CM KPK chairing meeting on Peshawar City Uplift program under Heritage and Message on Easter

Tuesday, 18 April 2017 13:27 | READ 185 TIMES Written by 
RATE THIS ITEM
(1 Vote)

With the compliment of Press Secretary to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa
Handout No.1 Peshawar 15th April 2017

KP Chief Minister Pervez Khattak approved developmental and beautification project for Peshawar city costing Rs. 184 million. Under this project all vehicular traffic would be banned to enter into the wall city whereas the interior roads and bazaars would be converted into tough tile-footpaths. The power supply, telephone and fiber optic cables as well as gas, water supply pipelines and sewerage lines would go underground by laying two separate water proof blocks to save buildings and installations from seepage hazards. The old city ancient places and historical buildings would be revived in almost original shape through maintenance and beautification works. The project completion task is assigned to Archeology department whereas 12 concerned line departments would also coordinate with it in the construction works. Two high powered implementation committees under District Nazim Peshawar Arbab Muhammad Asim Khan and Additional Chief Secretary Muhammad Azam Khan have been constituted to ensure its early and quality completion. The unique Mega project would start from Tehsil Gor Gathri to Chowk Yadgar in the first phase that would be completed in three months record period after initiating digging works. The meeting besides MPA and Focal Person Peshawar Mega Projects Shaukat Ali Yousafzai, administrative secretaries of LG&RD, P&D, Finance, high ups of district government, WSSP, MSP and town municipal administrations was also attended by certain Nazims and elite of the city.
Shaukat Yousafzai while thanking the Chief Minister on launching the project, hoped that Archeology department would ensure speedy and quality completion of the project that would greatly contribute in checking the ugly incidents due to PESCO spaghetti -turned power supply cables, irregular water supply and gas pipelines that would give the sigh of relief. Director Archeology Dr. Abdul Samad told that design work of the project has already been started since 5th of this month that would be completed by September whereas the digging and construction work would be started forthwith and completed month wise in different phases.
The Chief Minister asked to ensure completion of the project in accelerated speed with consultation and coordination with focal person Shuakat Yousafzai and other public representatives. He also directed the MSP and WSSP to privatize the solid waste, sewerage and hygiene schemes to ensure healthy environment in the city. He further directed the MSP administration to move a summary through local government department for the required bridge financing of Rs. 400-500 million for resolving decade long sewerages issues at various important places of the city including Gulbahar. He also asked for negotiating with USAID authorities for completing release of the committed Rs.5.6 billion. He underlined the need for timely payment of dues to the contractors on work completion basis.
Pervez Khattak directed the MSP and WSSP authorities to complete the land acquisition process of dumping grounds of 2.6 acre plot at Warsak road, waste treatment plant area of old Shamshato refugee camp at Urmar road and waste disposal ground at Yasin Abad Mohammad Zai area so that hurdles could be removed early completion of the city drainage and sewerage schemes. He further asked for accelerating pace on walled city project for documentation of the ancient city wall and downtown historical building and places as well as Gor Gathri Artisan village scheme to promote old skills of the city. Under the scheme 25 skilled experts have been posted in the Artisan village in various ancient skills of stone work, Khadi, Misery, wax painting, Qarkuli caps, embroidery and metal works who were working on transferring their skills to the pupils and the fine art students of various universities.
