The blame game of corruption and common sense - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf
corruption-blames-insaf-blogs

کرپشن کے تازہ الزامات اور کامن سینس کی باتیں۔۔۔

مریم نواز کا وہ مشہور زمانہ انٹرویو تو ہر ایک نے سن رکھا ہے کہ اسکی اور اس کے بہن بھائیوں کی سینٹرل لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ہے۔

پھر سب نے دیکھا کہ پاکستان تو کیا سینٹرل لندن اور دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی ان کی جائیدادیں نکل آئیں۔
اب کامن سینس کی بات ہے کہ اگر میری کوئی پراپرٹی یا بزنس حلال کا ہے تو مجھے اس کو چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن کہتے ہیں کہ کامن سینس از ناٹ کامن، اور عقل نئیں تے موجاں ای موجاں۔۔

پھر جب پراپرٹیز نکل آئیں تو نواز شریف نے ٹی وی اور پارلیمنٹ میں اپنی تقاریر میں کہا کہ سب پراپرٹیز ہماری ہیں اور ان کی ایک ایک رسید موجود ہے۔

پھر سب نے دیکھا کہ ساری رسیدیں تو دور کی بات، ایک کاغذ کا ٹکڑا بھی اپنی صفائی میں پیش نا کرسکے سوائے قطری کے خط کے۔
اب کامن سینس کی بات ہے کہ اگر بیرونِ ملک کوئی پراپرٹی خریدی جائے گی تو سارا کا سارا بینکنگ ریکارڈ اور ذرائع آمدنی کے ثبوت موجود ہونگے۔ لیکن کہتے ہیں کہ کامن سینس از ناٹ کامن، اور عقل نئیں تے موجاں ای موجاں۔۔۔

پھر انہیں لندن پراپرٹیز کے بارے میں دنیا کہ بہترین اور قابل اعتبار اخبارات کئی بار چھاپ چکے ہیں کہ یہ کک بیکس، کمیشنز اور کرپشن کی کمائی سے بنائے گئے ہیں۔
اب کامن سینس کی بات ہے کہ کوئی غیر ملکی اخبار آپ پر اتنا بڑا الزام لگادے اور آپ ملک کے تین بار وزیرِ اعظم بھی رہ چکے ہوں تو آپ فورا اس اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے اور بیرون ملک اتنے سخت قوانین ہیں کہ اگر اخبار کی خبر غلط ثابت ہوجائے تو نا صرف کروڑوں روپے ہرجانہ دینا پڑتا ہے بلکہ اخبار یا تو بند ہوجاتا ہے یا اس کی کریڈیبیلٹی نہیں رہتی۔ لیکن کبھی بھی کسی اخبار کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی گئی کیوںکہ پتہ ہے کہ الٹا خود ہی پھنس جائیں گے۔ اس کے برعکس عمران خان کی ہر بات کے جواب میں دس ارب کے ہرجانے کا نوٹس بھجوادیا جاتا ہے۔ اس سب میں بھی عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ کامن سینس از ناٹ کامن، اور عقل نئیں تے موجاں ای موجاں۔۔۔

اب ایک اور اخبار “وال سٹریٹ جرنل“ نے بھی شریف برادران پر کے الیکٹرک کے سودے میں بیس ملین ڈالر کا کمیشن لینے کی خبر چھاپی ہے۔ واضح رہے کہ وال سٹریٹ جرنل دنیا کے بڑے اور کریڈیبل ترین اخباروں میں سے ایک ہے۔
اخبار نے الزام پاکستان کے تین بار کے وزیرِ اعظم، ایک بار کے وزیرِ اعلیٰ، ایک بار کے وزیرِ خزانہ اوراس کے بھائی جو کہ تین بار وزیرِ اعلٰی رہا ان پر الزام لگایا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ۔  اگر شریف برادران اس اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتے ہیں تو میں آنکھیں بند کرکے یقین کرلوں گا کہ اخبار کی خبر جھوٹی ہے۔ لیکن اگر ہمیشہ کی طرح نام نہاد “شریف“ برادران کوئی قانون کاروائی نہیں کرتے تو پھر کامن سینس کی بات ہے کہ وہ دیگر معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی چور ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں ناکہ کامن سینس از ناٹ کامن، اور عقل نئیں تے موجاں ای موجاں۔ (محمد تحسین)