جہانگیر خان ترین | Pakistan Tehreek-e-Insaf
ممبر کور کمیٹی

جہانگیر خان ترین 1953 میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم سینٹ میری راولپنڈی اور صادق پبلک سکول بہاولپور سے حاصل کی ، میٹرک اور ایف ایس سی کا امتحان کراچی سے پاس کیا ، ایف سو کالج لاہور سے گریجوایشن کی ،اسکے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے جہانگیر خان ترین امریکہ چلے گئے اور یونیورسٹی آف کیرولینا سے 1974 میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی 

جہانگیر خان ترین کے پاس پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی مختلف فیلڈز میں بہترین تجربہ ہے  ، انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے پبلک ایڈمنٹسریشن میں بطور لیکچرر بھی اپنی خدمات سر انجام دیں اور اسکے بعد تین سال کے عرصے کیلئے گرائنڈ لیز بینک میں خدمات سر انجام دیں 

سن 1978 میں بینک چھوڑنے کے بعد جہانگیر خان ترین نے اپنے خاندانی فارم پر کام شروع کیا ، انہوں نے ایک قریبی بنجر زمین کو خرید کر اس پر محنت شروع کی اور بیس سال کی محنت سے اسکو فعال کیا . جہانگیر ترین اس وقت آم ، کپاس اور سبزیوں پر مشتمل 2000 ایکڑ سے زائد رقبے پر کاشتکاری کے جدید طریقوں سے کاشتکاری کر رہے ہیں 

جہانگیر خان ترین کا کاروباری تجربہ اس وقت شروع ہوا جب وہ 1981 میں اپنے  مشروبات کے خاندانی کاروبار کے سی ای او بنے اگلے آٹھ سالوں میں انہوں نے کاروبار کو ترقی کی نئی راہوں پر ڈال دیا اور 1989 میں پیپسکو انٹرنیشنل نے ان کو لاہور میں ایک فرینچائز کی آفر کی ، جہانگیر خان ترین نے فرینچائز کا اختیار سنبھالا اور 1991 میں ریاض بوٹلرز کے چیئرمین بنے اور اسکو پاکستان کی ایک بہترین فرینچائز بنایا ،اسکے بعد جہانگیر خان ترین شوگر ملز کے کاروبار میں آئے اور 1992 میں اپنی پہلی شوگر مل "جے ڈی ڈبلیو" کے نام سے بنائی اور یہ پاکستان کی بڑی اور موثر ترین شوگر مل بنی ،یہ پاکستان کی واحد شوگر مل ہے جو اپنے ہی کاشت کئے گئے 30،000 ایکڑ پر مشتمل گنے پر چلتی ہے جس میں گنے پر ریسرچ کرنے کیلئے ایک آرگنائزیشن بھی ہے ،یہ مل چھوٹے کاشتکاروں کی ترقی، گنے کی پیداوار میں اضافے کیلئے ریسرچ  اور منافعے کیلئے بھی کام کرتی ہے اور ساتھ ہی یہ چھوٹے کاشتکار صحت و تعلیم کے اقدامات سے بھی مستفید ہوتے ہیں  ، جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کے کین ڈویلپمنٹ پروگرام کے باعث رحیم یار خان میں گنے کی فی ایکڑ پیداوار دگنی ہو چکی ہے 

اسکے ساتھ ساتھ کاشتکاری کے جدید طریقے اپنانے کی وجہ سے فی ایکڑ لاگت میں بھی واضح کمی واقع ہی ہے ، یہ سب شوگر کین ڈویلپمنٹ ، کسانوں کی ٹریننگ ، کسانوں کی حوصلہ افزائی اور بر وقت ادائیگیوں کی وجہ سے ممکن ہو پایا .2016 میں جے ڈی ڈبلیو کی ریکوری 8.2 فیصد سے بڑھ کر 11 فیصد ہو گئی 

پبلک سروس:

جہانگیر خان ترین 1997 میں عوامی خدمت کے شعبے میں داخل ہوئے جب ان کو پنجاب ٹاسک فورس برائے زراعت کا چیئرمین بنایا گیا ، جدید اور تخلیقی پالیسیوں پر عمل درامد کی بدولت شعبہ زراعت میں انقلابی تبدیلیاں آئیں ، جن میں سب سے واضح تبدیلی یہ تھی کہ زراعت کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کی نشونما میں واضح کمی واقع ہوئی جو کہ محمکہ زراعت کے ون ونڈو سسٹم کے تحت ممکن ہوا ، جسکے تحت چھوٹے کسانوں کو آسان شرائط پر زرعی ترقیاتی بینک سے قرضے دستیاب تھے

جہانگیر خان ترین نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پبلک سیکٹر میں بھی استعمال کیا اور فصل کو منظم کرنے کی ایک تنظیم بنائی جس کا کام ہر ایک بڑی فصل کے پروڈکشن سائکل کو منظم کرنا تھا . اس کمیٹی میں زراعت کے ماہرین ، بڑے بڑے کسان اور دوسرے سٹیک ہولڈر شامل تھے 

