Haqeeqat Ki Tasweer - Insaf Blog by Zohaib Khan | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Haqeeqat-ppp-pmln-imf-insaf-blog-2018


آج پپلزپارٹی اور ن لیگ تنقید کررہے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس کیوں جارہی ہے؟

ان دونوں پارٹیوں کو یہ بات کہنے سے پہلے بھی شرم سے ڈوب مرجانا چاہیے تھا۔ یہ دونوں سیاسی جماعتیں پچھلے 35 سال سے مسلسل  پاکستان کی سیاست میں برسر اقتدار آرہی ہیں۔
جبکہ پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار سنبھالے بمشکل 55 دن ہی ہوئے ہیں۔
 
ان 35 سالوں میں یہ دونوں سیاسی پارٹیاں  پاکستان کی معیشیت کو کیوں نہ بہتر کرسکیں؟

یہ پاکستان کیلئے کوئی جامع معاشی نظام کیوں نہیں پیش کرسکیں؟

یہ پاکستان کیلئے بہترین معاشی پالیساں کیوں نہیں بنا سکیں؟

اس طویل دورانیئے میں انہوں نے چھوٹے اور بڑے کاروبار پر توجہ کیوں نہیں دی؟

ان دونوں حکومتوں کو آخر IMF سے قرضہ لینے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی جیسا کہ بقول انکے " انکا دور بہترین معاشی دور تھا "
ہاں ایسا کامیاب معاشی دور جس میں اسٹیل مل بند ہوگئی۔

 ایسا کامیاب معاشی دور جس میں ریلوے اور پی آئی اے جیسے بڑے ادارے گھٹنے ٹیک گئے تھے۔

ایسا کامیاب دور جس میں 2 کروڑ بچے سڑکوں پر دربدر پڑے ہوئے تھے اور خوراک کو ترس رہے تھے۔
 لیکن حاکم وقت کیلئے صبح کا ناشتہ بھی لاہور سے ہیلی کاپٹر پر منگوایا جاتا تھا۔

ایسا کامیاب معاشی دور جس میں تاریخ کے بدترین قرضے لیئے گئے مگر ان پیسوں کو ملک اور قوم پر خرچ کرنے کے بجائے کرپشن کرکے ذاتی دولت میں بدل دیا گیا۔

ایسا کامیاب معاشی دور جہاں سرکاری اداروں کی نجکاری کی نوبت آگئی تھی۔

ایسا کامیاب معاشی دور جس میں ان شاہ خرچ اور عیش پرست خودغرض حکمرانوں نے اقتدار میں آکر صرف اپنی جیبیں بھریں لیکن قوم اور ملک کے بارے میں کبھی نہ سوچا اور ملک اور قوم آہستہ آہستہ گہرے دلدل میں دھنستے چلے گئے لیکن ان حکمرانوں کو کوئی خیال نہ آیا۔

ایسا کامیاب معاشی دور جس میں معاشی اداروں کا کچومر نکل گیا اور بڑے بڑے ادارے دیوالیہ ہونے کے بعد کنگال ہو کر کھڑے ہیں۔

ایسا کامیاب معاشی دور جب یہ دو حکومتیں گئیں تو ملک کو ایک ایسے خوفناک معاشی بحران سے دوچار کرگئیں جسکے نیتجے میں ہماری نسلوں کی آگے نسلیں بھی مقروض ہو گئیں۔

اگر یہ پاکستان کے معاشی دور تھے تو ایسے قابل حکمرانوں کو 21 توپوں سے سلامی دینی چاہیئے وہ بھی توپوں کے سامنے کھڑا کرکے!


