The Use of Social Media - An Important Responsibility - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf
social-media-use-insaf-blog


زمانہ قدیم  میں انسان کو صرف زمینی ، فضائی اور سمندری جنگوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ لیکن دورِ حاضر کا سب سے بڑا خونی میدانِ جنگ "سوشل میڈیا " ہے ، جہاں انسانی دماغ بطورِ افواج لڑ رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پہ دیا گیا ایک مراسلہ (پوسٹ) ایک للکار ہے جس پہ ہزاروں ،لاکھوں کی تعداد میں صارفین تلوار کس کر کے میدان میں اتر آتے ہیں ۔ جن کا ایک ایک کمنٹ تلوار کی ضرب پہ بھاری ہوتا ہے ۔ حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ ہم ان حالات کے عادی ہو چکے ہیں اور دماغوں کی یہ جنگ (پراکسی وار) ہمارے روزمرہ کے معمول کا حصہ بن چکی ہے ، جسکی تباہ کاریوں کا اندازہ ہوتے ہوئے بھی ہم نہتے (عقل و فہم سے خالی ) اس میدان میں کود پڑتے ہیں ۔ سوشل میڈیا ففتھ جنریشن وار کا سب سے خطرناک اکھاڑہ ہیں 
سوشل میڈ یا صارفین سے گزارش ھے کہ سوشل میڈیا کی اصل طاقت کے متعلق آگاہی حاصل کریں ۔ سب سے پہلے تو اس دھوکے سے باہر نکل آئیں کہ سوشل میڈیا کا مقصد محض سماجی رابطہ اور  تفریح کا حصول ہے ۔ آج کا سوشل میڈیا ایک بین الاقوامی میڈیا ہے ۔ ۲۰۱۸ کے سروے کے مطابق دنیا کی کل آبادی 7۰6 بلین ہے اور جس میں سے 4۰2 ملین  لوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں اور 3۰03 بلین لوگ سوشل میڈیا کے صارفین ہیں اور ہر پندرہ منٹس میں سوشل میڈیا کے ایک نئے صارف کا اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان حقائق کو  جاننے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ سوشل میڈیا کس طرح ہمیں بین الاقوامی اکھاڑے میں کھڑے کیے ہوئے ہے۔ سوشل میڈیا ایک انتہائی حساس فورم ہے جس پہ ہمارا شیئر کیا ہوا ایک ایک خیال محفوظ ہو رہا ہے 
جو کہ ہمارے خلاف پراکسی وار چلانے والوں کی بلامعاوضہ مدد کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پہ ھماری ایک ذاتی رائے ہمارے وطن کےلئے کس حد تک خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ،ہم سب کےلیے یہ جاننا نہایت ضروری ہے ۔ سوشل میڈیا سب سے حساس زریعہ مواصلات ہے جو صحافت جیسے میدان کو بھی مواد مہیا کرتا ہے ۔ ٹویٹر (سوشل میڈیا ویب سائٹ ) نے تو ماس میڈیا اور سوشل میڈیا کے مابین گیپ کو ختم کر دیا ہے ، جہاں صحافی حضرات مخصوص لوگوں کے مراسلات اور ان کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے ان معلومات کو اخبار  اور ٹیلیویژن کی زینت بنا دیتے ہیں ، اور  جسے بنیاد بنا کر ایک لامتناہی بحث چھڑ جاتی  ہے جو دوسروں پہ الزام تراشی سے لے کر دوسروں کی کردار کشی کے تمام مراحل طے کر لیتی ہے ۔
بلاشبہ سوشل میڈیا کے استعمال کے بہت سے مثبت فوائد بھی ہیں ۔ یہ شعور اور علم کی راہیں بھی کھولتا ہے اور  حالاتِ حاضرہ سے باخبر بھی رکھتا ہے ، لیکن اس تحریر کا مقصد آپ کو سوشل میڈیا کے قومی اور بین الاقوامی سطح پہ منفی اثرات کے متعلق آگاہ کرنا ہے کیونکہ سوشل میڈیا ایک ڈیجیٹل دنیا ہے جہاں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کےلیے سکینڈ درکار ہوتے ہیں ۔ صرف فیس بک میسنجر اور  واٹس ایپ پہ ارسال اور موصول ہونے والے روزانہ کے پیغامات کی تعداد تقریباً ساٹھ بلین ہے۔ 
قصہ مختصر یہ کہ آپ جب بھی اس میدان میں اتریں تو مکمل تیاری سے اپنے عقل و فہم کو بروئے کار لاتے ہوئے سوشل میڈیا کو استعمال کریں ، اور پاکستان کے ذمہ دار شہری ہونے کے ناتے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں ،  
سوشل میڈیا پہ ملنے والی کسی بھی خبر کو بغیر تصدیق کے آگے مت پھیلائیں کیونکہ سوشل میڈیا کے یہ مراسلے کسی محاذ سے کم نہیں ہیں اور/  اس کا تعلق ہماری قوم کی ذہنی نشوونما سے ہے۔ اور اپنے ملک کی بقا کےلیے اپنے ملک و قوم کی حفاظت کرنا ہم سب پہ فرض ہے جس سے کوئی بھی بری الزمہ نہیں ہوسکتا ۔
از تحریر : طیبا سید