10 Million Children suffering from food shortage and Imran Khan | Pakistan Tehreek-e-Insaf
insaf-blog-ali-taj-food-shortage-children-pakistan

 

١کروڑ غذائی قلت کا شکار پاکستانی بچے اور اللہ کے بعد امید صرف و صرف  ایک عمران خان!


 یوں تو عمران خان کی تقریروں میں سے ہمیشہ کچھ الفاظ یا جملے میڈیا سرخیوں کی زینت بنتے ہیں مگر ان کے کچھ جملے جو پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے نہایت اہم ہوتے ہیں یکسر  نظر انداز کیے جاتے ہیں۔ ان میں ایک جملہ جو عمران خان کے ہر ٹی وی ٹاک شو اور تقریر کا لازمی جز ہوتا ہے وہ  ہے :

"ہمارے  ٪44 بچے مناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے جسمانی طور پہ اپنے قد کو نہی پہنچتے اور زہنی طور پہ کم نشونما کا شکار ہوتے ہے"
 یہ  جملہ ان ١ کروڑ پاکستانی  بچوں کے بارے میں ہے جو سنگین غذائی قلت کا شکار ہیں۔ کیا آپ نے نواز شریف، زرداری یا کسی اور سیاسی قائد سے ان بچوں کے بارے کبھی کوئی ایک لفظ بھی سنا ہے؟ ان کو چھوڑیں یہ تو شاید بچوں میں غذائی قلت کے تصور سے ہی نا واقف ہونگیں، مگر کیا آپ نے آکسفورڑ کے تعلیم یافتہ بلاول بھٹو سے ان بچوں کے بارے میں کوئی بات سنی ہے؟
نہیں ہر گز نہیں ۔

 یہ صرف و صرف عمران خان ہی  ہے جو تواتر سے اپنی ہر تقریر میں قوم کو چیخ چیخ کر بتا   نہیں رہا بلکہ پڑھا رہا ہے کہ اے قوم تمھارے بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، وہ جسمانی و زہنی طور پہ کمزور رہ جائینگے۔ اس کا اثر نہ صرف ان کے اپنے مستقبل پہ ہوگا بلکہ پوری قوم اس کا خمیازہ ایک لاغر و کمزور ورک فورس کی صورت میں بھگتے گی۔ کیونکہ تحقیق ثابت کرتی کہ غذائی قلت کا شکار بچوں کی زہنی و جسمانی نشونما کم ہوتی ہے،  وہ تعلیم و ہنر حاصل کرنے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ اچھا روزگار حاصل کرنے کی دوڈ میں شامل ہونے سے پہلے ہی نااہل بن جاتے ہیں۔ اور اپنے خاندان کو مزید غربت میں دھکیل دیتے ہیں۔ 

تحقیق ثابت کرتی ہے کہ بچوں کو  غذائی قلت سے بچانے کیلیئے ضروری ہے کہ  بچے کے پہلے ہزار دنوں (یعنی حمل کے پہلے دن سے لیکر کر دو سال تک کی عمر تک)  میں ماں اور بچے دونوں کی غذائی ضروریات  اور علاج معالجہ کا خاص خیال رکھا جائے۔ 

اس ضمن میں عمران خان کا کے پی کے میں  ماں اور بچے کی صیحت کی بہتری کا پروگرام "صحت مند ماں، صحت مند بچے"  پورے ملک کیلئے اعلیٰ مثال ہے۔  جس کے تحت دوران حمل  ہسپتال میں تربیت یافتہ عملے سے اپنا معائنہ کروانے والی خواتین کو ہر دورے پہ 300 روپے کا وظیفہ ، زچگی ہسپتال میں کرانے پہ ہر ماں کو 1000 روپے کا وظیفہ، اور زچگی کے بعد 42 دنوں کے اندر معائنہ کرانے والی ماؤں کو 500 روپے کا وظیفہ دیا جاتا ہے۔  اس حساب سے ہر ماں کو  ہر زچگی پہ اپنا معائنہ و علاج کرنے پہ  تقریباً 2700   روپے وظیفہ دیا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق تقریبا ڈھائی لاکھ ماؤں نے اس منصوبہ سے فائدہ اٹھایا۔

عمران خان کا غذائی کمی کا شکار بچوں کے مسئلے کو اپنی ہر تقریر کا لازمی حصہ بنانا اور اپنی پہلی ہی حکومت میں ان بچوں کو جسمانی و زہنی طور پہ صحت مند بنانے کیلئے عملی اقدامات کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایک کروڑ غذائی کمی کا شکار بچوں کی آخری امید صرف و صرف عمران خان ہے۔

اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ ان شعبدہ بازوں کو پھر ووٹ دینا ہے جنھوں نے اس کے بچوں کو غذائی قلت کا شکار رکھا یا پھر ان کیلئے امید بننے والے عمران خان کو ووٹ دے کر ان کا مستقبل روشن کرنا ہے جس میں وہ امیر گھرانے کے بچوں کی طرح زہنی و جسمانی طور پہ فٹ ہوں اور ہر میدان میں ان کا مقابلہ کرسکیں اور ایک ترقی یافتہ و خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

Tags:Imran Khan