 آج IMF کے پاس جانا حکومت وقت کی مجبوری ہے۔ ورنہ حالات مزید سنگین اور خوفناک ہوسکتے ہیں۔

 ان گزشتہ حکومتوں کی ناقص پالیسوں اور کارناموں کی مرہون منت آج حکومت وقت کو IMF کے پاس جانا پڑرہا ہے۔ لیکن پاکستان تحریک انصاف انشاء اللہ بہت جلد پاکستان کو معاشی بحران سے نکال لے گی۔

ہمیں اس وقت ایک قوم بن کر اپنے وزیراعظم کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ قوم کیسے بنا جاتا ہے اور مشکل وقت سے کیسے نکلا جاتا ہے اسکی چھوٹی سی یہ مثال ہے۔ 
 
      " آج سے 16 سال قبل جب رجب طیب اردگان نے ترکی کا اقتدار سنبھالا تھا تو تب ترکی آئی ایم ایف کے 50 ہزار ارب ڈالرز کا مقروض تھا۔ رجب طیب اردگان نے آتے ہی ملکی مصنوعات میں اضافہ کیا اور چھوٹے کاروبار پر توجہ دی۔ بہترین معاشی پالیساں بنائیں اور انکا نفاذ بھی عمل میں لایا اور ان پر عملدرآمد بھی کروایا۔ صرف دس سال کی محنت کے بعد جب 2011 میں ترکی نے IMF کا قرضہ واپس کیا تو ساتھ یہ بھی کہا " یہ لو اپنا قرضہ اور آئندہ قرضہ چاہئیے تو ہم سے لے لینا "۔


بظاہر طیب اردگان بھی ایک عام سا لیڈر ہے۔ لیکن وہ یہ سب اس وجہ سے کر پایا کیونکہ اسکی قوم اسکے ساتھ تھی۔ اگر قوم ساتھ نہ ہوتی تو آج صورتحال بلکل مختلف ہوتی۔

یہ جذبہ ہم پاکستانیوں کو بھی دکھانے کی ضرورت ہے۔ آج ہم پر ویسا ہی مشکل وقت ہے جیسے کچھ سال قبل ترکی پر تھا۔
آج عمران خان نے مشکل حالات میں پاکستان کی باگ ڈور سنبھالی ہے جب پاکستان کئی مسائل اور بحرانوں سے دوچار ہے۔
ہمیں اپنی قومیت کا جذبہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں انصافی، لیگی اور جیالے جیسے سیاسی نظریات اور تعصبات کو ختم کرکے پاکستانی بن کر سوچنے کی ضرورت ہے۔


وزیراعظم عمران خان پوری قوم کے رہنما ہیں۔ عمران خان وہ لیڈر ہیں جو مشکل حالات سے ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں اور قوم کو حوصلہ دے رہے ہیں ۔
انشاءاللہ ہمیں کچھ مشکل فیصلے لینے پڑیں گے۔ دائمی راحت کیلئے عارضی اور ہلکی مصیبت کا سامنا کرنا ہوگا تب ہی حقیقی معنوں میں پاکستان قرضوں کے دلدل سے نکل کر ایک بااختیار اور باوقار معاشی قوت بن سکتا ہے۔
مشکل وقت تو گزر جائے گا کیونکہ اسے گزرنا ہی ہے۔ اچھا وقت بھی ضرور آئے گا۔ کالی اندھیری رات جنتی ہی طویل کیوں نہ ہو لیکن اجالا ضرور ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سب کچھ بھول سکتا ہے مگر ایک چیز ہمیشہ یاد رہتی ہے " کہ کس نے مشکل سے نکلنے میں ہمارے ساتھ ملکر حالات کا سامنا کیا اور کس نے ساتھ دینے کے بجائے صرف مذاق ہی اڑایا "۔

ہمیں بطور پاکستانی اپنے قومی رہنما پر یقین ہے وہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکال لے گا۔ قرضوں کا خاتمہ کرکے پاکستان کو باقار، دنیا کی معاشی قوت بنا لیں گے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم قوم بن کر اپنے وزیراعظم کی ہر بات پر عمل پیرا ہوں گے اور ہر اقدام کی پیروی کریں گے اور دلجوئی سے عمل کریں گے۔

ارادے جنکے پختہ ہوں نظر جن خداہ پہ ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے