100 Days of Imran Khan - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf
100-days-insaf-blog

 

عمران خان کی حکومت کے سو دن قوم کی امیدیں اور اپوزیشن کا واویلہ. عمران خان نے اپنی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد میں جن چند باتوں پر سب سے زیادہ زور دیا تھا اس میں کرپشن کا خاتمہ, انصاف کی بلاتفریق فراہمی, روزگار کی فراہمی, غربت, مہنگائی اور سیاست میں اقرباءپروری کا خاتمہ, میرٹ کی بحالی اداروں کی خودمختاری مختصر یہ کہ پورے نظام کی تبدیلی شامل تھی, جس نے قوم کو مایوس کیا ہوا تھا اور اسی وجہ سے موجودہ انتخابات میں قوم نے سابقہ روایتی پارٹیوں اور سیاستدانوں کو نظرانداز کے عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کو جتوایا لیکن بدقسمتی تھی یا عمران خان کے کچھ غلط فیصلے, جس کی وجہ سے چند ایک نشستوں کی کمی کی وجہ سے پی ٹی آئی دوسری سیاسی جماعتوں کی محتاج ہوئی ورنہ یقیناً اگر ٹکٹوں کی درست تقسیم ہوجاتی تو دس پندرہ نشستوں کے لئے ق لیگ اور ایم کیو ایم جیسی حریف سیاسی جماعتوں کو اتحادی بنانے کی ضرورت پیش نہ آتی اور پی ٹی آئی کے خلاف اپوزیشن کو منفی پروپگنڈا کرنے موقع نہ ملتا بہر حال جیسے تیسے حکومت بن ہی گئی اور عمران خان بائیس سال جدوجہد کرنے کے بعد ملک کے وزیراعظم بن گئے

اور یوں میڈیا اور اپوزیشن نے عمران خان کو ان کے وعدے اور ارادے یاد کرانا شروع کردئے بلکہ عمران خان نے قوم کے سامنے اپنی پہلی خطاب میں ایک بار پھر ان وعدوں اور ارادوں کا اعادہ کیا اور یوں قوم کو حکومت سے بڑی بڑی امیدیں وابسطہ کرا دیں دوسری طرف اپوزیشن کو پہلے ہی ق لیگ اور ایم کیو ایم کی وجہ سے حکومت پر تنقید کا جواز مل چکا تھا لیکن ملک کی معاشی حالات نے ایک طرف حکومت کو غیر پاپولر فیصلے کرنے پر مجبور کیا تو دوسری طرف قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لئے حکومت کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانا بھی مجبوری بن گئی اور اپوزیشن سمیت میڈیا اور قوم کی اکثریت کے لئے یہ مہنگائی اور قرضوں کا حصول خلاف توقع ہر گز نہ تھا. کیونکہ سب جانتے تھے کہ گذشتہ حکومتوں نے ملک کو کس طرح لوٹا ہے

اور امکان آج بھی موجود ہے اور اس وقت بھی امکان تھا کہ اگر پی ٹی آئی حکومت اور عمران خان اپوزیشن جماعتوں کو این آر او دے دیتے تو اپوزیشن حکومت کیساتھ مکمل تعاون کے لئے تیار تھی اور ہے اور یوں وہ قوم کو گمراہ کرنے کی روش بھی ترک کر سکتی ہیں لیکن ہوا کچھ یوں کہ الیکشن مہم کے دوران ہی نوازشریف اور حنیف عباسی کے جیل جانے اور کئی ایک دوسرے رہنماؤں کی نیب میں طلبی نے اپوزیشن کے تیور بدل دئے جس کی وجہ سے پہلے ہی دن سے انہوں نے الیکشن میں دھاندلی کا رونا خوب رویا اور عمران خان کو اسمبلی میں پہلی سپیچ بھی نہ ہونے دینے کے علاوہ عمران خان کے خلاف ق لیگ اور ایم کیو ایم کو اتحادی بنانے کے علاوہ عمران خان کی کابینہ پر انگلیاں اٹھانا شروع کردی اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی کا رونا شروع کیا

