CM KPK Talking with Participants of 106th NMC

Wednesday, 05 April 2017 14:35 | READ 74 TIMES Written by 
RATE THIS ITEM
(0 votes)

With the compliment of Press Secretary to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa

Handout No.1 Peshawar 3rd April 2017

Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Pervez Khattak hinted at an increased salary package for the officers in the province. He wanted increase of the salary of the officers so that they could deliver and contribute to the reformed system and institutions for the benefit of the people. He said he successfully fought the provincial rights with the federal government and succeeded. If the federal government did not create any obstacle, he would attract maximum foreign investment in the province adding that he was for the merger of FATA into Khyber Pakhtunkhwa and added that only a uniform education system can narrow down the yawning gap between the rich and poor.

These remarks he made while addressing the participants of 106 Management Course at Chief Minister Secretariat Peshawar. Chief Secretary Abid Saeed, ACS Azam Khan, Secretary Home Shakeel Qadir and Secretary P&D also attended.

The Chief Minister said his government eliminated political interference in the public sector institutions, gave transparent governance, discouraged corruption and ensured judicious distribution of resources in the province. His government he added would increase the salary package of the bureaucracy so that they could deliver to the maximum.

The Chief Minister said that the system of governance brought about by his government was taken well by the people and hoped that on the basis of his government performance, PTI would stage a comeback. He said that education, health, good governance, speedy justice and reformed Patwar system were his government mega projects.

The Chief Minister said his government succeeded in fighting the provincial rights that increased the caped Rs. 6 billion to Rs.18 billion annually and convinced the federal government to pay its dues on net hydel profit. The federal government has already scheduled the payment of Rs. 100 billion to the province, he added. He said that he also got the additional surplus natural gas approved for the province which would be used for producing electricity and would be provided to the three industrial zones at Hattar, Rashakai and D.I.Khan.

Pervez Khattak on the CPEC said that the province was initially kept at dark but when he agitated against it. The Prime Minister convened an All Parties Conference and agreed to the western route to be part of CPEC. He said that he then kept on voicing for it at all forums and he single handedly made the western route part of CPEC. His government was holding a road show in Beijing on 16th and 17th of this month to market more than 100 viable projects. He wanted investment and would never go for loans for such projects which were not viable and could become a burden on the resources of province and country.

The Chief Minister expressed in categorical term the merger of FATA into Khyber Pakhtunkhwa adding that the tribal were accustomed to the laws of the country. The only thing to do is the extension of existing laws and system of governance including policing and local government system. He was against any experimentation in FATA adding that the officers of the province posted out there were delivering. He said he had recommended representation to the FATA in the provincial assembly and added that the federal government agreed to it but under the power of governor and the MNAs were to launch developmental schemes. He objected to the whole scheme of things and in the previous apex committee, the Army Chief promised to talk to the Prime Minister on this. He said that under the federal government 5 years plan of mainstreaming, the FATA would get representation but its members would not have the power to make any legislation that would create further complications.

Pervez Khattak said that he had a plan for uniform education system to bridge the gap between the rich and poor. Education could make a difference. He wanted mainstreaming even the Deni Madaras so that all in the society should have an even playing field for their future. It was unfortunate that his tenacity was doubted. He said that his government’s record legislation made a difference ensuring good governance and eliminating corrupt practices adding that his government reformed the police system that become a professional force and regained the lost trust of the people. He said his government made decision making and recruitment on merit. His efforts were resisted by the forces of status quo but he kept on moving on the reform agenda under the definite aim to get the poor rid of the exploitative system. He wanted a system having an inbuilt mechanism for the resolution of people problems specially the poor should not look to influential for their help, he concluded.

