CM KPK Talking to outgoing Inspector General of Police Nasir Khan Durrani after Hosting a Farewell Dinner

Thursday, 16 March 2017 13:13 | READ 462 TIMES Written by 
(0 votes)


Handout No. 1 /PESHAWAR/DT: 15th March 2017

The Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Pervez Khattak has said that revamping the institutions and putting at place a flawless system for efficient service delivery has always been a hard task to do. His government took pressure but never compromised on revamping of public sector institutions and changing the system for service delivery. Now police has emerged a professional force but this revamping had a number of steps that his government took. These steps included; bring an end to political interference, making it free from all sort of influences and giving them an ideal environment to deliver the professional policing responsibilities so that it could regain the lost trust of the people.
He was addressing a farewell given in honour of the outgoing IGP Nasir Durrani at Chief Minister House Peshawar. The Chief Minister commenting on the past miserable delivery of police said that previously the people complaints were growing against police. Police used to protect the interest of those who posted them. This government did away with this, it introduced reforms and gave the police force operational and financial autonomy. His government discouraged political interference in posting and transfers of police enforcing a check and balance mechanism that brought considerable improvement in their performance that succeeded to restore the people’s confidence in police. He said he had asked the police that his government wanted a changed Thana culture, curbing corruption and banishing using 3rd degree torture in Thanas that had defamed the police. I asked them against illegal FIRs and elimination of hooliganism in Thanas. Following these advices, police emerged a true professional force dedicated to serve the people and resolve their complaints.
Pervez Khattak said that the change of system and the making of institutions was not an easy task to do. In the process the reformers had to face multifaceted pressure from different forces of status quo. It was easier to let the police work and get political mileage and use the force for political gains but it was against the interest of the people and the province, he added. He said his government thought that enough was enough, let the police work for the public welfare and do justice with their professional responsibilities and address to the public complaints and grievances, he added. He said that the reforms introduced in different public sector entities including the police force was a pleasant experience, the people started experiencing good at the end. Still we have to work on police to remove the remaining weaknesses that were there and the people still had complaints about them but at least we have set the direction of the police and we are moving on the right track. He revealed during the four years, the people from a cross shades sought favour but he refused because he wanted police to be a true professional force dedicated to the professional delivery in consonance with the people’s aspirations. He reminded that before legislation, he had transferred all his power to police so that they could not find any excuse in the delivery. Now fresh blood inducted to the police through NTS who had the ability to work more honestly, with zeal and dedication and the happier reality is that now police could not be used for political gains. We are not espousing the desire to accumulate power, we want to devolve power with check and balance mechanism so that the system itself could regain momentum and start delivery. He said his government wanted a revamped system for the coming generation. He also hinted reforms for bureaucracy so that they could also work without any political influence.
Pervez Khattak lamented that the political leadership and the decision makers had a mismatch between their words and actions. They wanted one thing and doing another, this should be stopped. His government wanted justice for all, protection of rights of the people, giving rights to the deserving, merit based decision making and the system should have an inbuilt solution to all this that would provide a space to the people to have an easy access to the services. He appreciated the outgoing IGP Nasir Durrani who delivered professionally and won the heart of the people through his professional working. He hoped that the new one would take forward the good work started by Nasir Durrani.
IGP Nasir Durrani in his address said that his stay in the province was one of the greatest ever experience of his career. The political leadership gave him its vision and he did it with noble intension. It was surprising “how a political leadership could delegate power to institutions, rarely witnessed in the history of the country”. He paid solute to the PTI leadership who took pressure but never transferred it to the police force.
The Chief Minister gave a shield to the outgoing IGP Nasir Durrani in recognition of his remarkable services to the people during his stay in the province.

