CM KPK Talking to Chairman JS Group of Industries

Monday, 20 March 2017 05:01 | READ 149 TIMES Written by 
RATE THIS ITEM
(0 votes)

With the compliment of Press Secretary to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa

Handout No.1 Peshawar 18th March 2017

Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Pervez Khattak has said that Khyber Pakhtunkhwa was fast becoming the center of trade, commercial and industrial activities adding that his government did away with the condition of NoC that created a conducive environment for rapid industrialization in the province.
He was addressing the chairman of JS Group of Industries Ali Jehangir Siddiqui and his team who met the Chief Minister here at Chief Minister House Peshawar. Chairman EZDMC Ghulam Dastagir and others also attended. Giving details of the Provincial government industrialization policy and the incentives given in this regard, the Chief Minister said his government introduced a one window operation giving all facilities and solving all problems of the investors and industrialists under one window operation. Even the province would extend extra gas for the electricity production to be consumed in the industrial units in different industrial estates, he added. He asked the Chairman JS Group to interact with the EZDMC and assured his government would facilitate investment in the province.
The delegates appreciated the steps of the provincial government for the fast track industrialization and investment friendly steps and sure interest for investment in different projects.
The Chief Minister said that in the emerging scenario, KP province occupied the central stage for industrialization and investment. In the given situation, the provincial government had taken all steps for investment facilitation. He asked the industrialists to come forward and avail the opportunities extended by the provincial government steps and its pro investment policy adding that his government has already established an autonomous company for investment facilitation in the province.
The Chief Minister reminded the delegates that the western route was 500 Km shorter. Another alternative route from Gilgit, Shandoor, Chitral, Dir linking Chakdara towards motorway has become part of the CPEC. “This province has a future linking Afghanistan and central Asia Republic thus integrating the whole region that will become the center of all trade and commercial activities”. He went on saying “The future stays with us and we will make best use of the advantages to take our region to the new heights of development to emulate the developed regions of the world”.
Pervez Khattak also spoke about the Chinese investment in different industrial estates of the province. The Chinese, he added, agreed to lay down necessary infrastructure and develop the Rashakai industrial estate which they think was the center of the region and from where they could take their produces to other countries and regions. He kept on saying, the Chinese also indicated the relocation of labour intensive industrial units to the Rashakai industrial estates. He informed the delegates that investment from other countries as well was also flooding to KP as they wanted to be part of the CPEC and drew benefit out of it.
The Chief Minister said this province in the backdrop of CPEC “has a secure future in terms of development, prosperity and jobs for the jobless”. He said his government had a vision for the development of the province. It tracked the province on expeditious road to development and revamped the entire system of governance. He said his government successfully eliminated corruption and irregularities that was the main reason that the investors were landing in the province and they were taking well his government pro-investment policy and steps, he concluded.
<><><><><><><><><>

Handout No.2 Peshawar 18th March 2017

Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Pervez Khattak has announced the up-gradation of police constable from grade-5 to grade-7, Head Constable from grade-7 to grade-9, ASI from grade-9 to grade-11 bringing them to the level of Punjab Police. The Chief Minister lauded the services of IGP Nasir Khan Durrani for making the Police a true professional force.
He was addressing the farewell party giving to Nasir Khan Durrani at Police Line Peshawar the other day. Governor Khyber Pakhtunkhwa Zafar Iqbal Jahgra, Chief Secretary Abid Saeed, Provincial Ministers, MPAs, high ranking officials and senior journalists attended. The Chief Minister remarked that the standard of policing set by the outgoing IGP Nasir Khan Durrani would be carried ahead by the new officer. He said it was hard to deliver in war-torn province like ours but he proved that even in the worst condition, the officers having the capacity and commitment can deliver. He reminded that when he took over he wanted to find a head for the Police to be a honest and upright one that took three months and we got Nasir Khan Durrani. In the first meeting he demanded that he would restore the people confidence on police, if the political elite did not interfere in the affairs of police that was a promise he made to the IGP and he (IGP) fulfilled his word for converting the police into a true professional force. Now Police was delivering and model Police stations established at Tehsil level and some are being established. The people now were comfortable with the level of delivery of police force in the province, he added.
<><><><><><><>

