CM KPK Talking to Media at HMC

Thursday, 16 February 2017 17:28 | READ 296 TIMES Written by 
RATE THIS ITEM
(0 votes)

With the compliments of Press Secretary to Chief Minister KP Peshawar

HANDOUT NO. 1 /PESHAWAR/DT: 15-2-2017

Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Pervez Khattak has directed for the management, security and safety of Swat Motorway including security in the proposed industrial cities in Khyber Pakhtunkhwa. The provincial government would raise a force of 2600 personnel for the security and safety of CPEC related projects and routes. He directed to negotiate with NHA for the management and road safety mechanism for the Swat Motorway that the provincial government was constructing out of its own resources. He also okayed a special coordination unit for the CPEC that would integrate the entire CPEC related activities in the province. He was also for the merger of FATA into Khyber Pakhtunkhwa adding that extension of existing laws and system was the best solution at the moment.

These remarks he made during a comprehensive meeting of the provincial Home Department that focused on the raising of a full security and safety force for comprehensive security cover to the CPEC related activities and the proposed merger of FATA into Khyber Pakhtunkhwa and the futuristic look of the province after the merger of FATA into the province.

Advisor to Chief Minister on C&W Akbar Ayub, administrative secretaries of concerned departments, MD KPHA and other attended the meeting.

Chief Minister directed the meeting to negotiate with the NHA for the road management, safety and security of the Swat Motorway. However, the concerned officials should go for three scenarios, the first one negotiating and hiring the services of NHA for the security, safety and road management of provincial motorway Swat, the second scenario should be raising a special force for this purpose and the third scenario should be extending the traffic policing for the Swat Motorway. However, the Chief Minister said that negotiating with the NHA was the best possible solution because of the expending network of communication following the CPEC related activities in Khyber Pakhtunkhwa. “Don’t forget, Khyber Pakhtunkhwa has a better future as it is to become the hub of all commercial activities, integrating the whole region commercially”.

Pervez Khattak agreed to establish a CPEC Coordination Unit with the proposed cost of Rs.49 million adding that the cost should be rationalized and all activities should be well netted. He also directed to prepare PC I for the unit to be reflected in the budgetary proposals of the next ADP.

Chief Minister directed for a comprehensive security plan for the all CPEC and non CPEC related activities adding that we should have a widen security cover for all the foreign and domestic investors and the CPEC related activities including infrastructure development, industrialization, road and rail communication, hydel power projects and other small medium and big industrial units in the province. The provincial government raising a special force for the CPEC related activities would comprise 2600 that would cost rupees one billion. The force would be supported by additional personnel with the expansion of CPEC related activities from time to time.

Chief Minister said the establishment of CPEC Coordination Unit was essential for integrating the whole activities and directed to prepare a PC I immediately that would also be included in the next budgetary provision. The unit would have all the procurement including the vehicles and force multipliers required in this regard.

Pervez Khattak also directed to expedite the process of FATA reforms leading to its merger into Khyber Pakhtunkhwa adding that the existing laws and local government system should be extended to the FATA because the tribals were accustomed to the existing law. His government wanted that the tribals should be equal beneficiaries of CPEC. He also directed the local government department to work on it immediately.