بہ تسلیمات پریس سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
ہینڈ آؤٹ نمبر1پشاور15مارچ2017
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ خدمات کی فراہمی کیلئے اداروں کی بحالی اور ایک قابل عمل اور جوابدہ نظام کا قیام ہمیشہ سے ایک مشکل کام رہا ہے۔اُن کی حکومت نے دباؤ تو لے لیا مگر خدمات کی بہترین فراہمی کیلئے نظام کی تبدیلی اور سرکاری اداروں کی بہتری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ۔اب پولیس ایک پروفیشنل فورس بن چکی ہے۔اس مقصد کیلئے اُن کی حکومت نے متعدد اقدامات کئے ہیں۔پولیس کو سیاسی مداخلت اور ہر قسم کے اثر و رسوخ سے آزاد کیا ۔پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے پولیس کو آئیڈیل ماحول دیا تاکہ پولیس پر عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال کیا جا سکے ۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سبکدوش ہونے والے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی کے اعزاز میں دیئے گئے الوداعی عشائیہ سے خطاب کر رہے تھے ۔وزیراعلیٰ نے پولیس کی ماضی کی ناقص خدمات پر بات کرتے ہوئے کہاکہ پہلے پولیس کے خلاف عوام کی شکایات بہت زیادہ تھیں ۔جو لوگ پولیس کو تعینات کرتے تھے وہی پولیس کو اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے استعمال کرتے تھے ۔موجودہ حکومت نے اصلاحات متعارف کروائیں اور پولیس کو مالی اور آپریشنل خود مختاری دی ۔اُن کی حکومت نے پولیس کی تعیناتیوں اور تبادلوں میں سیاسی مداخلت کی حوصلہ شکنی کی اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی رکھا جس نے پولیس کی کارکردگی میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ان اقدامات کی وجہ سے پولیس پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں کامیاب ہوئے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُنہوں نے پولیس کو کہا کہ اُن کی حکومت تھانہ کلچر کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔کرپشن اور تھانوں میں بہیمانہ تشددکا خاتمہ چاہتی ہے جس نے پولیس کو بد نام کر رکھا تھا ۔انہوں نے کہاکہ تھانوں میں غلط ایف آئی آر کا اندراج قبول نہیں ہو گا۔ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پولیس عوامی مسائل کے ازالے اور لوگوں کی خدمت کیلئے ایک پروفیشنل فور س بن کر اُبھری ۔ پرویز خٹک نے کہاکہ نظام کی تبدیلی اور اداروں کی تشکیل کو ئی آسان کام نہیں تھا اصلاحات کے اس عمل میں انہیں سٹیٹس کو کی قوتوں کی طرف سے مختلف قسم کے دباؤ اور رکاوٹوں کا سامنا تھا ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کے لئے یہ بہت ہی آسان تھا کہ پولیس کو پہلے کی طرح کام کرنے دیتے اور اُس سے ذاتی مفاد حاصل کرتے اور اپنے ذاتی مقاصد کیلئے پولیس کا استعمال کرتے لیکن یہ عوامی مفاد کے بالکل خلاف تھا ۔اُن کی حکومت نے سوچا کہ جتنا کچھ ماضی میں ہو گیا وہ کافی ہے۔اب پولیس کو عوامی فلاح کیلئے کام کرنا ہے۔اُسے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے ساتھ انصاف کرنا ہے ۔عوامی شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ پولیس سمیت مختلف سرکاری اداروں میں انہوں نے جو اصلاحات متعارف کرائیں ایک خوشگوار تجربہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ پولیس میں جو کمزوریاں رہ گئی ہیں اُن کو دور کرنے کیلئے ابھی مزید کام کرنا ہے۔لوگوں کو ابھی تک پولیس سے متعلق بعض اوقات شکایات ہوتی ہیں۔ ہم نے پولیس کیلئے ایک درست سمت کا تعین کر دیا ہے اور اب ہم بہترین ٹریک پر جارہے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران ہر طبقے سے لوگوں نے سفارش کیلئے کوشش کی لیکن انہوں نے انکار کیاکیونکہ وہ پولیس کو ایک مخلص اور پروفیشنل فور س دیکھنا چاہتے تھے جو لوگوں کی توقعات کے مطابق خدمات فراہم کرسکے ۔انہوں نے یاد دلایا کہ قانون سازی سے پہلے ہی وہ اپنے تمام اختیارات پولیس کو منتقل کر چکے تھے تاکہ خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں وہ کوئی معذرت نہ کر سکیں۔ اب این ٹی ایس کے ذریعے نوجوان لوگ پولیس میں آرہے ہیں جو قومی جذبے اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔اب پولیس کو سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ہم اختیارات کے ایک ہاتھ میں ارتکاز کی حمایت نہیں کرتے ۔ہم ایک چیک اینڈ بیلنس کے میکنزم کے ساتھ اختیارات کو منتقل کرنا چاہتے ہیں تاکہ نظام کو خدمات کی فراہمی کیلئے دوبارہ قابل عمل بنا یا جا سکے۔اُن کی حکومت آنے والی نسل کو ایک بہترین نظام دیناچاہتی ہے ۔انہوں نے بیوروکریسی کیلئے اصلاحات کا بھی عندیہ دیا تاکہ وہ سیاسی اثر و رسوخ کے بغیر کام کرنے کے قابل ہو سکیں۔پرویز خٹک نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی قیادت اور فیصلہ کرنے والے لوگوں کے الفاظ اور اعمال ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔وہ چاہتے ایک چیز ہیں جبکہ عملاً کچھ اور کر رہے ہوتے ہیں۔اس سوچ اور طرز عمل کو اب ختم ہونا چاہیئے۔ اُن کی حکومت سب کیلئے انصاف چاہتی ہے ۔ لوگوں کے حقوق کا تحفظ چاہتی ہے ۔میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ سازی اور حقدار کو حق دینا چاہتی ہے۔ان مقاصد کیلئے ایک خود کار نظام ہونا چاہیئے جس میں عوام کو خدمات تک آسان رسائی کیلئے گنجائش موجود ہو۔انہوں نے سبکدوش ہونے والے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی کو سراہاجنہوں نے پروفیشنل انداز میں خدمات انجام دیں اور عوام کا دل جیتا۔انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ نئے آنے والے انسپکٹر جنرل بھی ناصر خان درانی کے شروع کردہ کام کو آگے بڑھائیں گے۔انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں قیام اُن کے کیئریر کا بہترین تجربہ ہے۔سیاسی قیادت نے اُن کو ایک ویژن دیا اور انہوں نے نیک نیتی کے ساتھ اُس کو عملی جامہ پہنایا ۔آئی جی نے کہاکہ یہ بات بڑی ہی حیران کن ہے کہ ایک سیاسی قیادت اپنے اختیارات اداروں کو کس طرح منتقل کر سکتی ہے۔انہوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اختیارات کی منتقلی کا یہ عمل دیکھا ۔انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت کو سلام پیش کیا جس نے خود تو دباؤ لے لیا مگر اُس دباؤ کو پولیس فورس کو کبھی منتقل نہیں کیا ۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ناصر خان درانی کو اُن کے قیام کے دوران عوام کیلئے بہترین خدمات کی فراہمی کے اعزاز میں شیلڈ بھی پیش کی۔
ہینڈ آؤٹ نمبر2پشاور15مارچ2017
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کے چیئرمین دلر وز خان کوہدایت کی ہے کہ لوگوں کی شکایات پر فوری کاروائی یقینی بنائیں ۔جن محکموں کے افسران بروقت جواب نہیں دیتے اُن کے نوٹس میں لائیں یہ ہدایات انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاو رمیں شکایات سیل کے ہنگامی دورے کے دوران جاری کیں۔ اس موقع پر وائس چیئرمین وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل مکرم آفریدی بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ لوگوں کی شکایات کا ازالہ یقینی ہونا چاہیئے ۔ شکایات سیل سسٹم کا حصہ ہے لہٰذا اس سے وابستہ لوگوں کی توقعات پوری ہونی چاہئیں ۔ وزیراعلیٰ نے اس مو قع پر عوام کی شکایات سنیں اور فوری داد رسی کی ہدایت کی ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کو بریفینگ بھی دی گئی کہ کس طرح لوگوں کی شکایات اور اُن کے مسائل کا حل یقینی بنایا جا تا ہے ۔انہیں بتایا گیا کہ چھوٹے مسائل کا موقع پر ہی حل نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

15-mar15-3-2017 CM Photos taking complaints during his visit to Complaint Cell  group photo with outgoing IGP Nasir Khan Durrani1

15-mar15-3-2017 CM Photos taking complaints during his visit to Complaint Cell  group photo with outgoing IGP Nasir Khan Durrani2

15-mar15-3-2017 CM Photos taking complaints during his visit to Complaint Cell  group photo with outgoing IGP Nasir Khan Durrani3