The decision of court - A short response - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf
adalti-faisla-insaf-blog

نواز شریف کا کیس احتساب عدالت میں چل رہا ہے جسکی پیروی نیب کر رہا ہے اور نواز شریف بمہ بیٹی اور کیپٹن (ر) صفدر سزا یافتہ مجرم ہیں سپریم کورٹ سے جوکہ اپنی سزا بھگت رہے ہیں اڈیالہ جیل میں اور تینوں پر تاحیات نااہلی برقرار ہے۔

 

نواز شریف کو حق حاصل تھا تو اس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیشِ نظر احتساب عدالت میں کیئے جانے والے کیس جس میں العزیزیہ ریفرنس ایون فیلڈ ریفرنس اور فلیگ شپ ریفرنس شامل ہیں۔

نواز شریف نے حق نے مطابق سزاؤں کے خلاف اپیل کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جس پر آج نواز شریف بمہ مریم اور کیپٹن کو صرف ضمانت پر رہا کیا گیا اور سزا (قید) معطل کردی گئی۔

انکی تاحیات نااہلی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ نااہلی آرٹیکل 62 1(f)کے تحت جھوٹ٬ غلط بیانی پر ہوئی جوکہ صادق و امین کی شق ہے۔

آج سزا معطلی کا فیصلہ یہ دیا گیا کہ خاطر خواہ ثبوت نہیں ہیں اثاثہ جات منی لانڈرنگ کہ اور کرپشن سے بنانے والی پراپرٹی کا٬ حالانکہ خود 2 سال تک نواز شریف رسیدیں تک نہیں دے سکا۔ بہرحال یہ فیصلہ اپنی جگہ مگر عدالت نے انکو ضمانت پر رہا کر دیا۔

 

ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہو جائے گا اور سپریم کورٹ اپنے پہلے دیئے گئے فیصلے کی روشنی میں سزا کی توثیق کر کے ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیگا۔

سزا معطل کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ یہ قانونی نقطہ عام آدمی صحیح سے سمجھ نہیں پاتا تبھی وہ عدالت اور ججز کو جانبدار کہہ دیتا ہے۔ ہم عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور قانون کے مطابق اسکو مزید اگے لیکر چلیں گے۔

گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ کسی قسم کی ڈیل نہیں ہو رہی اور نہ ہی کوئی ڈیل کرنے کیلئے پریشر ہے۔

ڈیل ہوگی بھی کیوں؟

کس کو نواز شریف کا مفاد عزیز ہے٬ پاکستان کے مخالفوں کو٬ تو کیا پاکستان حکومت نواز شریف کو اور اسکے حواریوں کو خوش کرے گی... ہرگز نہیں۔

عدالتی نظام آزاد ہے فیصلے اچھے برے نہیں بلکہ قانونی پیچیدگی پر آتے رہتے ہیں۔

جیل نواز شریف کا مقدر ہوگی ۔ خوشیاں منانے والے عقل اور حواس سے آری ہیں۔

محمد علی لاشاری