CM KP Pervez Khattak on Tuesday announced enhancing salaries and fringe benefit for the for KP Elite Force

Wednesday, 01 March 2017 09:12 | READ 129 TIMES Written by 
RATE THIS ITEM
(0 votes)

28-2-2017 CM Photo addressing passing out prade of elite force Nowshera

28-2-2017 CM Photo giving away prizes to outstanding trainees

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس جب سیاسی مداخلت سے آزاد ہوئی، انہیں خود مختاری ملی اور اسے قانونی شکل میں عوام کے سامنے جواب دہ بنایا گیا تو پولیس کی کارکردگی میں نظر آنے والی بہتری آئی۔ ہماری حکومت نے پولیس کو ایک فعال ادارہ بنایا۔ کارکردگی کے نئے معیار قائم کئے۔ پولیس میں سیاسی عدم مداخلت ، مالی و پیشہ ورانہ آزادی نے پولیس فورس کودنیا کی کسی بھی جدید فورسز کے برابر لا کھڑا کیا۔ اب ایک سسٹم بن چکا ہے جسکے تحت پولیس کا ادارہ عوامی امنگوں کے مطابق کاکردگی دیکھا رہا ہے۔ شخصیات کے آنے جانے سے پولیس ادارے کی کارکردگی میں کبھی زوال نہیں آئے گا۔ان خیالات کا اظہار آج انہوں نے پہلے سپیشل کمپٹ یونٹ اور تیرویں ایلیٹ فورس کورس کی تربیت مکمل کرنے والے 561 جوانوں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے بطور مہمان خصوصی خطاب اور زرائع ابلاغ کے نمائندوں س بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ناصر خان درانی، ایڈیشنل انسپکٹر پولیس سید اختر علی شاہ نے بھی خطاب کیا۔ صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کاکاخیل خاتون رکن صوبائی بینہ ناز خٹک ، رکن صوبائی اسمبلی فضل الہیٰ ، ضلع ناظم پشاور ارباب عاصم خان ، سی سی پی او پشاور محمد طاہر خان، ڈی ائی جی سی ٹی ڈی مبارک زیب خان، ڈی سی نوشہرہ خواجہ محمد سکندر ذیشان، ڈی پی ا و نوشہر ہ واحد محمود ڈپٹی کمانڈنٹ ایلیٹ فورس محمد حسین خان، میاں اسرار الدین باچا سمیت پولیس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ نے پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی میں بہتری لانے والی وجو ہات سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب سیاستدان عوامی خدمت کا عزم کر لیں، اداروں کو فعال بنائیں، قانون کے مطابق اداروں میں مداخلت ختم کریں اور اسے سیاستدانوں کے چنگل سے آزاد کریں تو بہت فرق پڑتا ہے۔ یہ فرق خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی میں نظر آیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے پولیس سمیت تمام اداروں کو فعال بنایا کیونکہ واحد مقصد عوام کی خواہشات کے عین مطابق ڈیلوری کرنا ہے۔ صوبائی حکومت نے پولیس کے حوالے سے ایک بالکل مختلف قسم کا سٹینڈرڈ بنا دیا ہے۔ اب اس میں مزید بہتری وقت کے ساتھ آئے گی۔ہم چاہتے ہیں کہ دیگر صوبوں کی پولیس بھی ہماری پولیس کی طرح پروفیشنل لائن پر کام کرے اور وہ آزاد ماحول میں عوام کو ڈیلیور کرے۔ صوبے کے انسپکٹر جنرل کی ریٹائرمنٹ کے بعد کے پس منظر پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سسٹم اہم اورکلیدی نوعیت کا ہوتا ہے ۔ ایک فعال سسٹم کے تحت چلنے والے ادارے ڈیلیورکرتے ہیں۔ افراد آتے جاتے رہتے ہیں۔ہم نے سسٹم میں ایسے سیف گارڈز رکھ دیئے ہیں جس کی وجہ سے اصلاح کا سفر کوئی چاہئے بھی تو واپس نہیں کر سکتا بلکہ اس میں مزید بہتری آتی رہے گی۔ پنجاب حکومت کی طرف سے پختونوں کے ساتھ نسلی بنیادوں پر زیادتی اور نا روا سلوک کے حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کی ساری قومیتیں یکساں محب وطن ہیں۔ ہم ساری قومیتوں کو پاکستانی سمجھتے ہیں۔ہم سندھی بلوچی، پنجابی ، پشتون، کشمیر بلتی میں کوئی فرق نہیں کرتے۔میڈیا پر ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ پنجاب میں پختونوں کے ساتھ نسلی بنیادوں پر امتیاز برتا جا رہا ہے اور ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔یہ طرز عمل نا قابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پختونوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو فی الفور بند کیا جائے۔ میں خود پنجاب میں لاہور اور دیگر جگہوں پر جا کر تھانوں میں چیک کروں گا ۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ نے ایلیٹ پولیس ٹریننگ سنٹر نوشہرہ میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی کارکردگی میں وقت کے ساتھ ساتھ نمایاں بہتری آئی ہے۔ ایلیٹ پولیس ٹریننگ سنٹر نوشہرہ کے دورے کے دوران انہوں نے سنٹر میں انفراسٹرکچر ، حالات اور ٹریننگ کے لئے ضروری لوازمات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قرا ردیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو بہتر کرنا اور اُس میں عوامی اُمنگوں کے مطابق بنیادی نوعیت کی اصلاحات لانا ہماری حکومت کا اولین ایجنڈا تھا ۔ ہم نے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو نہ صرف اندرونی معاملات میں خود مختاری دی بلکہ اس میں ہرقسم کی سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرکے اسے صحیح معنوں میں عوام کا خادم بنایا اور پھر انہی اصلاحات کو خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 کی صورت میں صوبائی اسمبلی سے منظور کروا کر باقی تمام حکومتوں کیلئے ایک قابل تقلید مثال بنایا۔ انہوں نے پولیس ایکٹ کے نفاذ کو پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلی قرار دیتے ہوئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور خیبرپختونخوا پولیس نے موجودہ حکومت اور عوام کی جانب سے کئے جانے والے اعتماد اور یقین کو کسی بھی لمحہ متزلزل نہیں ہونے دیا بلکہ پولیس اُمور میرٹ اور شفافیت جیسے عناصر کی بالادستی نے فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری نے اس کوجنوبی ایشیاء کی دیگر پولیس فورسز سے بہت بہتر ہے اور ترقی یافتہ ممالک کی پولیس کے ہم پلہ ہے جس کا سول سوسائٹی اور موقر قومی اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے کئے جانے والے متعدد سروے میں بھی کیا گیا ہے۔ اور اس کا عملی مظاہرہ خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے چند روز قبل سول کورٹس تنگی پر تین خود کش حملہ آورں کے دہشت گردانہ حملے کو کامیابی سے ناکام بناکر کیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس طرح خیبرپختونخو اپولیس نے اپنی افرادی صلاحیتوں اور استعداد کار کو بہتر کیا اور موثر حکمت عملی ترتیب دی اس کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں۔ گوکہ ملک بھر میں آج بھی دہشت گردی کا خطرہ مسلسل موجود ہے مگر جس پیشہ وارانہ مہارت اور طریقے سے اس افت کا مقابلہ خیبرپختونخوا پولیس بہتر انداز میں کر رہی ہے۔اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایلیٹ پولیس اور سپیشل کمبٹ یونٹ کے بہادر اور نڈر جوانوں کی مہارت کو سراہا۔ انہوں نے اس امید کا اظہارکیا کہ ہماری منظم پولیس دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کمانڈنٹ ایلیٹ فورس کے انسٹرکٹرز کیلئے 20 فیصد انسٹرکٹر الاؤنس کو 40فیصد کرنے جبکہ سنٹر کے سٹاف کی حوصلہ افزائی کیلئے 20 لاکھ روپے انعام کا اعلان کرنے اور ایک مستقل ڈاکٹر اور ڈسپنسر کی تعیناتی ،کمانڈنٹ ایلیٹ فورس نے ہیوی فائرنگ رینج کی زمین ایلیٹ پولیس ٹریننگ سنٹر کو منتقل کرنے کیلئے ضروری انتظامی و قانونی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے ایلیٹ فورس خیبرپختونخوا کی مراعات ایلیٹ فورس پنجاب کے برابر کرنے کا بھی اعلان کیا۔ نوشہرہ پہنچنے پر وزیر اعلیٰ نے فورس کی جانب سے تربیتی مشقوں ، خصوصی حکمت عملی کے فنون، ہیلی بورن، واٹر مین شپ، سنیپر سکلز، دہشتگردی کے خلاف مختلف نوعیت کے مشقیں، دہشت گردوں کے قبضے سے مکان یا عمارت خالی کرنے دہشت گردوں کی کمین گاہیں مسمار کرنے لے ار پی جی سیون، اٹومیٹک گرنیٹ لانچر، بارہ اعشاریہ سات ہیو ی مشین گن، لائٹ مشین گن پر فائرنگ کا عملی مظاہرہ کیا اور خود داد حاصل کی اسی طرح ریپلنگ، رسی کے ذریعے اونچا مقام سے چھلانگ لگا کر حملہ پسپا کرنے سر کے بل رسے سے اترنے اور دریا عبور کرنا، اور ایک عمار ت سے دوسری عمارت کا پہنچنے کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ جبکہ جو ڈو کراٹے اور دیگر جسمانی فٹنس،بر وقت کاروائی اور پاک آرمی کی سپیشل سروسز گروپ کی طرز پر تربیت کا شاندار مظاہرہ پیش کیا گیا جس کو وزیر اعلیٰ نے سراہا اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو میڈلز، شیلڈ اور دیگر انعامات دیئے۔اس موقع پر561 گوریلہ ٹرننگ مکمل کرنے والے
جوانوں نے اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ سلامی پیش کی۔ اور پاس اوٹ ہوکر خیبرپختونخوا پولیس کاحصہ بن گئے۔