<><><><><>

بہ تسلیمات پریس سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ خیبرپختونخو۱
ہینڈ آؤٹ نمبر 1 پشاور 15فروری2017
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے سوات موٹر وے کی سیکیورٹی، سیفٹی اور مینجمنٹ کے لئے NHAکے ساتھ مل کر طریق کار وضع کرنے اور سی پیک کے مغربی روٹ سمیت سی پیک اور نان سی پیک مجوزہ منصوبوں کی سکیورٹی کے لئے فورس کی تیاری کی ہدایت کی ہے۔صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے 2600 اہلکاروں پر مشتمل فورسز تشکیل دے گی۔ انہوں نے سی پیک کوآرڈنیشن یونٹ کے قیام کے لئے پی سی ون تیار کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ اسے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈالا جا سکے۔یہ یونٹ صوبے میں سی پیک سے متعلق تمام سرگرمیوں کوباہم مربوط کرے گا۔ وہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ، ایم ڈی خیبر پختونخوا ہائی وے اتھارٹی اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں سوات موٹر وے کی مینجمنٹ ، سیکورٹی، سی پیک اور نان سی پیک منصوبوں کی سکیورٹی اور فاٹا اصلاحات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور اس ضمن میں اہم فیصلے کئے گئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سوات موٹر وے کی مینجمنٹ کے لئے آئندہ دسمبر سے فورس چاہیئے ہو گی جس کے لئے ابھی سے طریقہ کار وضع کرنا ہو گا۔ اس مقصد کے لئے سوات موٹر وے کی مینجمنٹ کو NHAکے حوالے کرنے، علیحدہ فورس بنانے یا اس سلسلے میں پولیس کی خدمات لینے پر مشتمل تین مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس نے مذکورہ تجاویز میں سے موٹر وے کی مینجمنٹ کو NHAکے حوالے کرنے کی تجویز کو مناسب ترین قرار دیا اور اس امر پر اتفاق رائے پایا گیا کہ چونکہ NHA کے پاس پہلے سے ایک سسٹم موجود ہے اسی کو اگر سوات موٹر وے تک توسیع دی جائے تو اخراجات کم سے کم ہو ں گے۔ وزیر اعلیٰ نے بھی اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ہدایت کی کہ NHAکے ساتھ مل کر جلد طریق کار وضع کریں بصورت دیگر ہمیں آزادانہ فورس کی تشکیل یا پولیس کو وہاں توسیع دینے کی تجاویز کے لئے بھی تیار رہنا ہے جس کے لئے سٹاف بھرتی کرنے کا طریقہ کار شروع کرنا ہو گا۔ ہم نے صوبے کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر پلان کرنا ہے۔ سی پیک کے مغربی روٹ سمیت سی پیک اور نان سی پیک منصوبوں کے لئے مطلوبہ سکیورٹی انتظامات پر بھی غور و خوض کیا گیا ۔ SSD-Nسکیورٹی فارمیشن پربریفنگ میں بتایا گیا کہ اس سلسلے میں 2600پولیس اہلکار دستیاب ہو ں گے جبکہ 500گارڈز اور 1000فاضل افراد بھی درکار ہو ں گے۔ اس منصوبے کا مجوزہ تخمینہ لاگت تقریباً 96ملین روپے لگایا گیا۔ علاوہ ازیں SSD-Nکے لئے افرادی قوت کی تخلیق اور تقریباً 49ملین روپے کی لاگت سے سی پیک کوآرڈنیشن یونٹ کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اس مقصد کے لئے گاڑیوں، مواصلاتی آلات اور اسلحہ کی مد میں تقریباً 1187.074ملین روپے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے اس تجویز کو سٹڈی کرنے اور پی سی ون تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اسے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈالا جائے گا۔ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ صوبے میں موجود گورننس سسٹم کو فاٹا تک توسیع دی جائے کیونکہ فاٹا کے عوام اس سسٹم سے بخوبی واقف ہیں۔ ہم مستقبل میں پورے صوبے کو باہم مربوط کرنا چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ سی پیک کے تناظر میں صوبے کی ترقی کے لئے صوبائی حکومت کے پلان سے فاٹا بھی مستفیدد ہو سکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ فاٹا کو صوبے میں ضم ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں قوانین پر کام ابھی سے شروع کر دیں۔
<><><><><><><>




