National Unity and Patriotism - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Qomi-Yakjehti-Insaf-Blog

وزیراعظم اسلامی جہموریہ پاکستان جناب عمران خان نے کل بھارت کو دوٹوک اور واضح جواب دیا تو یقینی طور پر بھارت میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ سب حیران و پریشان تھے۔ ہم اس وقت بطور انصافئین اور بطور پاکستانی ہونے پر فخر کررے تھے کہ ہمارے ملک کے سربراہ کے بیان نے دشمن کو خوفزدہ کردیا ہے۔
لیکن عین اسی وقت مسلم لیگ ن کی اکثریت اور کچھ صحافیوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان پر تنقید شروع ہوگئی ہے۔
حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب ہمیں اپنے سیاسی، مذہبی اور لسانی تعصبات اور اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ بہادری سے کھڑا ہونا تھا۔ لیکن مخالفین نے الٹا دشمن ملک انڈیا کے بیانیئے اور پالیسی کو لیکر آگے چلتے ہوئے عمران خان پر تنقید شروع کردی۔
اسی تنقید کو بھارتی میڈیا نے خوب اچھالا اور بھارتی عوام کو یہ ظاہر کیا کہ پاکستان کے آدھے لوگ بھارتی پالیسی سے اتفاق رکھتے ہیں۔ ہمارے لئے بظاہر آسان ہے اور واضح ہے کہ انڈین میڈیا اپنے عوام کو بے وقوف بنارہا ہے۔
لیکن ساتھ ایک چیز جو سچ ہے کہ ہمارے سیاسی مخالفین  بھی بھارتی بیانیئے کو فروغ دے رہے ہیں۔
اس سے ہمارا قومی اور ریاستی بیانیہ کمزور ہورہا ہے۔
 اس وقت ہمیں ایسا بیانئہ بنانے کی ضرورت ہو جس بیانیئے سے حب الوطنی کو فروغ ملے۔ ہم سبکو متحد ہوکر ایک بیانیہ اپنانا چاہئے جو ہمارے وزیراعظم کا ہے۔
دشمن کو بھی پتہ چلے، جب بات پاکستان کی ہو، تو سندھی، پنجابی، بلوچی اور پختون سے نکل کر ہم صرف اور صرف پاکستانی ہیں۔
ہم یکجان اور متحد ہیں۔ قومی ملی یکجہتی کا جذبہ بیدار ہوگا۔
یہ جذبہ ہندوستان کی سب سے بڑی شکست ہوگی۔ جب ہم متحد ہوکر اپنے وزیراعظم کے سنگ بھارت کو یہ پیغام دیں گے۔

ہم پاکستانی ہیں 
اس پرچم کے سائے تلے
قائداعظم کے فرمودات کے مطابق،
اپنے وزیراعظم کی زیر قیادت ہم ایک ہیں۔

اگر ہمیں میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش بھی کی، وہ دن دور جب دہلی پر بھی سبز ہلالی پرچم لہرائے گا۔