بہ تسلیمات پریس سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
ہینڈ آوٹ نمبر۔1۔پشاور۔18 مارچ2017 ء
وزیراعلیٰ خیبرپختونخو اپرویز خٹک نے صوبائی پولیس اہلکاروں کی اپ گریڈیشن کی منظوری دیتے ہوئے اعلان کیا کہ کانسٹیبل کا گریڈ5 سے 7 ، ہیڈ کانسٹیبل کا گریڈ 7 سے 9 ، اے ایس آئی کا گریڈ9 سے 11 کرکے پنجاب پولیس کے برابر کر نے کا اعلان کیا۔انہوں نے سبکدوش ہونے والے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ ناصر خان درانی نے پولیس کا جو معیار بنایا وہ ایک جنگ زدہ صوبے میں آسان کام نہیں تھا ۔ وزیراعلیٰ نے پولیس کے ذمہ دار افسران سے کہا کہ وہ ناصر خان درانی کے کام کو آگے بڑھائیں۔ تھانے بہتری کی طرف جارہے ہیں۔ ان پر نظر رکھیں کیونکہ اگر تھانوں میں آنے والے پریشان عوام کو عزت نہ ملے تو ان کی پریشانی مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پولیس کانسٹیبل اور اے ایس آئی کی اپ گریڈیشن کا اعلان بھی کیا ۔و ہ پولیس لائن پشاور میں سبکدوش ہونے والے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی کے اعزاز میں منعقدہ الواداعی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ گورنر خیبرپختونخوا ظفر اقبال جھگڑا اور چیف سیکرٹری عابد سعید نے بھی تقریب سے خطاب کیا جبکہ صوبائی وزراء ، اراکین قومی اسمبلی ، صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام، محکمہ پولیس کے سابقہ و موجودہ افسران اور سینئر صحافیوں نے تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ ناصر خان درانی کی کمی محسوس کریں گے ۔ انہوں نے ایک کمانڈر کی حیثیت سے محکمہ پولیس کو ٹھیک کرنے میں کردار ادا کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب وہ حکومت میں آئے تو انہیں ایسے آدمی کی تلاش تھی جو پولیس کو ایک فورس بنا سکے۔ درانی صاحب کو اس صوبے میں لانے کیلئے تین ماہ لگے۔ ان کے لئے حیران کن اور خوشی کی بات یہ تھی کہ ناصر خان درانی نے پہلی ملاقات میں ہی بغیر مداخلت کے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ میں نے اپنے تمام اختیارات بغیر کسی قانون کے آئی جی کو سپرد کئے اور پولیس کو خود مختاری دی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان کا آئی جی سے شروع دن سے یہ مطالبہ تھا کہ انہیں تھانہ کلچر ٹھیک چاہیئے ۔ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال کریں۔ ایف آئی آر کا غلط اندراج نہ ہو۔ تھانے میں عوام کو عزت ملے۔پولیس کے عوام کے ساتھ رویے میں تبدیلی چاہیئے۔ تھانوں میں رشوت اور غیر قانونی سرگرمیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ تین سال بغیر قانون کے اختیارات دیئے اور کبھی مداخلت نہ کی۔ تین سال کے بعد شدید رکاوٹوں اور بڑی مشکلات سے گزر کر قانون پاس کیا۔ اب پولیس ایک آزاد اور با اختیار فورس بن چکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ جب وہ حکومت میں آئے تو پولیس میں کوئی انٹیلی جنس ادارہ نہ تھا۔ معلومات کے تبادلے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا ۔ یہ دیکھ کر انہیں بہت پریشانی ہوئی کیوں کہ انہیں ڈیلیور کرنا تھا۔ عوام سے کئے گئے وعدے کے مطابق ان کو انصاف اور حق دینا تھا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اگر نیت صاف ہو تو اﷲ تعالیٰ مدد کر تا ہے۔ ہمارا ارادہ ٹھیک تھا ، نیت صاف تھی تو آج پولیس ایک فور س بن گئی جس پر ہمیں فخر ہے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ ہسپتال اور تھانہ دو ایسے ادارے ہیں جہاں عوام پریشانی کی صورت میں آتے ہیں۔ وہاں انہیں عزت ملنی چاہیئے اور ان کی پریشانی کو کم کیا جا نا چاہیئے۔ ذمہ دارافسران تھانوں پر نظر رکھیں اور آئی جی کے کام کو مزید آگے بڑھائیں دل سے کام کریں تو مزید عزت اور ثواب ملے گا۔ تحصیل کی سطح پر ماڈل سٹیشنز بن چکے ہیں اور کچھ بن رہے ہیں۔
<><><><><><>
ہینڈ آوٹ نمبر۔2 ۔پشاور18 مارچ2017 ء
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ انہوں نے صوبے میں صنعتکاری کیلئے آئیڈیل ماحول بنا دیا ہے۔ نئی صنعتوں کے قیام کیلئے این او سی کی شر ط ختم کر دی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا کمرشل اور صنعتی سرگرمیوں کا مرکز بن رہا ہے۔ ون ونڈ و آپریشن کی سہولت دی جارہی ہے۔ صنعتی بستیوں میں گیس سے بجلی پیدا کرکے براہ راست صنعتوں کو دیں گے ۔ صنعتکار ازمک کے ساتھ مل کر اپنی غرض و غایت کلیئر کرلیں۔ سرمایہ کاری کے مجموعی عمل میں حکومت بھر پور تعاون کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوس پشاو رمیں چیئرمین جے ایس گروپ علی جہانگیر صدیقی اور اُن کی ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔چیئرمین ازمک غلام دستگیر بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ وفد نے مختلف شعبوں میں تیز رفتاری سرمایہ کاری کے عمل کو سراہا اور متعدد منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخو اکو صنعتکاری کیلئے آئیڈیل قرار دیتے ہوئے کہاکہ اُن کی حکومت سرمایہ کاروں کو ہر قسم کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ صوبے میں صنعتکاری کو ترقی دینے کیلئے مقامی صنعتکار بھی آگے آئیں اور صوبے میں سرمایہ کاری کے مواقعوں سے فائدہ اُٹھائیں ۔ خیبرپختونخوا اب سرمایہ کاری کیلئے اوپن ہو چکا ہے۔ چین اور دیگر بیرونی ممالک سے سرمایہ کار صوبے کا رخ کر رہے ہیں۔ صنعتکاروں کی سہولت کیلئے آزاد اور بااختیار کمپنی ازمک موجود ہے۔ خیبرپختونخوا ہولڈنگ کمپنی بنانے پر لگے ہوئے ہیں۔ حالات بہتر ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ سی پیک کا مغربی روٹ 500 کلومیٹر مختصر ہے۔ گلگت سے چترال متبادل روٹ بھی سی پیک کیلئے تجویز کیا گیا ہے۔ صوبہ افغانستان، واخان کے ذریعے وسطی ایشیاء سمیت پورے خطے کیلئے تجارتی سرگرمیوں کا حب بننے جارہا ہے۔ چین رشکئی صنعتی بستی کی ترقی اور چین سے صنعتوں کی ریلوکیشن کیلئے آرہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں ترقی اور خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ہے۔

<><><><><><>

18-mar18-3-2017 CM and Governor Photo in farewell ceremony at Police Line Peshawar and Talking to Chairman JS Group of Industries1

18-mar18-3-2017 CM and Governor Photo in farewell ceremony at Police Line Peshawar and Talking to Chairman JS Group of Industries2