<><><><><><><>

بہ تسلیمات پریس سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
وزیراعلیٰ سے نیشنل مینجمنٹ کورس کے وفد کی ملاقات
ہینڈ آوٹ نمبر۔1۔پشاور۔3اپریل2017 ء
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے گریڈ 17 اور اُ س سے اوپر کے افسران کی تنخواہوں میں اضافے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے صوبے کی مالی صحت کا اندازہ لگانے کے بعد سرکاری افسران کی تنخواہوں میں مناسب اضافے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ پورے اطمینان قلب کے ساتھ کام کرکے ہمارے بنائے ہوئے تبدیل شدہ سسٹم اور تبدیل شدہ اداروں کو مزید فعال اور عوامی خواہشات کا تابع بنا سکیں۔ ہم نے وفاق سے صوبے کے آئینی حقوق حاصل کئے کیونکہ ہمیں صوبے کے آئینی حقوق کا ادراک تھا ۔اگر وفاق نے سی پیک میں صوبے کیلئے مشکلات کھڑی نہ کیں تو ہم اپنی تیاری کے بل بوتے پر توقعات سے زیادہ سرمایہ کاری لانے میں کامیاب ہوں گے ۔فاٹا کے انضمام پر ہمارا موقف واضح ہے ۔ہم سالوں کی بجائے ہفتوں میں اس انضمام کے حق میں ہیں ۔ ہمارا موقف صوبے میں رائج قوانین بشمول بلدیاتی نظام اور پولیس کو قبائلی علاقوں میں توسیع ہے ۔ہم یکساں تعلیمی نظام کے ذریعے طبقاتی اور امیر و غریب کے درمیان فرق ختم کریں گے ۔وہ پیر کے روز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں 106ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاء کے وفد سے اپنے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری عابد سعید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اعظم خان، سیکرٹری محکمہ داخلہ شکیل قادر، سیکرٹری پی اینڈ ڈی شہاب علی شاہ و دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اُن کی حکومت نے صوبے کے عوام کو ایک شفاف نظام دیا ۔اداروں سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرکے ہم نے عوام کو ریلیف دینے کا عمل سہل بنا دیا ۔ صوبے میں ترقیاتی عمل کو شفاف بنایا،رشوت کا خاتمہ کیا اور ہر علاقے کو ترقی کیلئے منصفانہ حصہ دیا تاہم اداروں پر کھڑے اس سسٹم کو قائم و دائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کے چلانے والوں کو خدمات کا مناسب صلہ بھی ملے اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ کم تنخواہ میں وہ اپنے کام سے مکمل طور پر انصاف نہیں کرسکتے ۔آئندہ سال ہم ان کی تنخواہوں میں اضافہ کا سوچ رہے ہیں۔ہمارے میگا پراجیکٹس تعلیم، صحت ، کرپشن کا خاتمہ ، پٹوار سسٹم اور تیز تر انصاف کی فراہمی ہے ۔ہم نے شفاف حکمرانی کے نئے اسلوب متعارف کرائے جس کو عوام کی پذیرائی ملی اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر صوبے میں دوبارہ اقتدار میں آ ئیں گے ۔وزیراعلیٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اُن کی حکومت نے وفاق کے ذمے واجب الادا پن بجلی کی مد میں 100 ارب روپے کے بقایا جا ت منوائے اور انکی وصولی کا طریقہ کار وضع کیا ۔اس مد میں منجمد شدہ 6 ارب روپے کو 18 ارب روپے تک بڑھایا ۔ صوبے کی اضافی گیس سے بجلی پیدا کرکے حطار ، رشکئی اور ڈی آئی خان کے صنعتی زونز میں صنعتکاری کے فروغ کیلئے فراہم کرنے کا حق بھی حاصل کیا۔سی پیک کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ابتدائی دو سال صوبے کو اندھیرے میں رکھا گیا جبکہ دوسری طرف کوئلے سے بجلی پیدا کرنے اور دیگر بڑی بڑی سکیموں کا افتتاح ہو رہا تھا ہم نے شور مچایا جس کی وجہ سے آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی مغربی روٹ منظور کرایا اور کچھ ہی مہینوں میں صوبے میں پائیدار صنعتی ترقی کی بنیاد رکھی ۔ چائنا سمیت بین الاقوامی سرمایہ کار صوبے میں سرمایہ کاری کیلئے آرہے ہیں۔ ہماری حکومت 16 اور 17 تاریخ کو بیجنگ میں روڈ شو کرنے جارہی ہے جس میں تقریباً100 سے زیادہ پراجیکٹس مارکیٹ کئے جائیں گے ۔ہم وایبل پراجیکٹس صوبے کیلئے بنا چکے ہیں اور اس میں سرمایہ کاری ہمارا ہدف ہے ۔ہم قرضے لیکر صوبے کو ڈبونا نہیں چاہتے اور نہ ملکی قرضوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایسے پراجیکٹس مارکیٹ کریں گے جو منافع بخش ہوں اور اگر وفاق نے ہمارے راستے نہ روکے تو ہم صوبے میں توقعات سے زیادہ سرمایہ کاری لانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ فاٹاکے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق ہمارا موقف واضح ہے ہم فاٹا کو خیبرپختونخو اکا حصہ دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ کوئی اتنا مشکل کام بھی نہیں ہے کہ اس کیلئے پورے پانچ سال کا لمبا چوڑا پلان بنایا جائے ۔فاٹا کے لوگ ہمارے قوانین اور سسٹم سے بخوبی واقف ہیں ۔ فاٹا میں نئے تجربات کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے نہ اس سلسلے میں کسی طرف سے شرارت ہونی چاہیئے ۔ہمارے صوبے کے افسران فاٹا میں تعینات ہیں اور ڈیلیور کر رہے ہیں۔ہماری پولیس کا سسٹم بھی وہاں رائج ہو سکتا ہے ۔ہم نے 2018 الیکشن میں فاٹا کے ممبران کو صوبے میں نمائندگی دینے کی سفارش کی تھی نمائندگی سے تو اتفاق کیا گیا لیکن اختیار گورنر کو دیا گیا نیز یہ کہ سیکرٹریٹ گورنر کے ماتحت ہو گا ۔ ترقیاتی عمل بھی ایم این ایز کے ذریعے جاری رہے گا جس سے مزید گھمبیر مسائل جنم لیں گے۔ اس پر میں نے اپیکس کمیٹی میں آرمی چیف کے سامنے اعتراض اُٹھایا اور انہوں نے پرائم منسٹر سے بات کرنے کا وعدہ کیا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب ایف سی والے اپنے 10 ہزار اہلکار پولیسنگ کیلئے فاٹا کو دے سکتے ہیں تو پھر اس میں کون سی رکاوٹ حائل ہے ۔ ہم نے سوال اُٹھایا ہے کہ 2018 ء کے انتخابات سے فاٹا کے ارکان خیبرپختونخوا اسمبلی کا حصہ تو بن جائیں گے مگرفاٹا کے یہ ارکان اپنے لئے قانون سازی نہیں کرسکیں گے جبکہ وزیراعلیٰ کا اختیار بھی ان علاقوں تک نہیں ہو گا دوسری طرف فاٹا کی مالی اور انتظامی اختیارات سمیت فاٹا میں افسران کی تقرریوں اور تبادلوں کا اختیار وفاق کے پاس ہو گا جبکہ وزیراعلیٰ کے پاس کسی قسم کا اختیار نہیں ہو گا جو فاٹا میں مزید بد انتظامی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح وزیراعلیٰ اور فاٹا سے نومنتخب ارکان بے اختیار ہوں گے تو پھر صوبائی اسمبلی میں محض فاٹا کو نمائندگی دینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔صوبے میں تبدیلی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے بہتر نظام تعلیم کے ذریعے طبقاتی اور امیر و غریب کے فرق کو مٹانے کیلئے یکساں نظام تعلیم کی طرف پیش قدمی کی ۔ صوبے کے ابتدائی تعلیم میں انگریزی متعارف کرائی۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کہ دینی مدار س میں اصلاحات کیلئے ہمارے اُٹھنے والے اقداما ت کو شک و شبے کی نگاہ سے دیکھا گیا اور اس پر تنقید کی گئی ۔جبکہ ہماری کوشش پورے معاشرے کیلئے یکساں تعلیمی میدان فراہم کرنا ہے تاکہ ہر کوئی اپنی قابلیت کی بنیاد پر مقابلے کی دوڑ میں اپنے لئے مقام بنائے ۔کیونکہ ہم نے قوم بنانی ہے اور قوم بنانے کیلئے سب کو مقابلے کی یکساں فضاء مہیا کرنا ضروری ہے۔وزیراعلیٰ نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ ہماری حکومت کی ریکارڈ قانون سازی اور اصلاحات کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہو رہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ پولیس ریفارمز کے ذریعے ہم نے عوام کو فرسودہ تھانہ کلچر سے نجات دلائی ہم نے صرف پولیس سے ہر قسم کی مداخلت کا خاتمہ کیا جس سے پولیس ایک فورس بن کر اُبھری اور اب نہ صرف پولیس فورس عوام کی کھوئے ہوئے اعتماد کو بحال کرچکی ہے بلکہ ترقیافتہ اقوام کی پولیس سے اس کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ اطلاعات تک رسائی ، خدمات کی فراہمی اور کانفلکٹ آف انٹرسٹ سمیت دیگر قوانین کے ذریعے لوگوں کو کرپشن کے خلاف منظم کیا گیا ۔ مقام شکر ہے کہ اب صوبے میں امن و امان کی بہتری اور اداروں کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ عوام کا معیار زندگی اور معاشی حالات بھی بہتر ہونا شروع ہو چکے ہیں ۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی کی بدولت نہ صرف نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں بلکہ ان کا عوامی سطح پر اعتراف بھی ہونا شروع ہو چکا ہے۔ ہم نے بر سر اقتدارّ نے کے بعد سٹیٹس کو اور سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر فیصلوں کا عمل جاری رکھنے کی بجائے زمینی حقائق کی بنیاد پر بعض تلخ فیصلے بھی کئے اور ان کے نتائج بھی حوصلہ افزاء رہے۔وزیر اعلیٰ نے اعتراف کیا کہ تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھانے میں ہمیں حد درجہ رکاوٹوں کا سامنا رہا مگر ہمارا عزم ان رکاوٹوں سے کہیں زیادہ پختہ ہے۔ماضی میں عوام مسائل کے حل کے لئے اپنے نمائندے چنتے مگر انکے اہداف اور مقاصد اور تھے البتہ ہم نے عوام کو سیاسی آزادی دلا کر انہیں فرسودہ نظام کے چنگل سے چھٹکارا دلایاہے اور نظام کو ایسا بنا دیا کہ عوام کے مسائل خود بخود حل ہوں اور انہیں افراد کا محتاج نہ بننا پڑے۔پرویز خٹک نے کہا کہ صوبے کی سیکورٹی کی صورتحال مثالی بنا دی گئی ہے ۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں خیبر پختونخوا بنیادی اہمیت رکھتا ہے جس کا وفاق کو بھی ادراک ہونا چاہیئے۔
<><><><><><><><>

3-apr3-4-2017 CM Photo in group photo with participants of 106th NMC