insaf-blog-khwaja-ans

عمران خان؟
یہ نام ذہن میں آتے ہی ایسا لگتا جیسا ایک بہت اچھا خواب دیکھ رہے ہو۔ایک نئے پاکستان کا خواب جہاں دہشت گردی نہ ہو، پولیس رشوت نہ کھائے، ادارے قانون کے ماتحت ہوں، غریب اور امیر سب کے لیے قانون برابر ہو۔ کیا ہم ایک ایسا پاکستان جاگتی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے؟

ہم نوجوانوں نے جب سے ہوش سنبھالا اس ملک کو دن بدن کمزور ہوتے، حالات بگڑتے ہی دیکھے ہیں، شریفوں اور زرداریوں نے ہمیں بہت لوٹا ، لیکن ہمیں اب بھی ایک ہی امید ہے، ایک روشن شمع کی  جسکا نام ہے عمران خان۔

خان صاحب! لوگ آپ کو جذباتی کہتے ہیں ، یہودی لابی اور پتہ نہیں کون کون سے القابات دیتےہیں، لیکن آپ ہمارے لیے پاکستان خان ہیں۔خان صاحب ! آپ ہم سب پاکستانیوں کے لیے مشعل راہ ہیں جس نوجوان کو سیاست میں کوئی دلچسبی نہیں تھی جو پہلے پڑھائی اور پھر نوکری کے پیچھے بھاگتا رہتا تھا آج وہ بھی سیاست میں دلچسبی لینے لگا۔آخر کیوں؟
صرف آپکی وجہ سے خان صاحب آپ نے اسے ایک راہ دکھائی آپ نے اسے اپنا حق لینا سکھایا۔آپ نے اسے اپنا ووٹ کا حق استعمال کرنے کا فن سکھایا۔ خان صاحب اکثر لوگوں کو کہتے سنا ''عمران خان کو سیاست نہیں آتی''جبکہ حقیقت یہ ہے حق اور سچ کی سیاست واقعی آپ کے سوا کسی کو نہیں آتی ۔

پاکستانیو!
 آپکو پتا ہے جب خان نہیں تھا تو اس ملک میں کیا ہوتا ؟ نون لیگ اور پیپلز پارٹی اپنی اپنی باریاں لیتیں،  پھر مارشل لاء لگتا اور یہ تماشہ پھر شروع ہو جاتا ،بدلتے تھے تو صرف چہرے نظام تو کبھی بدلا ہی نہیں اگر بدلا ہوتا تو آج بھی ایک غریب کا بیٹا تھانے میں بے قصور مار نہ کھا رہا ہوتا اور ایک امیر کا بیٹا بغیر کسی عہدے کے سرکاری پروٹوکول میں نہ پھر رہا ہوتا۔حیرت ہوتی ہے ان نام نہاد سیاستدانوں پر جو کہتے ہیں اب موقع ملا تو سب بدل دیں گے کوئی انہیں بتائے کہ انہیں اب بھی موقع چاہیے؟ کوئی ان سے پوچھے کہ اب کیا بدلنا ہے آپ نے؟ سب کچھ تو بدل دیا جو پاکستان میرے قائد اعظم نے سوچا تھا اسکو بدل کر تو رکھ دیا اس پاکستان کو دہشتگر د ملکوں کی فہرست میں لا کر کھڑا کر دیا،ہمارے روپے کو کس قدر گرا دیا، تعلیمی نظام کو کس طرح تباہ کر دیا۔اب کی بار آپ لوگ کیا بدلنا چاہتے ہو؟  آپ صرف ایک چیز بدلو گے وہ ہوں گی کرسیاں کبھی اپوزیشن کی تو کبھی حکومت کی۔

خان صاحب!
 آپکو پتا ایک نوجوان ایک عام غریب نوجوان آپ سے کس قدر پر امید ہے ؟ جب بھی وہ نوجوان تھک جاتا ھے تو صرف اس امید پر کہ ایک دن میرا خان آئے گا اور سب ٹھیک کر دے گا پھر سے کھڑا ہو جاتا ہے ۔خان صاحب! قائداعظم کے بعد اگر یہ قوم  کسی لیڈر پر اتنا اعتماد کرتی ہے تو وہ آپ کی ذات ہے۔چاہے شوکت خانم ہو یا نمل یونیورسٹی اس قوم نے آپ پر پوری طرح اعتماد کیا اور آپ انکے اعتماد پر پورا اترے۔جب یہ الیکشن ہو جائیں گے  اورآپ  انشاء اللہ اس ملک کے وزیر اعظم ہو ں گے تو جیت آپ کی نہیں اس قوم کے اعتماد کی ہو گی ، اس قوم کے حوصلوں کی ہو گی .

خان صاحب سوچ کےحیرت ہوتی ہے 22 سال سے آپ اس قوم کے لیے لڑ رہے ہیں اس قوم میں شعور پیدا کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں آپ نے جو تحریک بہت چھوٹے پیمانے پر شروع کی آج وہ ایک منظم تنظیم بن کر پورے ملک کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے ،آخر کس کے لیے آپ نے یہ 22 سال جدوجہد کی ؟میرے لیے ،ہم سب کے لیے۔

آپ نے اس جدوجہد میں اپنا آرام ،سکون، بچے سب کچھ کھو دیا لیکن اس قوم کے لیے آپ کا جذبہ بڑھتا ہی گیا ،آپ ایک دن بھی نہیں تھکے آپ اس دن بھی نہیں ہارے جب آپ کئی فٹ بلندی سے ایک جلسے کے دوران گر پڑے، آپ اس وقت بھی اپنی قوم کو بتاتے رہے کہ ''میں 71 سال اس قوم کے لیے لڑا ہوں آپ کو اب ذمہ داری لینی ہو گی ،جتنا میں کر سکتا تھا اس ملک کے لیے میں نے کیا ۔۔۔۔'' خان صاحب اب بہت کم وقت رہ گیا اب ہم نوجوانوں کا خواب پورا ہونے والا ہے۔شاید وہ ہماری زندگی کا خوبصورت ترین دن ہو گا جب آپ وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے ۔خان صاحب اس دن سے یہ ملک وہاں پہنچ جائے گا جس کی پہلی اینٹ قائداعظم نے رکھی تھی۔

میں تو دیکھوں گا میں تو دیکھوں گا تم بھی دیکھو گے    
جب روٹی سستی ہو گی اور مہنگی ہو گی جان 
وہ دن پھر آئے گا جب ایساہو گا پاکستان میں تو دیکھوں گا تم بھی دیکھو گے۔

Tags:Imran Khan