CM KPK addressing a 100 members representative Jirga of FATA Political Alliance

Wednesday, 15 March 2017 06:58 | READ 58 TIMES Written by 
RATE THIS ITEM
(0 votes)

With the compliment of Press Secretary to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa

Handout No.1 Peshawar 14th March 2017

Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Pervez Khattak has given a full sketch of the FATA merger into Khyber Pakhtunkhwa saying that extending the existing law, constitutional and administrative structure to FATA is the reasonable and realistic solution. The merger should neither be delayed nor be obstructed and any interference in this would be against the will of the tribal. Each agency has its own Riwaj that the people practice. The province should be the center of powers. After the merger, controlling the elected members of the merged FATA into Khyber Pakhtunkhwa will be against the essence of merger. The Army Chief guaranteed against any excesses and ethnic profiling of Pashtoon in Punjab and IGFC offered trained personnel for induction into Police for policing FATA, he added.
These remarks he made while addressing 100 members representative delegation of FATA Political Alliance at Chief Minister House Peshawar. The Chief Minister assured the Jirga to fight the case of merger of FATA into Khyber Pakhtunkhwa in consonance with aspirations of tribal. He said that the britishers left behind a set of draconian laws to forcibly control the people of FATA. We cannot support such coercive laws for our people, he added. He said such laws breed tyranny and injustices. We have welcomed the merger of FATA into Khyber Pakhtunkhwa, he added.
The Chief Minister said that when the process of FATA reforms started, the provincial government was never taken on board. Once he talked to Sartaj Aziz against making experimentation in FATA that might create mistrust and would destroy the system. The people of FATA and Khyber Pakhtunkhwa had the same traditions and they were comfortable with the existing laws. If the federal government was sincere to the merger, then the existing structure should be extended there. The province had the capacity to stand a complete structure of laws, administrative policing etc. The five year plan would be a failure, he added. He said that after the merger the chosen people would be accountable to the administrative head of the province or the representative of the federation, that should be taken care of.
Pervez Khattak said his government had a set of recommendations for the welfare of tribal, any deviation would create differences, objections, obstacles and hurdles. He reminded, he had openly objected to the five year transition for the merger of FATA into Khyber Pakhtunkhwa adding that it was a drama. The absence of power and resources was no solution to the problem. The Army Chief assured him to bring the recommendations of the province to the notice of Prime Minister. We assured the Army Chief for the provision of honest and efficient officers for efficient management and governance there.
The Chief Minister assured the Jirga to meet them again but before that they have to sit together and firm up concrete recommendations. He would take their recommendations to logical conclusion. He said that his leader Imran Khan was firm always suggesting them for taking a strong stand against any wrong and with a strong stand they can win a case of public welfare. He also asked against any meddling going against the interest of tribal. Even the political leadership should avoid hindering the process of merger. He assured to fight out the merger of FATA into Khyber Pakhtunkhwa in consonance with the aspirations of tribal.
Pervez Khattak told the Jirga that he had discussed the ethnic profiling of Pashtoon in Punjab and the discriminatory treatment to them by the Punjab Police. The Army Chief guaranteed him against any excesses against Pashtoon in Punjab. Provincial Minister Shah Farman, Ex-MNA Akhunzada Chattan, Alam Mehsood and Samina Afridi also spoke in favor of merger of FATA into Khyber Pakhtunkhkwa. Speaker Asad Qaiser, PTI leader Khalid Masood and others attended.
<><><><><><><>

