nawaz-sharif-attack-on-pakistan-insaf-blogs

پاکستان اور بھارت ستر سال سے ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وارز لڑ رہے ہیں۔ لیکن آپ کو ہر حال میں اپنے وطن کے مفاد کو مقدم رکھنا ہوتا ہے۔ اور جب آپ ملک کے سربراہ رہ چکے ہوں تو آپ اس کا حلف بھی لے چکے ہوتے ہیں کیونکہ آپ کے سینے میں بہت سے راز ہوتے ہیں۔ کچھ پاکستانی اب بھی نواز شریف کے اس بلنڈر کا دفاع کرتے نظر آرہے ہیں۔ ان سے عرض ہے کہ کلبھوشن کا نام تو سنا ہوگا آپ نے؟ اگرچہ پاکستان کے تین بار کے وزیر اعظم کے منہ سے کبھی نہیں لیکن پھر بھی سنا تو ہوگا۔ وہ خود اپنے منہ سے پاکستان میں دہشتگردی کا نیٹ ورک چلانے اور دہشتگردی کی متعدد کاروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کرچکا ہے جس میں سیکنڑوں پاکستانی شہید ہوئے۔ وہ اعتراف کرچکا ہے کہ وہ انڈین نیوی کا حاضر سروس آفیسر اور راء کا ایجنٹ ہے۔ کچھ لنڈے کے انگریز اور احساس کمتری کا شکار پاکستانی اسے بھی معصوم اور پاکستانی آرمی کی سازش کہتے ہیں لیکن اس کا خاندان بھارت سے اسے ملنے بھی آچکا ہے۔ اس کے بارے میں بھارتی ریاست و قیادت کا رویہ ملاحظہ کریں کہ بھارت عالمی سطح پر اس کا مقدمہ لڑرہا ہے اور بین الاقوامی فورمز پر اس کے لیے آواز اٹھاتا ہے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ کبھی انڈیا کی اعلی قیادت بھی نواز شریف کی طرح یہ کہے گی کہ اسے ہم نے بھیجا؟

 پھر سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس ہوا جس میں درجنوں پاکستانی زندہ جلادیئے گئے۔ انڈین آرمی کا حاضر سروس کرنل اس واقعے میں ملوث نکلا اور وہ اس وقت بھارتی سرکار کا ہیرو ہے اور کلبھوشن کی طرح اس کا بھی دفاع کیا جاتا ہے۔ میں آپ کو بھارتی وزیر اعظم سمیت متعدد ہائی آفیشلز کے ویڈیو بیانات دکھا دیتا ہوں جس میں وہ کھلے عام بلوچستان میں مداخلت کا فخر سے اعتراف کررہے ہیں اور برملاء کہہ رہے ہیں کہ بنگلہ دیش کی طرح بلوچستان کو بھی علیحدہ کیا جائے گا۔ ماضی میں چلیں جائیں تو ساری دنیا کو پتہ ہے کہ بنگلہ دیش بنانے میں بھارت کا کردار سب سے اہم تھا اور بھارتی آفیشلز اس پر فخر کرتے ہیں۔ غرض دونوں ممالک کو جہاں جتنا موقع ملا ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

لیکن جو نواز شریف نے کیا وہ تصور سے بالاتر ہے۔ ایک ملک کا تین بار کا وزیراعظم کیسے اپنے ملک کے خلاف بیان دے سکتا ہے۔ آپ ذرا تصور کریں کہ ایسا شخص ہمارا تین بار وزیراعظم رہ چکا ہے۔ مجھے تو نواز شریف کے اس رویے کی دو وجوہات ہی سمجھ میں آرہی ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ شاید واقعی اپنے حواس کھو چکا ہے۔ اس کے متعدد بیانات سے ایسا ہی لگتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اسے خود تو پتہ ہے کہ وہ ڈاکو ہے اور اسے اپنے مستقبل کا بھی پتہ ہے کہ جیل ہے اس لیے وہ خود کو اور لوٹ مار کے مال کو بچانے کے لیے ہر کوشش کررہا ہے۔ یہ بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی اور کوشش ہوسکتا ہے۔ اس بیان نے ساری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کروالی ہے۔ اب جب مستقبل قریب میں نواز شریف کو سزا ہوگی تو دنیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے گی کہ چونکہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بولنے لگاتھا اس لیے اسے راستے سے ہٹادیا گیا۔ اس سے دنیا کی ہمدردیاں سمیٹنے اور ایک بار بھی ڈیل اور فرار کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

(محمد تحسین)