ہینڈ آوٹ نمبر۔2 ۔پشاور۔15 فروری2017
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے صوبائی سیمنٹ پالیسی لانے کا عندیہ دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سیمنٹ پلانٹس کو طے شدہ طریقہ کار کے تحت لیز آوٹ کریں گے جن سرمایہ کاروں نے لیز کیلئے درخواستیں دی ہیں اُن کا آئندہ ہفتے اجلاس بلا رہے ہیں۔ ہمارے پاس سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ سرمایہ کاری کے منصوبوں کو شفاف طریقہ کار کے تحت پہلی فرصت میں سرمایہ کاروں کو پیش کریں گے ۔ہم نے اداروں کو بنانے میں بہت محنت کی ،سیاسی مداخلت ختم کی اور شفافیت یقینی بنائی ۔پروپیگنڈوں کے باوجود ہم نظام کی تبدیلی کے اہداف میں بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہمارے اعصاب مضبوط ہیں ۔پروپیگنڈے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ہم ذہنی طور پر ان پروپیگنڈوں کیلئے تیار تھے ۔صوبے کا معاشی استحکام اور خوشحالی ہمارے اہداف ہیں جن کے حصول میں کسی سازش یا پروپیگنڈے کو رکاوٹ نہیں بننے دیں گے ۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاو رمیں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے علاوہ پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین ، سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر،صوبائی وزراء محمد عاطف خان،شاہرام خان ترکئی ، انیسہ زیب طاہر خیلی ،چیف سیکرٹری عابد سعید اور دیگر نے بھی شرکت کی ۔صوبائی وزیربرائے معدنی ترقی انیسہ زیب طاہر خیلی نے اجلاس کو صوبے میں موجود سیمنٹ پلانٹس ، معدنی ذخائر کی ترقی اور دیگر متعلقہ پہلوؤں پر بریفینگ دی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم سیمنٹ پلانٹس کے سرمایہ کاروں کو شفافیت اور مکمل کلیئرٹی کے ساتھ پیش کش یقینی بنائیں گے ۔اس مقصد کیلئے پہلے سے طے شدہ فارمولے پر عمل درآمد کیا جائے جو میرٹ پر اُترتے ہیں اُنہی کو لیز دی جائے ۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ جوڈیفالٹرز ہیں وہ اپنے واجبات ادا کریں ۔ہم ایک شفاف طریقہ کار چاہتے ہیں ۔ہم نے شفاف نظام قائم کیا ۔ اداروں کو با اختیار بنایا ۔سرمایہ کاروں کو مراعات دیں اور سرمایہ کاری کیلئے صوبے کی ساکھ بنائی کیونکہ جتنی زیادہ شفافیت ہو گی اتنا ہی سرمایہ کار آئیں گے ۔ موجودہ صوبائی حکومت کی شفاف پالیسیوں کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار خیبرپختونخوا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں سرمایہ کاری کے مواقعوں کو بروقت مارکیٹ کرنے کیلئے کام کی رفتا رکو مزید تیز کرنا ہوگا۔وزیراعلیٰ نے منرل ایکٹ کے رولز آف بزنس کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے خام مواد کی غیر قانونی نقل وحمل اور چوری چکاری کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کرنے کیلئے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی ۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخو امیں اداروں کی مضبوطی اور نظام میں شفافیت کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مخالفین کے پروپیگنڈے کے باوجود خیبرپختونخو اکی حکومت کی اچھی حکمرانی کے چرچے ہیں۔خیبرپختونخو امیں اصلاحاتی اقدامات اور اُن کے نتائج کا دُنیا بھر میں اعتراف کیا جا رہا ہے ۔ اداروں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ، میرٹ کی بالاد ستی اور شفافیت موجودہ صوبائی حکومت کی بہترین کاوش ہے۔اب ان کاوشوں کے مطلوبہ نتائج بھی سامنے آنے چاہئیں ۔اداروں میں اصلاحات اور بہترین طرز حکمرانی کیلئے اقدامات کے پس پردہ اہداف کا حصول یقینی ہونا چاہیئے ۔عمران خان نے کہاکہ سی پیک کے تناظر میں خیبرپختونخوا کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری آرہی ہے۔عمران خان نے صوبے میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کو تیز رفتاری کے ساتھ صحیح طریقے سے پلان کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہاکہ خیبرپختونخوا کی قدرتی وسائل کی برتری کو معیشت کا استحکام بنا کر صوبے کو دیر پا ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے ۔ عمران خان نے کہاکہ حکمرانی میں شفافیت بہت زیادہ اہم ہوتی ہے ۔اس عمل سے کوالٹی لوگ آگے آتے ہیں اور کوالٹی کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سرمایہ کار کبھی رکتے نہیں وہ موقع کی تاک میں رہتے ہیں جہاں اُن کے سرمایہ کو تحفظ فراہم ہو اور جہاں اُنہیں زیادہ ریٹرن کی توقع ہو وہ اُس طرف چلا جا تا ہے انہوں نے کہاکہ صوبے کی معیشت کومضبوط کرکے بیروزگار کو روزگارملتا ہے اور مجموعی طور پر خوشحالی آتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ صوبے کے سسٹم میں کرپشن کیلئے زیر و ٹالرنس اس کو دوسروں سے ممتاز بنا رہی ہے جتنا شفاف نظام ہو گا اُتنا ہی لوگوں کا اعتماد بڑھے گا اور اُتنی ہی زیادہ سرمایہ کاری ہو گی ۔
<><><><><><>