بہ تسلیمات پریس سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
ہینڈ آؤٹ نمبر1پشاور14مارچ2017
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ فاٹا تک صوبے کی انتظامی آئینی ،قانونی اور صوبائی اختیارات کی توسیع فاٹا کے صوبے میں انظمام کا مکمل خاکہ ہو سکتا ہے۔ جس میں بلاجواز تاخیر، اس میں رکاوٹیں ڈالنا اور بے جا مداخلت فاٹا کے قبائلیوں کی خواہشات کے مطابق قومی دائرے میں لانے کے خلاف ہے۔ہر ایجنسی کے اپنے اپنے رواج ہیں اور مقامی لوگ اپنے رواج کو خود پریکٹس کرتے ہیں۔ اختیارات کا ممبا صوبہ ہونا چاہئے۔ وفاق سے کنٹرول کرنا انضمام کی روح کے خلاف ہے۔صوبہ پہلے بھی انتظامی لحاظ سے افسران فراہم کرتا رہا تھا اور اب بھی انتظامی افسران فراہم کئے جا سکتے ہیں۔ فاٹا میں غیر ضروری تجربات نہیں کرنا چاہئے۔نوجوانوں کے لئے نیا پاکستان بنا رہے ہیں۔ آرمی چیف نے پنجاب سمیت ملک بھر میں پختونوں کے ساتھ زیادتی نہ ہونے کی گارنٹی دی ہے۔آئی جی ایف سی نے تربیت یافتہ اہلکار فاٹا کے لئے پولیس میں ضم کرنے کی آفر کی ہے۔
ان خیالات کا اظہارآج انہوں نے فاٹا کے سیاسی اتحاد کے 100ممبر عمائدین کے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے جرگے کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت فاٹا کے انضمام کا کیس فاٹا کے عوام کی خواہشات کے مطابق لڑے گی۔انہوں نے کہا کہ ایف سی آر اور دیگر ڈریکونین قوانین انگریزوں کے چھوڑے ہوئے قوانین ہیں جن سے مغلوب قوم کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر کنٹرول کیا جاتا رہا ہے۔ہم ایسے قوانین اپنی قوم کے لئے کبھی بھی سپورٹ نہیں کر سکتے جن سے ظلم و جبر کو فروغ ملتا ہو۔ہم نے فاٹا کے انظمام کوکھلے دل سے قبول کیا ہے۔جب فاٹا اصلاحات کی کمیٹی بنی تو ہمیں اس پورے عمل میں اعتماد میں نہیں لیا تھا سرتاج عزیز نے صرف ایک بار اس موضوع پر بات کی تھی۔میں نے انہیں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ فاٹا میں نئے تجربات سے بچنا چاہئے کیونکہ اس سے بد اعتمادی بڑھتی ہے اور اس کا نکتہ انجماد تباہی پر منتج ہوتا ہے۔فاٹا اور خیبر پختونخوا کے لوگ ایک قوم ہیں۔ ان کے طور طریقے اور روایات یکساں ہیں۔ ملکی قوانین پر انکا اعتماد ہے یہ کبھی بھی نئے تجربات اور طریقوں کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اگر وفاق سنجیدہ ہے تو صوبے کی پولیس ، انتظامیہ اور قوانین کو فاٹا میں توسیع دی جا سکتی ہے۔اس سے الگ کوئی بھی سوچ نظام اور سٹرکچر کو تباہ کرکے چھوڑ دے گی۔صوبے کی کیپیسٹی ہے کہ وہ 2یا 3مہینوں میں رائج قوانین ، انتظامی اور پولیسنگ کو توسیع دے کر ایک جامع ڈھانچہ کھڑا کر سکتا ہے۔پانچ سال کا پلان ایک ایسا تجربہ ثابت ہو سکتا ہے جس میں غلطی کی شکل میں قبائل کے اعتماد کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔2018ا لیکشن قریب ہے۔ اگر صوبائی اسمبلی میں ممبران منتخب ہو کر آئیں گے تو کیا وہ صوبے سے طاقت حاصل کریں گے یا وفاق کے نمائندے گورنر سے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے فلاح اور بہتری کے لئے سفارشات مرتب کی ہیں۔ غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی بصورت دیگر یہ مشکلات، اختلافات، اعتراضات اور رکاوٹوں کے انبار کھڑے کر سکتے ہیں۔ گذشتہ روز کے اجلاس میں میں نے تجویز شدہ پلان پر کھل کر اعتراض کیا کیونکہ یہ سوچ اور یہ پلاننگ ڈرامہ اور دھوکہ ہے۔ اختیارات نہ ہوں تو مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔آرمی چیف نے فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حوالے سے ہماری سفارشات پر وزیر اعظم کے ساتھ بات کرنے کا یقین دلایاہے۔ ہم نے انہیں یقین دلایا کہ ہم اچھی ساکھ کے بہترین افسران دیں گے۔میں قبائلی عمائدین کے ساتھ ایک اور جرگہ کروں گا۔لیکن اس سے قبل عمائدین آپس میں بیٹھ کر ٹھوس تجاویز مرتب کریں۔ہم آپ کی بتائی ہوئی تجاویز کو لے کر آگے بڑھیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میرا لیڈر عمران خان مضبوظ عزم رکھتا ہے ۔ غلط کام پر انکا سٹینڈ سخت ہوتا ہے۔ وہ ہمیں ہدایت کرتے رہتے ہیں کہ برائیوں اور غلط کاموں کے خلاف سخت موقف سے اپنے مقدمے جیتے جا سکتے ہیں۔ ہم نے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہے رکاوٹیں دور کریں گے ۔ قبائلیوں کے بہتر مستقبل کے لئے انکے بتائے ہوئے راستے میں رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہیں۔ سیاستدان بھی غیر ضروری مداخلت نہ کریں۔ قبائلیوں کی خوشی میں ہماری خوشی ہے قبائلیوں کا اتفاق اور خوشحالی ہمیں عزیز ہے ہم اپنی نوجوان نسل کے لئے نیا پاکستان بنا رہے ہے۔ہم ہر فورم پر یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔جھگڑوں کی بجائے صلاح مشورے سے کام لیں گے اور جب تک ہم قبائل کی خواہشات کی ترجمانی اور تکمیل مکمل نہیں ہوتی ہماری جنگ جاری رہے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں پختونوں کے ساتھ نا روا سلوک اور زیادتیوں پر آرمی چیف سے گذشتہ روز تفصیلی بات ہوئی ہے اور انہوں نے گارنٹی دی ہے کہ پختونوں کے ساتھ پنجاب سمیت پورے ملک میں کہیں بھی زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی۔ قبل ازیں فاٹا سیاسی الائنس کے نمائندوں ،سابقہ ایم این اے اخونزادہ چٹان، عالم محسود ، ثمینہ آفریدی اور صوبائی وزیر شاہ فرمان نے بھی فاٹا کے صوبے میں انظمام کے حق میں تجاویز دیں۔ سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر ،پی ٹی آئی کے رہنما خالد مسعود اور دیگر عمائدین بھی موجود تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

14-mar14-3-2017 CM English Handout addressing a 100 members representative Jirga of FATA Political Alliance1