<><><><><><>

بہ تسلیمات پریس سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
ہینڈ آوٹ نمبر۔1 ۔پشاور۔15 اپریل2017 ء
وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا ایسٹر کے موقع پر پیغام
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے مسیحی برادری کو انکے مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر دلی مبارک باد دی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے مسیحی برادری کے نام اپنے ایک تہنیتی پیغام میں کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر ہیں اور ہم ایسٹر کے حوالے سے مسیحی برادری کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو پاکستان میں بحیثیت شہری مساوی حقوق حاصل ہیں۔ ہمارا مذہب اسلام بھی اقلیتوں کو مساوی حقوق دینے، انکے مکمل تحفظ اور عبادات، رسومات اور مذہبی تہواروں کو پوری آزادی سے منانے کا حکم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے کئی ٹھوس اقدامات کئے ہیں جن کے ثمرا ت بھی سامنے آرہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اقلیتوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی تعمیروترقی میں اپنابھر پور کردار ادا کریں۔موجودہ قومی و عالمی صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہر سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اس بات کا عزم کیا ہوا ہے کہ اقلیتوں کے بنیادی حقوق، تحفظ اور عزت کا بھر پور خیال رکھا جائے اور ہمارا پر خلوص طرز عمل اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ تحریک پاکستان میں اقلیتوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔
<><>><><><>
ہینڈ آوٹ نمبر۔2 ۔پشاور۔15اپریل2017 ء
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے تاریخی شہر پشاور میں ہیرٹیج ٹریل کے نام سے ترقیاتی منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اندرون شہر وہیکل ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہو جائے گا۔ سڑکیں اور بازار ٹف ٹائلز کے فٹ پاتھ میں تبدیل ہوں گی۔ بجلی، ٹیلی فون اور فائبر آپٹک کی تمام تاریں ، نکاسی آب، اور دیگر یوٹیلٹی سروسز زمین دوز بنادی جائیں گی جبکہ قدیم تاریخی عمارات کی تعمیر و مرمت اور آرائش کرکے واپس اصل شکل میں لایا جائے گا۔منصوبے کی ذمہ داری محکمہ آرکیالوجی کے حوالے کی گئی ہے ۔ 12 متعلقہ محکمے اس کی معاونت کریں گے جبکہ اس کی بروقت اور عالمی معیار کے مطابق تکمیل کیلئے ضلع ناظم پشاور ارباب محمد عاصم خان اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری محمد اعظم خان کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ اس منفرد منصوبے کا آغاز تحصیل گور گٹھری سے چوک یادگار تک ہو گا جسے کھدائی شروع ہوتے ہی تین مہینے کی ریکارڈ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گااور دن کے علاوہ آدھی رات کی شفٹوں میں بڑی سرعت سے کام کرکے بڑی بڑی واٹر پروف پائپوں کے ذریعے سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت بچھائی جانے والی فائبر آپٹک کیبلز ، واپڈا اور ٹیلی فون تاریں اور دیگر تمام تاروں کے علاوہ گیس اور آبنوشی کے پائپوں کو بھی زمین دوز بنا دیا جائے گا۔اسی طرح نکاس کے تمام نالوں اور نالیوں کو بھی زیر زمین کردیا جائے گا۔ اس مقصد کیلئے بازاروں اور گلی کوچوں میں زیر زمین دو الگ واٹر پروف بلاک تعمیر کرکے آگے بڑھایا جائے گاتاکہ اندرون شہر تمام تاریخی اور جدید عمارات سیم زدگی سے مکمل طور پر محفوظ رہیں جبکہ بالا زمین ان تمام یوٹیلیٹیز سہولیات کے پوائنٹ بھی جدید بنیادوں پر قاعدہ قانون کے مطابق شہریوں کی ضروریات کے مطابق متعین کئے جائیں گے۔ اجلا س میں رکن صوبائی اسمبلی ، پشاور میگا پراجیکٹس کے فوکل پرسن شوکت علی یوسفزئی ، محکمہ بلدیات،خزانہ اور منصوبہ بندی وترقیاتی سمیت متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ، ضلعی حکومت، ڈبلیو ایس ایس پی، ایم ایس پی اور ٹاؤن انتظامیہ سمیت میونسپل اداروں کے متعلقہ افسران کے علاوہ بعض چید ہ ناظمین اور شہری زعماء نے بھی شرکت کی ۔شوکت یوسفزئی نے منصوبے کے اجراء پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ محکمہ آرکیالوجی منصوبے کی پوری تیز رفتاری کے ساتھ بروقت اور معیاری تکمیل یقینی بنادے گااور اندرون شہر واپڈا کے پیچیدہ جال نما تاروں، بے ترتیب پانی اور گیس کے پائپوں اور نکاس کے کھلے نالوں کی وجہ سے آئے روز ہونے والے حادثات اور مشکلات سے شہریوں کو ہمیشہ کیلئے نجات مل جائے گی ۔ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبد الصمد نے بتایا کہ منصوبے کا ڈیزائن ورک گزشتہ ایک عشرہ پہلے شروع کیا جا چکا ہے جسے ستمبر تک مکمل کرکے کھدائی اور تعمیراتی کام بھی باضابطہ طور پر مہینہ وار بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے شہری ترقی اور نکاس و خوبصورتی کے منصوبے فوکل پرسن شوکت یوسفزئی کے علاوہ متعلقہ ارکان اسمبلی کی باضابطہ مشاورت اور معاونت سے پوری تیز رفتار ی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت کی انہوں نے سالڈویسٹ مینجمنٹ کے تحت شہر کے کوڑا کرکٹ کو سائنسی خطوط پر ٹھکانے لگانے اور ان سے توانائی کی سکیمیں شروع کرنے کا پورا عمل پرائیوٹائیز کرنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے کہاکہ ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ شہری صفائی اور ماحولیاتی بہتری کے یہ اہم کام سرکاری عمل داری میں بہتر انداز میں نہیں ہو پاتے۔ انہوں نے گلبہار سمیت شہر میں نکاس کے بعض پیچیدہ معاملات مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے ایم ایس پی کو درکار 40 تا50 کروڑ روپے کی بریج فنانسنگ فوری نمٹانے کی ہدایت بھی کی اور پراجیکٹ ڈائریکٹر کو اس مقصد کیلئے محکمہ بلدیات کی وساطت سے سمری بھیجنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے ایم ایس پی کیلئے مجموعی ساڑھے پانچ ارب روپے کی ریلیز مکمل کرنے کیلئے یو ایس ایڈ حکام سے رجوع اور فیصلہ کن بات چیت کی ہدایت بھی کی نیز واضح کیا کہ ٹھیکیداروں کو ہر کام کی تکمیل کی بنیاد پر ادائیگیاں کی جائیں ۔وزیراعلیٰ نے سالڈ ویسٹ کے ڈمپنگ گراؤنڈز کیلئے ورسک روڈ پر 2.6 ایکڑ، ارمڑ روڈ پر سابقہ شمشتو مہاجر کیمپ کی وسیع اراضی اور یاسین آباد محمد زئی کے علاقوں میں مطلوبہ پلاٹس کے حصول کا عمل بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ بعدازاں نکاس اور حفظان صحت کے ان منصوبوں میں رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔انہوں نے ورلڈ سٹی پراجیکٹ کے تحت تاریخی فصیل شہر کے علاوہ اندرون شہر قدیم عمارات کی ڈاکو مینٹیشن اور گور گٹھری آرٹیزن ویلج سکیم کے تحت شہر کے قدیم ہنروں کے فروغ کا پروگرام آگے بڑھانے کی ہدایت بھی کی ۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نعیم صافی کی معیت میں اس پروگرام کے تحت گور گٹھری آرٹیزن ویلج میں سٹون ورک، کھڈی، مزری، ویکس پینٹنگ، قراقلی، ایمبرائیڈری اور مسگری سمیت مختلف شعبوں کے ماہر 25 ہنر مند وں کو اپنے متعلقہ شعبوں کے فروغ پر مامور کیا گیا ہے جنہیں تنخواہوں کے علاوہ اپنی مصنوعات کی فروخت کی اجازت بھی دی گئی ہے جبکہ ان کے شاگردوں کوصوبائی حکومت کی جانب سے سکالر شپ دینے کے علاوہ یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم فائن آرٹس کے طلبا و طالبات بھی اُن کے ہنر اور تجربے سے مستفید ہوتے ہیں۔