بہ تسلیمات پریس سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
ہینڈ آوٹ نمبر۔3 ۔پشاور۔15 فروری2017 ء
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخو امیں ضم کرنے پر ساری قوم متحد ہے فاٹا قدرتی طور پر صوبے کا حصہ نظر آتا ہے ۔نہ فاٹا علیحدہ صوبہ قابل عمل نظر آتا ہے اور نہ ہی اسے انتظامی طور پر علیحدہ یونٹ کے طور پر چلایا جا سکتا ہے ۔ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلی ہاوس پشاور میں فاٹا اصلاحات کے حوالے اُن کو دی جانے والی پریزینٹیشن سے گفتگو اور بعد ازاں پشاور بم دھماکے کے زخمیوں کی عیادت اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے دورہ کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک ، پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین، سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر ، صوبائی وزراء اور دیگر بھی موجود تھے ۔ عمران خان نے کہا کہ فاٹا میں بحالی اور انفراسٹر کچر بچھانا ایک چیلنج ہے کیونکہ مقامی سطح پرڈیلیوری ، انصاف کی فراہمی ، خدمات سمیت حکمرانی کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ جنگ نے پورے قبائلی نظام کو ناکارہ بنا دیا ۔عوام دربدر اور اُن کے مصائب میں بہت اضافہ ہوچکا ہے ۔پرانے سسٹم کے تحت طرز حکمرانی اور حکومتی اختیار پولٹیکل ایجنٹ اور ملک کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے وہ آج زمینی حقائق میں قابل عمل نہیں رہا ۔پوری قوم کا اتفاق رائے ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جا ئے ۔عمران خان نے کہا کہ فاٹا میں چیلنجز بہت زیادہ ہیں ۔سارے محکموں کو وہاں تک توسیع دینا ، لوکل گورنمنٹ سسٹم کو وہاں متعارف کروانا ، انفراسٹرکچر کو ڈویلپ کرنا ، الیکشن کی تیاری وغیرہ بہت سے مسائل درپیش ہیں ۔مگر فاٹا کو خیبرپختونخو امیں انضمام کی صورت میں ان چیلنجز سے نمٹنا آسان ہو سکتا ہے ۔عمران خان نے کہاکہ فاٹا میں بے گھر عوام کے معمولات زندگی بحال کرنے ہیں اس مقصد کیلئے مجموعی طور پر ایک جامع ریکوری پلان چاہیئے کیونکہ ضرب عضب کے نتیجے میں فاٹا کے عوام کے مصائب اور تکالیف میں اضافہ ہوا ۔ وفاق کو چاہیئے تھا کہ وہ فاٹا اور خیبرپختونخو اکے عوام سے مل کر مجموعی ریکوری پلان بناتے ۔وہاں سرگرمیاں بحال کرتے اورانفرسٹرکچر ڈالتے ، انصاف کی فراہمی کا کوئی راستہ نکالتے اور پور ا سٹر کچر کھڑا کرنے کی ابتداء کرتے تو اب حالات کافی بہتر ہو چکے تھے۔ ۔ عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کی تازہ لہر کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں ہر سطح پر تیاری کرنا ہو گی ۔ حکومتوں ، ایجنسیوں اور عوام کو تیاری کرنی ہے کہ دہشت گردی کی اس لہر کا کس طرح مقابلہ کرنا ہے ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ فاٹا کو 50 ارب روپے سالانہ دیئے جاتے ہیں۔ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضما م کی صورت میں نیشنل پول میں یہ رقم 80 سے 100 ارب روپے تک چلی جائے گی ۔وفاق دس سال تک سالانہ 100 ارب روپے فاٹا میں انفراسٹرکچر اور دیگر سروسز کیلئے فراہم کرے گا۔ اس طرح 10 سال کے دوران مجموعی طور پر 1000 ارب روپے بنتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وسائل اتنا مسئلہ نہیں ہے لیکن فاٹا کے خیبرپختونخو اکے ساتھ انضمام کی طرف جلد جانا ضروری ہے ۔وہاں لوکل گورنمنٹ سسٹم کو متعارف کروانا اور الیکشن کی تیاری ایک چیلنج ہے لیکن یہ جتنی جلدی ہوگا اُتنا ہی خطے کیلئے مفید ہے ۔انہوں نے کہا کہ فاٹا اور خیبرپختونخوا کے عوام ایک ہی لوگ ہیں ۔ خیبرپختونخوا میں رہیں یا فاٹا میں یہ سب ایک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم فاٹا اصلاحات پر مسلسل محنت کررہے ہیں اور پراُمید ہیں کہ فاٹا کا خیبرپختونخو امیں انضمام جلد کیا جائے گا۔ ہمیں چیلنجز زیادہ ہیں مگر ہمارا عزم بلند ہے ہم ہمیشہ ان چیلنجز سے گزر کر ہی مضبوط ہوتے رہے ہیں۔
<><><><><><>

15-feb15-2-2017 CM and Imran Khan Photos FATA Reforms Swat motorways and equire health of injured bomb last1

15-feb15-2-2017 CM and Imran Khan Photos FATA Reforms Swat motorways and equire health of injured bomb last2

15-feb15-2-2017 Imran Khan and CM enquire health bomb blast victims and talking to media at HMC3