جس کی وجہ سے حکومت کا مورال گرنا شروع ہوا عمران خان کہا کرتے تھے اور ہم سب کو یقین بھی تھا کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت بنے گی تو نہ صرف پاکستان میں رہنے والے بلکہ بیرون ملک پاکستانی بھی دل کھول کر حکومت کی مدد کریں گے اپنا سرمایہ پاکستان کے بینکوں میں منتقل کریں گے اور یوں ملک آگے کی سمت چل پڑے گا لیکن بدقسمتی سے اپوزیشن جماعتوں نے عمران خان کے قوم سے ڈیم فنڈ میں امداد کی اپیل کا نہ صرف مذاق اڑایا بلکہ شدید مخالفت کی جس کی وجہ وہ مہم بھی اتنی کارگر ثابت نہ ہوئی حالانکہ اس میں اپوزیشن کو کیا نقصان تھا اور نہ یہ کام تاریخ میں پہلی بار ہورہا تھا اس سے پہلے نوازشریف نے بھی قرض اتارو ملک سنوارو کے نام پر ایسی مہم چلائی تھی اور قوم نے دل کھول کر حکومت کی مدد کی تھی لیکن اس کے باوجود یہ مہم اپوزیشن کو ایک آنکھ نہ بہائی جس کا مطلب سمجھنا کوئی راکٹ سائینس نہیں بلکہ سیدھی سی بات ہے کہ اپوزیشن جماعتیں عمران خان کی پاپولرٹی سے خوف زدہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنماء ماضی میں شوکت خانم میموریل ہسپتال کے خلاف بھی اسی طرح زہر اگلتے آئے ہیں ورنہ وہاں بھی ان کو کوئی نقصان نہ تھا صرف پاپولرٹی کو نقصان پہنچانے کی غرض سے ان پروپگنڈوں کا سہارا لیا جا رہا ہے اپوزیشن جماعتوں کے منفی پروپگنڈوں کی وجہ سے حکومت ایک طرف دفاعی پوزیشن پر آگئی

اور قوم سے مزید اس قسم کی کوئی اپیل کرنے کے قابل نہ رہی. دوسری طرف قوم کے اپر اور مڈل کلاس کو بدظن کرنے میں کامیاب ہوئی اور حکومت کو ناکام حکومت کے طور پر پیش کیا گیا دوسری طرف حکومت کے حامی امیر طبقے نے ایکسچینج مارکیٹ کے ساتھ ساتھ بینکوں سے اپنا پیسہ نکالا تاکہ ملک کو معاشی بحران سے دوچار کیا جاسکے. بین الاقوامی محاذ پر بھی حکومت کو کئی ایک چینلجز کا سامنا تھا اور اب بھی ہے. دشمنان پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیاں پہلے ہی برسرپیکار تھی. وہ تو اللہ بھلا کرے کہ سعودی عرب نے ابتدائی امداد مہیا کی اور اب چائنہ دوبئی اور ملائشیا نے بھی مدد کرنے کی حامی بھرلی جس سے یقیناً اپوزیشن جماعتوں کو دھچکا لگا کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کی خواہش تھی کہ حکومت پوری طور پر آئی ایم ایف کے پاس جائے اور ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہو اور ہمیں حکومت کے خلاف خوب پروپگنڈا کرنے کا موقع ملے جو بہر حال اس قدر نہ ہوسکا اور یہی وہ معروضی حالات تھے جن کی وجہ سے شاید بہت سارا کام نہ ہوسکا لیکن اسکے باوجود بھی قوم کی اکثریت آج بھی پرامید ہے کہ عمران خان اپنے وعدے ضرور پورے گا

اور یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائےگا اگر چہ اپوزیشن جماعتیں اور خاص کر جے یو آئی اور مسلم لیگ ن کو شدید خوف لاحق ہے کہ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو مسلم لیگ ن لٹ جائے گی اور مولانا کا یہودی یہودی کا پاپڑ بکنا بند ہوجائے گا اس لئے دونوں جماعتوں کی شدید خواہش ہے کہ کسی طرح اس حکومت سے چھٹکارہ حاصل کیا جائے لیکن پیپلز پارٹی شاید اس وقت آصف علی زرداری کی قربانی دینے کے لئے تیار دکھائی دے رہی ہے اور اس کی وجہ حب الوطنی یا قانون کی حکمرانی کا رواج رائج کرنا نہیں بلکہ بلاول زرداری کی ابھرتی قیادت ہے اگر زرداری سیاست سے باہر بھی ہوئے تو اس سے پیپلز پارٹی پر منفی نہیں بلکہ مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور مستقبل میں پیپلز پارٹی کے ایک بار پھر سے زندہ ہونے کے مواقع میسر آسکیں گے لیکن مسلم لیگ ن کیساتھ جو ہوگا وہ شریف خاندان کو نہ صرف سیاست سے نکال باہر کرے گا بلکہ اتنی لگن اور محنت سے بنائی جانے والی پراپرٹی اور بینک بیلنس سے محروم ہونے کا اندیشہ بھی موجود ہے اور نہ ہی جماعت کے اندر کوئی قابل اعتماد والی وارث موجود ہے جو پارٹی امور سنبھال سکے جسکی وجہ سے مسلم لیگ ن کو حکومت کی کوئی اچھائی نظر نہیں آرہی ورنہ چند ایک چھوٹی موٹی غلطیوں کے علاوہ حکومت درست سمت میں چلتی نظر آرہی ہے ہر ادارے میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہےاور توقع ہے کہ اگر حکومت نے پانچ سال مکمل کئے تو ملک و قوم کی تقدیر بدل جائے گی. البتہ موجودہ اپوزیشن جماعتوں کو طرز سیاست بدلنا ہوگی بصورت دیگر سیاست سے کنارہ کشی ان لوگوں کا مقدر بنے گا.

تحریر زاہد جدون