ByElection and Envelopes - Insaf Blog by Khurram Zeeshan | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Zimni-election-insaf-blog

ضمنی انتخابات اور لفافے 
چند صحافی حضرات نے دو یوم قبل ہونے والے ضمنی انتخابات کو کچھ اس طرح سے پیش کیا ہے کہ قوم یہ سمجھنے لگے کہ تحریک انصاف پہلے 55 یوم میں ہی اپنا سب کچھ گنوا بیٹھی ہے۔ وہ تبدیلی جس کی آس میں اس پر قوم نے تحریک انصاف کو ووٹ دے کر کامیاب کیا۔ وہ کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہی۔ قوم کو آنے والی مزید چند دہائیوں تک اس غربت کی چکی میں پسنا ہے یوں ہی جاگیرداروں وڈیروں کرپٹ افسر شاہی اور طاقتور طبقے کا غلام بن کے رہنا ہے۔ یہ مایوسی پھیلانے والے کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے قوم کے نامور صحافی جن میں بڑے بڑے نام شامل ہیں وہ لوگ ہیں ان کی باتوں پر یقین کرنے سے پہلے آئیے2 دن قبل ہونے والے ضمنی انتخابات کا ایک جائزہ لیا جائے۔ قومی اسمبلی کی کل 11 نشستوں پر الیکشن ہوا۔ جن میں چار پی ٹی آئی، 4 نون لیک، دو ق لیگ اور ایک سیٹ ایم ایم اے کے حصے میں آئی۔ قومی اسمبلی کے جنرل الیکشن 2018 کے نتیجے کو دیکھا جائے تو اس ضمنی الیکشن کے نتائج اس سے ہرگز ہرگز مختلف نہیں دونوں نتیجوں میں جیت کا تناسب حیران کن حد تک یکساں ہے۔ ق لیگ کی دو نشستیں جو کہ حالیہ الیکشن میں اس نے جیتی اگر ان کو پی ٹی آئی کے ساتھ شمار کیا جائے تو تقریباً وہی تناسب بنتا ہے۔

جو قومی اسمبلی میں جنرل الیکشن کے وقت تھا۔ اس بات کو بھی قصداً نظرانداز کیا گیا کہ ہارنے والی نشستوں پر اس سے پہلے عمران خان جیسی قدآور شخصیت امیدوار تھی۔ مزید یہ کہ ہارنے والی نشستوں خصوصاً دو حلقے لاہور کا حلقہ 131 اور اٹک کا ایک حلقہ، دونوں میں ن لیگ نے پی ٹی آئی کو نہیں ہرایا بلکہ خود پی ٹی آئی نے پی ٹی آئی کو شکست دی ہے۔ اس بات کا تعلق تحریک انصاف کی کارکردگی سے نہیں بلکہ ان حلقوں کی اندرونی سیاست سے تھا۔ کچھ اور حقائق جن سے میڈیا نے قصداً چشم پوشی کی ہے۔ وہ یہ ہےں کہ ضمنی انتخابات میں ایک بار پھر پی ٹی آئی ملک کی واحد نمائندہ جماعت ثابت ہوئی۔ جس نے تقریباً تمام صوبوں سے نشستیں جیتی ہیں جبکہ نون لیگ صرف پنجاب اور پیپلز پارٹی صرف سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی اور یہ کہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کا مقابلہ بطور جماعت متحدہ اپوزیشن سے تھا جس میں ملک کی تمام بڑی جماعتیں اکٹھی ہو کر تحریک انصاف سے مقابلہ کر رہی تھی۔ غور کیا جائے تو تحریک انصاف کی ضمنی الیکشن کی کامیابی اس واحد عنصر کی وجہ سے جنرل الیکشن سے زیادہ بڑی کامیابی ہے لیکن یہ بات آپ کو میڈیا نہیں بتائے گا۔

مزے کی بات جس کو کسی بھی صاحب عقل و دانش صحافی نے بیان نہیں کیا وہ یہ کہ اپوزیشن جماعتیں جنرل الیکشن جو کہ نگران حکومت کے دور میں ہوئے ان پر دھاندلی کا رونا تو روتی ہے لیکن پی ٹی آئی کے دور میں ہونے والے ان ضمنی انتخابات کو انتہائی شفاف اور غیر جانبدار مانتی ہے اس بات کا کریڈٹ کسی ایک جماعت یا صحافی یا میڈیا گروپ نے تحریک انصاف کو نہیں دیا۔ میڈیا پر بیٹھے بڑے بڑے صحافی نہ جانے کیوں اس قوم کو کو بیوقوف اور اس کے نوجوانوں کو انتہائی جاہل اور کم عقل سمجھتے ہیں نجانے کیوں انہیں اس بات کا یقین ہے کہ ان کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات کو قوم نعوذ باللہ حدیث یا قرآن کی طرح درست تسلیم کرے گی بڑے بڑے سٹوڈیوز میں بیٹھنے سے کوئی شخص بڑا صحافی نہیں بن جاتا کوئی شخص بھی اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر قوم کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔ سچ سچ ہی رہتا ہے اور جو جھوٹ ہے وہ جھوٹ ہی رہے گا۔