The Khyber Pakhtunkhwa (KP) Chief Minister Pervez Khattak on Tuesday announced enhancing salaries and fringe benefit for the for KP Elite Force bringing it at par with Punjab Elite Force and also increased 20 percentinstructor allowance to 40 percent for instructors of CommandantElite Force and Rs 2 million for encouragement of the force.

Addressing the passing out parade of Elite Police and SpecialCombat Unit here, the CM eulogized the valour and bravery ofthe force and expressed the confidence that our organized police forcewould frustrate the designs of terrorists and anti state elements.

He also announced appointment of a permanent doctor and dispenserand transfer of land of heavy firing range to elite police training centre.

Talking to media on the occasion, he said as soon as the politicalinterference was eliminated from the police force, the performanceof KP police improved considerable, adding that if the politicianswork for the welfare of masses and strengthening of institutions,the governance improves certainly.

To a question, he said the provincial government of KP has set anew standard through establishment of a model police system in the province that was the main reason for the all time improvement of Police force within a short span of time. He said his government had put a number of safeguards in the system of Police force. That would neither let anyone to interferein its affairs nor anybody could reverse it and use it for the political motive again.

To a question about the treatment meted out to Pakhtuns in Punjab,he said all the nations are equally patriot and all are Pakistanis, the racial profiling of pashtun was not acceptable adding the news appearing on media regarding discriminatorytreatment of Punjab Police with Pakhtuns was equally unacceptable. He called for immediately stopping the uncalled for behavior of Punjab Police and government adding that it would create cracks in the national in the national unity and cohesion that the country cannot afford at the moment. He said PTI wants to see peace and harmony in thecountry as people suffered because of terrorism in the country in the past.

Earlier, addressing the passing out parade, KP CM said thatremarkable improvement has been witnessed in the performance ofpolice force. H said measures would be taken for infrastructuredevelopment, training and other requirements of Elite ForceTraining Centre Nowshera.

The CM said that PTI government has introduced KP Police Act 2017introducing revolutionary changes in the police act and made itexemplary for others. He said the act has made the KP police one of the best policeforces in Asia and the fact was acknowledged by national andinternational organizations.

He said that our police force had got the required level of preparedness to defeat all sort of terrorism and hoped that the force will continue to sacrifice for the national cause. The passing out personnel of the Elite Force demonstrated the highest skills of professionalism. The Chief Minister awarded the outstanding trainees.

IGP Nasir Khan Durrani and Additional Inspector General Police Syed Akhtar Hussain Shah highlighted the upgraded training to the Elite Force. The force training was a part of the setting of a new standard of professionalism, combating terrorism. They highly eulogized the Chief Minister for giving autonomy at different layers to the force and making it a professional force adding that the de-politicization of police improved the overall performance and efficiency of police force.

Minister Excise & Taxation Mian Jemsheduddin Kakakhel, MPAs Bena Naz, Fazal Illahi, District Nazim Peshawar Arbab Asim, CCPO Peshawar Muhammad Tahir Khan, DIG CTD Mubarak Zeb Khan, DC Nowshera Khwaja Muhammad Sikandar Zeeshan, DPO Nowshera Wahid Mehmood, Deputy Commandant Elite Force Muhammad Hussain Khan, Mian Israr uddin also attended.

<><><><><>