Pandit Nehru and Molana Azaad's Political Successor Fazal Ur Rehman - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf
pandit-laal-nehru-insaf-blog

 

پنڈت نہرو اور مولانا آزاد کا سیاسی جانشین فضل الرحمان۔ کانگریسی سوچ کا تسلسل ہے۔ 


"نہرو نے ہم پر مذہبی جنگ مسلط کی ہے تو ہم بھی اعلان جنگ کرتے ہیں اور یہ جنگ اپنے دفاع کیلے ہے"۔ ہندستانی سیاست میں سب سے پہلے مذہبی جذبات کو ابھارنے کا نعرہ چانکیہ کے پیروکار نہرو نے لگایا تھا۔ جب 1937 کے انتخابات میں اس نے اپنے جلسوں میں ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو استعمال کیا۔ اور مذہب کی نفرت میں اپنا ووٹ بینک بڑھانے کی بھرپور کوشش کی۔ اسکے برعکس قائداعظم نے نہرو کے اس کام کی مذمت کی اور کہا کہ نہرو و کانگریس آگ سے کھیل رہی ہیں جس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔ ہندستان میں صرف ہندو نہیں مسلمان بھی ہیں۔ اور نہرو نے ہم پر مذہبی جنگ مسلط کی ہے تو ہم بھی اعلان جنگ کرتے ہیں اور یہ جنگ اپنے دفاع کیلے ہے۔ (ٹرانسفر آف پاور جلد ہشتم ) 

نہرو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آج پاکستانی سیاست میں مذہبی نفرت کو ابھارنے میں فضل الرحمان پیش پیش ہے۔ بعین وہی انداز وہی مفاد وہی جذبات ہیں اور مقصد مذہب کو استعمال کرکے اپنا ووٹ بینک بڑھانا ہے۔ اور فضل الرحمان جانتا ہے وہ آگ سے کھیل رہا ہے۔ وہ اپنے جلسوں میں علی اعلان سیاسی مخالفت میں مسلک مذہب اور ایمان پر حملے کررہا ہے۔ جبکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے ایک مسلمان کیلئے سب سے اہم اس کا ایمان ہی ہوتا ہے۔ جب آپ کسی کے ایمان پر حملہ کریں گے تو آپ جان بوجھ کر آگ سے کھیل رہے ہیں۔ اور اپنے چند ووٹوں کیلے ملک میں نفرت اور دشمنی کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ 

اگر پوچھا جائے کہ اس الزام کا مقصد کیا ہے جواب جلسوں میں خواتین کا ناچ گانا ملتا ہے۔ جبکہ فضل الرحمان خود جانتا ہے وہ کھوٹ بول رہا ہے اور عوام کو گمراہ کررہا ہے۔ جلسوں میں خواتین کا ناچ گانا بہت پہلے نوے کی دہائی میں پی پی نے شروع کیا تھا اور جیت کی خوشی میں خواتین کا ناچ گانا نوازشریف نے شروع کروایا تھا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کیسی تہذیب ہے جو جلسوں میں ناچ گانا سے مسلط ہوجائے گی۔ سوال یہ ہے کہ ناچ گانا یہودی تہذیب ہے یا صرف تحریک انصاف کے جلسوں کا ناچ گانا یہودی تہذیب ہے۔ پنجاب اور وفاق کے سرکاری سکولوں کالجوں میں سرکاری سرپرستی میں جو خواتین کے ناچ گانا کے فنکشن ہوتے اور جس میں فضل الرحمان کے اتحادی ممبران اسمبلی شامل ہوتے تھے۔ جو میڈیا پر بھرپور دکھائے جاتے تھے۔ اس سے یہودی تہذیب پروان کیوں نہیں چڑھی اس سے اسلام کو خطرہ کیوں نہیں۔ پیپلز پارٹی کے جلسے ہوں یا ن لیگ کے فتح کے جشن خصوصی طور پر خواتین کو نچایا جاتا ہے۔ وہاں یہ فتوی خاموش کیوں ہوجاتا ہے۔ 

حقیت یہ ہے فضل الرحمان کےپی کے اور فاٹا کو اپنے ملکیت سمجھتا تھا۔ تحریک انصاف نے آکر اسے چیلنج کیا اور بدترین شکست سے فاش کیا جو اب ہضم نہیں ہورہی۔ اور ہر طرف سے آنکھیں بند کرکے صرف تحریک انصاف پر زبان درازی کی جارہی ہے جو مذہب اور تہذیب کی جنگ نہیں بلکہ اپنا ووٹ بینک بچانے اور اپنے مفاد کے بچاؤ کی جنگ لڑ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب فضل الرحمان کے پاس بیچنے کیلے صرف ایک چیز باقی بچی ہے اور وہ ہے فاٹا کا چورن۔ اب اگلے الیکشن تک بلا ناغہ فاٹا پر بیان بازیاں ہوگئیں۔ 

آئندہ جب بھی فضل الرحمان یہودی کلچر اور تہذیب کی بات کرے۔ اس سے دلیل مانگیں پھر اس دلیل کی روشنی میں جمعیت علما ف سمیت پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کو پرکھیں۔ حقیقت آپ کے سامنے ہوگی کہ فضل الرحمان کا یہودی تہذیب و کلچر کا نعرہ کتنا بڑا جھوٹ و بہتان ہے۔ نہرو و کانگریس کی سوچ کا تسلسل ہے۔ کانگریس کی طرح عوام کو مذہب و مسلک میں تقسیم کرکے اپنا الو سیدھا کرنا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں نفرت کو بڑھانا اور قوم کو تقسیم کرکے مفاد حاصل کرنا ہے۔ اس کا جواب وہی دیا جائے گا جو قائداعظم نے نہرو کو دیا تھا۔ "نہرو نے ہم پر مذہبی جنگ مسلط کی ہے تو ہم بھی اعلان جنگ کرتے ہیں اور یہ جنگ اپنے دفاع کیلے ہے"۔ یاد رکھیں پاکستان میں جو بھی مذہبی جذبات کو استعمال کرکے سیاسی دکانداری چلائے گا وہ پنڈت نہرو کا سیاسی جانشین فضل الرحمان کہلائے گا اور کانگریسی سوچ کا تسلسل ہوگا۔