقیناً پہلے کبھی نہیں کیا ہوگا ۔ اور وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنے والے پارٹی کے چیرمین صاحبان کو کم از کم اب اپنی اپنی پارٹی سے مستعفی ہو جانا چاہیے ۔
اپوزیشن نے بجٹ کو ناکام کرنے کی حتی المقدور کوششیں کی۔ بجٹ 2020-2021 ان حالات میں پیش کیا گیا جب بیشتر معاشی مفکرین توقع کر رہے تھے کہ شاید اس مرتبہ حکومت بجٹ نہ پیش کر سکے ، لیکن یہ وزیراعظم عمران خان کی حکمتِ عملی اور دور اندیشی کا نتیجہ تھا کہ ان نامساعد حالات میں تحریک انصاف نے بہترین اور تاریخی بجٹ پیش کیا۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے اور کاروبار کو آکسیجن فراہم کرنے کیلئے بجٹ کو ٹیکس فری رکھا گیا ۔ حتیٰ کہ ملک دشمن قوتوں کا وزیراعظم پر بہت پریشر تھا کہ ملک میں کرفیو کی سی صورتحال پیدا کی جائے اور پہلے سے دھکا اسٹارٹ معشیت کو دوبارہ ICU میں منتقل کردیا جائے ۔
چونکہ بنیادی طور پر یہ خسارے کا بجٹ ہے ، اس لیے اس بجٹ میں فرمائشی لوازمات کی توقعات رکھنا محض بے وقوفی ہے ۔ یہ عوام دوست اور کاروبار دوست بجٹ ہے ، بجائے اس کہ اس ٹیکس فری بجٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی یکجہتی دکھا کر خسارے کے اس تخمینے کو کم کرنے کیلئے محنت کرنے کا منصوبہ بناتے۔ اس نا اہل اپوزیشن جس نے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ، انہوں نے اس بجٹ کے خلاف ایک سائبر وار کی یلغار کر دی۔ پہلے اپنی Paid سوشل میڈیا سیلز کی وساطت سے پہلے تعلیم اور دفاع کے بجٹ کے تناسب کو متنازع بنا کر عوام کو بددل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن صد شکر پاکستان کے باشعور طبقے کا جنہوں نے سوشل میڈیا پر عوام کو باور کروایا کہ صوبائی اور وفاقی دفاع کی تمام تر اخراجات کی ذمہ داری وفاق پر عائد ہوتی ہے ، جبکہ تعلیم اور صحت کی ذمہ داری وفاق اور صوبوں کی اپنی اپنی ہوتی ہے ۔ تعلیم اور صحت کا وفاقی بجٹ پچھلی حکومتوں کے بجٹ سے زیادہ ہے ۔ 
اس محاذ پر ناکامی کے بعد اپوزیشن نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے نہ ہونے کے معاملے کو کیش کرنا چاہا۔ آئی ایم ایف نے حکومت کو تنخواہ اور پینشن میں کٹوتی کرنے کا کہا جس کا حکومت نے انکار کیا ، بجائے اس کہ حکومت کے اس اقدام کو سراہا جاتا ۔ اپوزیشن نے سرکاری ملازمین کی توجہ اصل بات سے ہٹا کر تنخواہیں اور پینشن نہ بڑھنے کی طرف مبذول کروا دی۔ لیکن اس بار بھی بری طرح ناکام ہوئے کیونکہ ملک بھر کے سرکاری ملازمین کا ردعمل ملا جلا تھا۔ اس لیے حکومت کو سرکاری ملازمین کی طرف سے احتجاج کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ اور حال ہی میں حماد اظہر کا منی بجٹ میں سرکاری ملازمین کو ریلیف دینے کے اعلان نے اپوزیشن کے سپنوں پر پانی پھیر دیا۔
بلاول بھٹو اور خواجہ آصف  نے سرکاری ملازمین کو بھڑکانے کیلئے طرح طرح کے بیانات دیتے رہے ۔ یہ دونوں لیڈران جس طرح سرکاری ملازمین کے دکھ میں شریک ہو رہے تھے اس کی مثال بالکل اس طرح تھی جیسے قاتل مقتول کے جنازے میں شریک ہو کر بلند و بالا بین کرتا ہے ۔ یہ بین کرنے والے حکومت چھوڑ کر گئے تھے تو صرف پانچ سالوں میں ملکی قرض 31 ہزار ارب کی بلند ترین سطح پر تھا ، اس پر موجود سود کی رقم ادا کرنے کی وجہ سے عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔
کرنٹ اکاونٹ خسارہ 20 ارب ڈالر چھوڑ کر گئے جو کہ تحریکِ انصاف کی حکومت نے مشکلات سہہ کر ، اپنے ووٹ بینک کو داو پر لگا کر اس خسارے کو 20 ارب ڈالر سے کم کر کے 3 ارب ڈالر کی سطح پر لائی ۔
تجارتی خسارہ جو کہ 32 ارب ڈالر تھا ، پی ٹی آئی حکومت اسے 15 ارب ڈالر تک لے کر آئی ہے ۔ 
گزشتہ حکومت میں برآمدات میں اضافہ صفر رہا جبکہ موجودہ دورِ حکومت میں برآمدات میں واضح اضافہ ہو رہا ہے ، حال ہی میں پاکستان کے بنائے ہوئے اوون برآمد کرنے کا بین الاقوامی معائدہ طے ہو چکا ہے ۔
بین کرنے والی کمپنی نے روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر مستحکم کئے رکھا اور جس کی بدولت ڈالر کی قدر میں ہوشربا اضافہ ہوا ، جس کا خمیازہ عوام نے مہنگائی کی صورت میں بھگتا ۔
انہوں نے منی لانڈرنگ ، کک بیکس اور ٹی ٹیز کی بدولت پاکستان کو FATF کی گرے لسٹ میں ڈلوایا ۔ اور اب یہ سو کالڈ محب الوطن مجودہ حکومت کی کارکردگی پر سوال کرتے ہیں اور بارہا ایک رٹا رٹایا بیان داغتے رہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے معشیت کو تباہ کر دیا ہے ۔
تو ان دانشوروں کیلئے جواب حاضر ہے کہ اس حکومت میں پرائمری سرپلس مثبت ہو کر GDP کے 0۰4 فیصد تک رہا ، جو پاکستان کی دس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ۔
FBR کے ریونیو میں 17 فیصد جبکہ نان ٹیکس ریونیو میں 134 فیصد اضافہ ہوا ۔
اس حکومت نے پچھلی حکومتوں کے لیے ہوئے قرضوں کی مد میں 5000 ارب کا سود ادا کیا ۔
فارن ریمیٹینس میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ، جبکہ بیرونی سرمایہ کاری 0۰19 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2۰15 ارب ڈالر کی ہو گئی ۔
بین الاقوامی ادارہ موڈی نے پاکستان کی معشیت کو منفی 3 سے مثبت 3 کا درجہ دے دیا ۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو مستحکم بنانے پر حکومت اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے ۔ 
BLOOMBERG نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دسمبر 2019 میں دنیا کی ٹاپ پرفارمنگ مارکیٹس میں شمار کیا ۔ اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی بلڈنگ دھشتگردوں کا ناکام حملہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کی بحالی کی گواہی دیتا ہے جو کہ پاکستان مخالف قوتوں سے ہضم نہیں ہو رہی۔ 
مزید یہ کہ حکومت نے بجٹ کی سرمایہ کاری کیلئے اسٹیٹ بنک آف پاکستان سے قرض لینا بند کر دیا ۔ 
حکومت پاکستان نے اس بجٹ میں عوام ، تاجروں اور کسانوں کو خاطرخواہ ریلیف دیا ۔ 
حکومت نے احساس پروگرام کیلئے  208 ارب روپے مختص کیے ۔
کورونا کے تدارک کی 1200 ارب کا فنڈ مختص کیا جبکہ دیگر  قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے  70 ارب روپے مختص کیے ۔
جموں کشمیر کیلئے 55 ارب ، گلگت بلتستان کیلئے 30 ارب ، خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 56 ارب ، سندھ کیلئے 19 ارب اور بلوچستان کیلئے  10 ارب کی خصوصی گرانٹ دیں جو کہ مطلوبہ NFC ایوارڈ سے ذیادہ ہیں ۔ اس کے علاوہ کشمیر اور بلتستان کے ترقیاتی پراجیکٹس کیلئے 40 ارب جبکہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 48 ارب روپے مختص کیے ۔
تعلیمی اصلاحات کیلئے 5 ارب ، ماڈرن ایجوکیشن کیلئے 30 ارب  ، ہائیر ایجوکیشن کیلئے 164 ارب روپے مختص کیے ۔
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کیلئے 20 ارب مختص کیے ۔ وفاقی شبعہ صحت کیلئے 20 ارب جبکہ وفاق کے ہسپتالوں کیلئے 13 ارب روپے مختص کیے گئے ۔
تعمیراتی شعبے کیلئے  30 ارب، اصلاحاتی پروگرام جیسا کہ پرائیویٹ پارٹنرشپ کیلئے 10 کروڑ ، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کیلئے 40 کروڑ جبکہ پاکستان انویشن کیلئے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ۔
تحفظِ خوراک اور ذراعت کیلئے 12 ارب روپے جبکہ ٹڈی دل کی روک تھام کیلئے 10 ارب روپے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے 6 ارب روپے مختص کئے گئے ۔
پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ کیلئے مجموعی طور پر 650 ارب روپے مختص کئے گئے ۔ اور SUSTAINABLE ڈویلپمنٹ کیلئے 24 ارب روپے مختص کئے گئے ۔
بجلی کی طلب اور پیداوار کے گیپ کو ختم کرنے کیلئے 80 ارب روپے جبکہ آبی وسائل کیلئے 69 ارب مختص کئے گئے ۔ توانائی ، خوراک اور دیگر شعبوں کو سبسڈی دینے کیلئے 179 ارب روپے مختص کئے ۔
رمیٹینس بڑھانے کے اقدامات کیلئے 25 ارب، کامیاب نوجوان کیلئے 2 ارب اور ای گورننس کیلئے 1 ارب روپے مختص کئے گئے ۔
مواصلات کیلئے 118 ارب اور پاکستان ریلوے کیلئے بالخصوص 40 ارب روپے مختص کئے گئے ۔
فنکاروں کی مالی امداد کیلئے 1 ارب جبکہ دیگر ترقیاتی پروگرام کیلئے 20۔ارب مختص کئے گئے ۔
اور اس بجٹ میں افغان امن مراحل کیلئے فنڈ مختص کیا گیا جو حکومت کی خارجہ پالیسی اور اسٹریٹیجک ڈویلپمنٹ کی بہتری کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔
ان نامساعد حالات میں یہ بجٹ ایک تاریخی بجٹ ہے اور واضح اکثریت سے اس بجٹ کا منظور ہونا بھی تاریخی فتح ہے ۔ اس بجٹ پر عملدرآمد سے انشاءاللہ ملکی معشیت میں مثبت رجحان نظر آنے کی قوی امید ہے جبکہ آئندہ سالوں میں بھی اپوزیشن کے بین کرنے کی روایت کے برقرار رہنے کی بھی واضح امید ہے ۔