الحمد اللہ عمران خان نے پچھلے چار سالوں میں قوم کو اتنا شعور دے دیا ہے کہ اب یہ دھوکہ کھانے والی نہیں۔ ضمنی انتخابات کو پی ٹی آئی کی شکست ماننے والے ان صحافیوں سے کوئی یہ پوچھے کہ کیا اسمبلی میں عددی تناسب کے لحاظ سے پی ٹی آئی پیچھے آئی ہے یا آگے۔ کوئی ان افلاطونوں سے ذرا یہ پوچھے کہ وہ کونسی سی بے وقوف قوم ہے جو 55 دنوں میں 70 سالہ گند صاف نہ کرنے کی سزا ایک سیاسی جماعت کو دے گی۔ یہ بات صرف میڈیا تک محدود نہیں اس ملک پر پچھلے 70 سال سے راج کرنے والی کرپٹ مافیا جسے آنے والے دنوں میں اپنی یقینی موت نظر آ رہی ہے۔ چیخے گی چلائے گی اور جگہ جگہ قدم قدم قوم میں جھوٹ اور مایوسی پھیلانے کی کوشش کرے گی یہ مراعات یافتہ طبقہ حالات کو جوں کا توں رکھنے کے لےے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا انہیں نہ تو اس بات سے غرض ہے کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہو گا اور نہ ہی اس بات سے مطلب کہ اس ملک میں پسنے والے بیس کروڑ عوام کب تک یوں ہی غلامی کی زندگی جیتے رہےں گے

کیوں کہ ان غلاموں کے آزاد ہونے کا مطلب ان کی اپنی موت ہے جو یہ کبھی نہیں چاہیں گے لیکن جھوٹ کا منہ ہمیشہ کالا ہی رہا ہے اور کالا ہی رہے گا۔ پچھلے چند دنوں میں 2 وفاقی وزراءکے خلاف جھوٹ اور بے بنیاد خبریں پھیلانے والے دو میڈیا گروپس کو آج منہ کی کھانی پڑی۔ اور ان دونوں وفاقی وزراءسے باقاعدہ طور پر معافی مانگنی پڑی۔ مضمون کے شروع میں دی گئی ضمنی انتخابات کی مثال صرف یہ بات بتانے کے لےے دی گئی کہ کرپٹ سٹیٹس کو کے ہاتھوں بکا ہوا یہ میڈیا کس طرح سے اس قوم کو بے وقوف بنانے کی مزید کوششیں کرتا رہے گا۔ جس حکومت کو معرض وجود میں آئے ہوئے ابھی دو مہینے بھی مکمل نہ ہوئے ہوں اس سے کس معجزے کی توقع رکھنا ایسے ہی ہے جیسے کسی حاملہ کے پیٹ میں موجود دو ماہ کے بچے کو صحیح تندرست و توانا اور زندہ پیدا کرنے کی خواہش رکھنا ا ور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس شور بے ہنگم میں سب سے بلند آوازیں ان لوگوں کی ہے جو اس ملک کو اس کی موجودہ صورت حال پر لانے کے ذمہ دار ہیں۔ دوستو یہ طوفان بدتمیزی تو تھمنے والا نہیں انہوں نے تو یہ شور مچاتے ہی رہنا ہے

لیکن حکومت کو اس پروپیگنڈے سے ہرگز ہرگز مرغوب نہیں ہونا۔ یہیں سے موجودہ حکمرانوں کی استقامت ثابت قدمی اور حوصلے کا اندازہ ہو گا۔ یہیں سے پتہ چلے گا کہ اس ملک کو درپیش آنے والے بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت یہ لوگ رکھتے ہیں یا نہیں۔ ہلکا پلکا بخار تو کسی عام دوائی سے ٹھیک ہو سکتا ہے لیکن ایک سرطان جو ملک کے طول و عرض میں پھیل چکا ہو اسے ٹھیک کرنے کے لےے یقینا ہمیں ایک بڑے آپریشن کی ضرورت ہے۔ آپریشن تکلیف دہ ہوا کرتے ہیں ہمیں اس تکلیف دہ عمل سے گزرنا ہو گا۔ قارئین کو ایک اور بات بھی ملحوظ نظر رکھنی چاہےے کہ کوئی بھی تخلیقی عمل بغیر درد کے مکمل نہیں ہوا کرتا۔ اس وقت ایک نیا ملک ایک نئی قوم جنم لے ری ہے یقینا مشکل مراحل آئیں گے کڑوی گولیاں نگلنا ہوں گی درد بھی ہو گا اور تکلیف بھی‘ تاہم ایک مستحکم مضبوط اور معاشی طور پر خوشحال ملک کی منزل پانے کے لےے ان تمام مراحل سے گزرنا ضروری ہے۔ ایک طرف یہ ہمارے حکمرانوں کا امتحان ہے لیکن دوسری طرف یہ پوری قوم کا امتحان ہے کیا ہم اس امتحان میں کامیاب ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن جیسا کہ اس دور کے ایک عظیم لیڈر نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ہاتھ میں صرف نیت اور کوشش دی ہے کامیابی وہ دیتا ہے۔ ہمیں نتائج کی فکر چھوڑ کر صرف محنت اور کوشش کرنی ہے۔