Aqeedat Ya Shirk? Insaf Blog by Mohammad Tehseen | Pakistan Tehreek-e-Insaf
insaf-blog-mohammad-tehseen

 

آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت شرک نہیں کرے گی۔ جو انسان بھی ایک بار دل سے کلمہ پڑھ لے شرک اس کے دل میں سما ہی نہیں سکتا۔ باقی لوگوں کے اپنے اپنے عقائد اور عقیدتیں ہوتی ہیں لیکن ہمارے لوگوں کو انسان کی بجائے اللہ بننے کا شوق ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے کفروایمان کے فیصلے کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ جب کوئی انسان اپنے منہ سے کہہ دے کہ وہ یہ عقیدت سے کررہا ہے ناکہ سجدہ تو پھر لوگ کون ہوتے ہیں اس کے ایمان میں شک کرنے والے؟ اور یہ عقیدت کی باتیں وہ بدعقیدہ لوگ نہیں سمجھ سکتے جن کے نزدیک انبیاء بھی انہیں کی طرح عام انسان ہی ہیں تو اولیاء کرام کی ان کے نزدیک کیا حیثیت ہوگی یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔ 

اللہ تعالٰی کا ولی ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ جب میں کسی انسان سے محبت کرتا ہوں تو جبریل امین کو کہتا ہوں کہ تم بھی اس سے محبت کرو، پھر جبریل امین سارے فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ اس انسان سے محبت کرو اور پھر فرشتے باقی ساری مخلوقات کو، تو پھر وہ انسان خالق اور مخلوق کا مُحب بن جاتا ہے۔ اس کے لیے دل میں عقیدت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے لیکن اس کے لیے عقیدہ بھی ہونا چاہیے۔ جن لوگوں کی بدولت برصغیر کے سکھ اور ہندو مسلمان ہوئے، جن کی وجہ سے آپ اور میں مسلمان ہیں،  اگر آپ ان سے اپنے مسلک کی وجہ سے بغض رکھتے ہو تو پھر آپ اس عقیدت کو نہیں سمجھ سکتے۔ پھر کہتا ہوں کہ جب کوئی ایک بار دل سے کلمہ پڑھ لے تو اس کا سر سجدے کے لیے اللہ کے سوا کسی کے سامنے جھک ہی نہیں سکتا۔

آپ طریقہ کار سے ضرور اختلاف رکھ سکتے ہیں لیکن کسی کے کفر و ایمان کے فیصلے کرنے کا اختیار آپ کو نہیں ہے۔ میں اپنا ذاتی تجربہ بتا سکتا ہوں کہ آج سے پانچ چھ سال پہلے محلے کی مسجد میں ایک بابا جی آتے تھے۔ وہ تقریبا نابینا تھے۔ میری ان سے کافی انسیت ہوگئی تھی اور میرا پورا ایمان ہے کہ وہ ولی اللہ تھے۔ اسی نوے سال کے قریب عمر تھی، ضعیف اور کمزور تھے، رمضان المبارک میں بیس تراویح کھڑے ہوکر پڑھتے تھے اور اس کے بعد جب لوگ گھروں کو بھاگنے کی کرتے ہیں تو انہوں نے پچاس کنکر اپنے پاس رکھے ہوتے تھے۔ تراویح کے بعد وہ نفل پڑھنا شروع کردیتے تھے اور مجھے کہتے تھے کہ جب وہ دو دو رکعات پڑھتے جائیں تو ایک کنکر سائیڈ پر رکھتا جاؤں۔ بیس تراویح کے بعد وہ یہ نوافل بھی کھڑے ہوکر ہی پڑھتے اور یاد دلا دوں کہ وہ تقریبا نابینا تھے اور کمزور و ضعیف تھے۔ان کے پاس بیٹھنے سے وہی خوشبو آتی تھی اور وہی سکون ملتا تھا جو اولیاء اللہ کے مزار پر ملتا ہے۔  آپ سمجھیں گے کہ میں کچھ زیادہ کہہ رہا ہوں لیکن یقین کریں کے دل خود بخود مائل ہوتا تھا کہ ان کی قدم بوسی کی جائے۔ لیکن ان باتوں کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کے دل فرقہ پرستی کی لعنت اور بغض سے خالی ہوں۔ (محمد تحسین)

Tags:Imran Khan