جولائی 2001 میں جہانگیر خان ترین کو چیئرمین پنجاب ٹاسک فورس برائے گندم پیداور بنایا گیا . انہوں نے گندم کی کاشتکاری ، کٹائی اور خریداری کی مکمل طور پر تنظیم نو کی جسکی وجہ سے کرپشن میں واضح کمی واقع ہوئی ، انہوں نے اضافی گندم کو محفوظ کرنے اور برآمد کرنے پر بھی بہترین حکمت عملی بنائی 

جولائی 2001 میں اسی وقت جہانگیر خان ترین کو سٹیٹ بینک کی کمیٹی برائے دیہی مالیات کا چیئرمین بنایا گیا جسکا مقصد ملک میں  دیہاتی سطح پر مالیات میں موجود مسائل کو حل کرنا تھا . اس کمیٹی کا مقصد ملک کے موجودہ دیہاتی مالیاتی نظام کا جائزہ لینا تھا اور ایک ایسی پالیسی کو کاغذ پر ڈرافٹ کرنا تھا جس میں دیہاتی مالی نظام کی غلطیوں اور کمیوں کا جائزہ لینا تھا اور ان کو بہتر کرنے کیلئے ایک خودکار اور معیاری نظام بنانا تھا ، ، ،اس کمیٹی نے متعدد ایسی سیشن اور سیمینار کئے جس میں لوگوں کو دماغی طور پر ٹرین کیا گیا ، معاشرے کے مختلف لوگوں سے ملنا اور ان کے انٹرویوز لینا اور ان کو مسائل کا حل فراہم کرنا بھی اس کمیٹی کا ایک اہم کام تھا . اس کمیٹی نے مکمل تفصیل کے ساتھ اپنی تجاویز پیش کیں جو اب بھی ایس بی پی کی ویب سائٹ پر موجود ہیں 

سیاسی کیرئر : 

جہانگیر خان ترین کا سیاسی کیرئر تب شروع ہوا جب وہ 2002 میں پہلی مرتبہ این اے 195 رحیم یار خان سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے ،اسکے بعد وہ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے زراعت اور معاشرتی سیکٹر میں نئے اقدامات مقرر ہوئے . اسکے بعد وزیر اعلیٰ کے دفتر میں ایک ایسا عہدہ قیام میں لیا گیا جسکا مقصد سنجیدہ مسائل کے حل کیلئے ایسی پالیسیاں بنانا اور ان پر عمل درآمد کروانا تھا جو کہ غیر روایتی ہوتیں اور پہلی کبھی نہیں آزمائی گئیں 

ان دو کامیاب ترین سالوں میں بہت ساری پالیسیاں بنائی گئیں اور ان پر عمل درآمد کروایا گیا ،جب میں سب سے قابل ذکر پنجاب ایجوکیشن ریفارمز پروگرام ، رحیم یار خان ماڈل آف پرائمری ہیلتھ کیئر مینجمنٹ ، پنجاب کی نئی صنعتی پالیسی  اور تنظیمی ماڈل کے سیکشن 42 کے تحت سندر انڈسٹریل فاونڈیشن کا قیام ہیں . 

جہانگیر خان ترین 2004 میں  شوکت عزیز کی وزارت عظمیٰ کے دوران وفاقی کابینہ میں بطور وزیر برائے صنعت ، پیداواری اور خصوصی اقدامات شامل ہوئے 

جہانگیر ترین اس حقیقت سے واقف ہیں کہ پاکستان کو روزگار پیدا کرنے  اور غربت کے خاتمے کے لئے اور  اقتصادی ترقی فراہم کرنے کے لئے تیزی سے صنعتی ملک بنانا چاہیے. اور اسکے ساتھ ساتھ غربت کے براہ راست خاتمے کی پالیسیاں بنانی چاہییں تا کہ معاشی ترقی کے ثمرات ایک عام آدمی کو بھی مل سکیں 

بطور وزیر برائے صنعت و خصوصی اقدامات جہانگیر ترین نے بہت سی سیکٹر ڈویلپمنٹ کمپنیاں تشکیل دیں جن میں ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اینڈ سکل ڈویلپمنٹ ، نیشنل انڈسٹریل پارکس ڈویلپمنٹ این مینجمنٹ ، پاکستان ڈیری ڈویلپمنٹ کمپنی ، پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی ، جیمز اینڈ جیولری ڈویلپمنٹ کمپنی وغیرہ شامل ہیں 

 