<><><><><><><>

بہ تسلیمات پریس سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
ہینڈ آوٹ نمبر۔3 ۔پشاور۔15اپریل2017 ء
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اُن کی صوبائی حکومت نے صوبے کے تباہ حال اداروں کی بحالی کیلئے قابل عمل اصلاحات کیں اور ٹھوس اقدامات کئے سیاست زدہ سٹرکچر کو ٹھیک کرکے ڈیلیور کرنے کے قابل بنایا ۔اسی تبدیلی کا تحریک انصاف کے منشور میں عوام سے وعدہ کیا گیا تھا۔عوام کرپٹ اور ناکارہ نظام سے تنگ تھے ۔انہوں نے اس کی تبدیلی کیلئے پی ٹی آئی کا ساتھ دیا ۔ حکمرانوں کے امتیازی سلوک اور تفریق نے قوم میں نفسیاتی مسائل کو جنم دیا۔اسلئے بعض لوگوں کو تبدیلی کا مفہوم سمجھ نہیں آتا اور جس کو تھوڑی بہت سمجھ آ بھی جائے تو وہ توجہ ڈائیورٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔یہ خوش آمدی لوگ ہیں جو خوشامدیوں کے ساتھ ہی خوش رہتے ہیں تبدیلی کیلئے کوئی بھی کاوش اُن کے لئے قابل قبول نہیں ہوتی ۔ہم نے حکمرانوں کے اس امتیازی طرز عمل کے نتیجے میں قوم میں پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل کے حل کیلئے عملاً کام شروع کیا تاکہ بحیثیت قوم سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیداہوسکے۔ ہم نے پورے معاشرے کو ترقی کے یکساں مواقع دیئے تاکہ حقدار کو حق ملے اور کسی سے ناانصافی نہ ہو ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ارکان صوبائی اسمبلی محمد عارف اور ضیاء اﷲ بنگش کی زیر قیادت چارسدہ اور کوہاٹ سے دو الگ وفود سے گفتگو ، شہری ترقی کے اجلاسوں سے خطاب اور نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ تبدیلی کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور وہ عوام کو تبدیلی کی ضرورت اور اہمیت سے آگاہ کرنا عوامی نمائندوں ، ناظمین اورسیاسی و شہری زعماء اور میڈیا سب کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ نظام کی تبدیلی اور نئے پاکستان کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ گذشتہ 70سالوں میں کسی نے بھی مستقبل کی فکر نہیں کی۔ سیاسی جماعتیں صرف ووٹ لینے کی حد تک محدود رہیں اور روٹی، کپڑا، اسلام اور پختونوں کے نام پر دکانداری کرتی رہیں۔ اسلام کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں کچھ نہ کر سکے۔ یہ تحریک انصاف ہی کی پہلی صوبائی حکومت ہے جس نے اسلام کی تعلیمات اور اقدار کے فروغ کے لئے نظر آنے والے اقدامات کئے ہیں۔سکولوں میں پانچویں کلاس تک ناظرہ قرآن جبکہ چھٹی سے بارہویں تک قرآن مجید بمعہ ترجمہ نصاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے ۔اس پیغام کو عوام تک پھیلائیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف نے معاشرے میں پھیلائی گئی ان بیماریوں کی تشخیص کی ہے اور بگاڑ سے تعمیر کی طرف سفر شروع کیا ہے۔ بڑھکیں مارنے والوں کا دور گزر گیا عوام اُن کے دھوکے میں نہیں آئیں گے ۔یہ جتنی بڑھکیں زیادہ ماریں گے اُتنی تیز رفتاری کے ساتھ ختم ہو ں گے ۔ہماری حکمرانی نے پرانے حکمرانوں کے اعمال عوام کے سامنے آشکارہ کردیئے ۔ اب لوگ موازانہ کرتے ہیں تو اُن کے کرتوت اور ہمارے عوام دوست کارنامے سامنے آتے ہیں۔امن و امان کے حوالے سے ایک سوال کے بارے میں کہاکہ ہمارے صوبے کی سطح پر خفیہ معلومات کا باقاعدگی سے تبادلہ ہوتا ہے۔سیکیورٹی ادارے ، فورسز اور انٹلیجنس معلومات شیئر کرتے ہیں۔اکا دوکا واقعات سے صوبے کے مجموعی امن و امان کی تصویر کشی نہیں کی جا سکتی ۔ہم نے اس مسئلے کے کل وقتی حل کیلئے ایک سسٹم بنا دیا ہے جہاں کمزوری ہو گی وہاں باز پرس ہو گی ۔ پرویز خٹک نے کہا کہ لوگوں نے ذاتی کاروبار کیا اور میں صوبے کا سوچتا ہوں۔بلین ٹری پروگرام بھی کامیابی سے جاری ہے۔ لوگ صرف آج کا سوچتے ہیں جبکہ ہم آج ایسے عملی اقدامات اُٹھا رہے ہیں جو ہمارے مستقبل کا بھی حصہ ہوں گے۔صوبائی حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی کے حوالے سے ایک سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں سرمایہ کاری کے لئے جو سرمایہ آتا ہے وہ ہم ایسے منصوبوں پر لگا رہے ہیں جہاں سے ریٹرن آئے گا۔ تاکہ صوبے پر مالی بوجھ نہ پڑے۔ ہر کوئی اپنے حصے کی فکر کرتا ہے۔ہم صوبے کا سوچتے ہیں۔پولیس کی خود مختاری کے حوالے سے پرویز خٹک نے کہا کہ پہلے پولیس صرف وزیراعلیٰ کی غلام ہوتی تھی جبکہ ہم نے پولیس کو اختیارات دیئے ۔ انکواری کمیٹی بنا دی ہے۔صوبے اور ضلع کی سطح پر پبلک سیفٹی کمیشنز بنائے گئے ہیں جو وفاق ابھی تک نہیں بنا سکا۔ہم نے اختیارات دیئے مگر ساتھ چیک اینڈ بیلنس بھی رکھا ہے۔بغیر قانون کے تین سال اختیارات پر عمل در آمد یقینی بنایا۔ ایک فرد کا بھی وزیر اعلیٰ کے کہنے پر تبادلہ نہیں ہوا۔اب تو قانون بھی بن چکا ہے اورعنقریب سیفٹی کمیشن بھی کام شروع کر دے گا۔حکومت کی تین سالہ کارکردگی کے حوالے سے ایک سوال پر پرویز خٹک نے کہا کہ وہ چیلنج کرتے ہیں کہ دیگر صوبے جو کچھ تین سالوں میں ہم نے کیا وہ کر کے دکھائیں۔ اگر لاہور میں میٹرو بس ہے تو ہم بھی ریپڈ بس پر کام شروع کر رہے ہیں جو چھ ماہ میں مکمل کریں گے۔یکم اگست سے اس پر کام شروع ہو گا۔ رواں ماہ اس کے ٹینڈر کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ چمکنی سے حیات آباد تک 26 کلومیٹر طویل مرکزی روٹ پر 33 ارب روپے لاگت آئے گی سات رابطہ روٹس اس کے علاوہ ہیں جن پر اخراجات بھی اضافی ہو ں گے ۔موازنہ کرکے بتاؤں گا کہ خرچہ کتنا آیا، معیار کیا ہے اور استعداد میں کتنا فرق ہے۔ لاہور میٹرو سروس پر80 بسیں چل رہی ہیں ہم تین سو پچاس ایئر کنڈیشنڈ بسیں چلائیں گے۔جس طرح ہم نے صوبہ بھر میں ڈاکٹر اور اساتذہ پورے کیے،ہسپتالوں کو خود مختاری دی،لاکھوں پودے لگائے،صنعتی پالیسی کے تحت جو مراعات دے رہے ہیں یہ سب کر کے دکھائیں۔ سرکلر ریلوے منصوبے پر معاہدہ ہو چکا ہے اسکے تحت چھ اضلاع کو باہم منسلک کریں گے۔یہ سی پیک منصوبہ ہے اس کے لئے قرضہ نہیں لیں گے بلکہ سرمایہ کاری لائیں گے ۔صوبے میں سیمنٹ فیکٹریوں کے قیام کیلئے مختلف کارخانہ داروں کو 13 لیز دے چکے ہیں۔ یہ لیز شفاف طریقے سے میڈیا کے سامنے دیئے ہیں۔پرویز خٹک نے کہا کہ وہ اب بھی اپنے موقف پر قائم ہیں کہ صرف سڑکیں بنانے سے ترقی نہیں ہوتی ہاں یہ دنیا کا ٹرینڈ ہے اپنی جگہ اس پر کام یہاں بھی جاری ہے مگر نظام کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ارکان صوبائی اسمبلی محمد عارف اور ضیاء اﷲ بنگش کی سرکردگی میں مقامی ناظمین اور زعماء کے وفود کے ساتھ شبقدر، چارسدہ اور کوہاٹ کی تعمیر وترقی سے متعلق دو الگ الگ اجلاسوں کی صدارت کر تے ہوئے وزیراعلیٰ نے ان علاقوں میں شہری خوبصورتی، نکاس ، سالڈ ویسٹ اور حفظان صحت کی متعدد سکیموں کی منظوری دی جبکہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور میونسپل حکام کو ان کی بروقت اور معیاری تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی انہوں نے ارکان اسمبلی کی نشاندہی پر تعلیم وصحت، آبنوشی، آبپاشی اور زراعت سمیت کئی دیگر شعبوں میں سہولیات کی بہتری کیلئے موقع پر احکامات جاری کئے۔ان اجلاسوں میں متعلق ڈویژنل و ضلعی اور میونسپل حکام کے علاوہ وزیر خزانہ مظفر سید ایڈو کیٹ، وزیرتعلیم محمد عاطف خان، وزیر آبنوشی شاہ فرمان خان، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی اور دیگر انچار ج وزراء اور مشیروں نے بھی شرکت کی۔
<><><><><><><><>

15-apr15-4-2017 CM Urdu Handout 01

15-apr15-4-2017 CM Urdu Handout 02