خدمت خلق : دیہاتی ترقی 

ترین صاحب کا یہ ماننا ہے کہ مستقل بنیادوں پر غربت کے خاتمے کیلئے معاشرے کو اختیارات دینا ہوتے ہیں تا کہ وہ خود کو غربت سے باہر نکال سکیں ، جہانگیر ترین کے اس یقین کی بدولت اور غربت کے خاتمے کے عزم کے تحت ہی انہوں نے 1991 میں  لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا جسکو اب گراس روٹس پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے . گااس روٹس پاکستان اس وقت نکاسی اب کا نظام ، پینے کا صاف پانی ، صحت کی سہولیات ، ووکیشنل ٹریننگ اور مصنوعی اعضاء کی فراہمی پر کام کر رہی ہے ، زیادہ تر جنوبی پنجاب میں کام کرتے ہوئے یہ آرگنائزیشن سالانہ ہزاروں لوگوں کی مدد کرتی ہے 

جہانگیر ترین نیشنل رورل سپورٹ پروگرام اور پنجاب رورل سپورٹ پروگرام میں بھی مکمل طور پر سرگرم ہیں . انہوں نے پاکستان پاورٹی ایلے ویشن کے ڈائرکٹر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دی ہیں ، جہانگیر خان ترین پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے بانی ممبران میں سے ایک ہیں 

 

ترین ایجوکیشن فاونڈیشن 

جہانگیر ترین تعلیم کی اہمیت پر یقین محکم رکھتے ہیں اسلئے انہوں نے 2010 میں ترین ایجوکیشن فاونڈیشن کی بنیاد رکھی . اس فاونڈیشن نے ضلع لودھراں میں 85 سرکاری سکولوں کو اپنایا . یہ قدم اٹھانے کا مقصد یہ دکھانا تھا دیہاتی علاقے کے غریب سے غریب لوگ بھی جدید تعلیم ایک باوقار طریقے سے حاصل کر سکتے ہیں ، ترین ایجوکیشن فاونڈیشن نے پچھلے چھ سالوں میں موجودہ سرکاری سکولوں کی حالت بہتر کرنے پر 30 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز خرچ کئے ہیں جس کے تحت سکولوں میں اضافی کلاس رومز ، فرنیچر کی فراہمی ، جدید کتب کی فراہمی ، دو سو سے زائد اساتذہ کی فراہمی ، 98 لوگوں کی ہیلپنگ سٹاف میں بھرتی ، لائبریریوں کا قیام  کمپیوٹر لیبز کا قیام ، اساتذہ کی تربیت  اور تعلیم کیلئے منفرد پروگرامز کا  کیا گیا 

ترین ایجوکیشن فاونڈیشن کے  پیشہ ورانہ عزم کی بدولت انفراسٹرکچر میں بہتری آئی ، سکولوں میں طلباء کی تعداد بڑھی ، سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی واقع ہی اور لودھراں کے  سکولوں کے اندر سیکھنے کے کلچر میں ایک مثبت تبدیلی آئی 
اقدام برائے بنیادی صحت جو کہ پنجاب میں شروع ہوا اب پاکستان کے 78 اضلاع  کے تمام بنیادی یونٹس کو منظم کرتا ہے ، اس نظام کو بین القوامی نمائندگان صحت کی جانب سے پاکستان کا مستقبل قرار دیا گیا ہے . جہانگیر ترین اس اقدام کے بانی ہیں اور اقدام برائے بنیادی صحت پر نیشنل سٹیرنگ کمیٹی کے موجودہ چیئرمین ہیں 


سال 2008 سے سیاسی کیریئر 

جہانگیر خان ترین نے 2011 میں قومی اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ ف سے استعفیٰ دیا اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی . ان کو پالیسی کی منصوبہ بندی ، شعبہ صحت پر کام ، تعلیم ، انرجی اور بلدیاتی حکومت پر کام کرنا کا چیئرمین بنایا گیا . اسکے بعد ان کو تحریک انصاف کا سیکرٹری جنرل بنایا گیا ،تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد جہانگیر ترین نے لودھراں کا رخ کیا اور عام انتخابات میں این اے 154 سے الیکشن لڑا ، وہ سرکاری طور پر الیکشن ہار گئے لیکن دو سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد اس الیکشن کو وسیع پیمانے پر دھاندلی کی بدولت کالعدم قرار دے دیا گیا . اس کے بعد سپریم کورٹ نے اس حقلے میں دوبارہ الیکشن کا حکم دیا اور 23 دسمبر 2015 کو اس حلقے میں ضمنی الیکشن ہوا ، جہانگیر ترین یہ یہ الیکشن ایک شاندار انداز میں 40,000 ووٹوں کی لیڈ سے جیتا ، باوجود اسکے کہ پنجاب اور وفاقی حکومت نے بھرپور طور اس حلقے میں سرکاری مشینری کا استعمال کیا تھا 

جہانگیر خان ترین اس وقت ممبر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے سیکٹری جنرل ہیں 

 

جہانگیر خان ترین کے بارے میں مزید معلومات اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہیں  https://jahangirktareen.com