CM KP has directed commencement of classes from the current year in Cadet College for Women Mardan

Friday, 13 January 2017 06:33 | READ 303 TIMES Written by 
RATE THIS ITEM
(0 votes)

Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Pervez Khattak has directed commencement of classes from the current year in Cadet College for Women Mardan. He also directed to immediately advertise outsourcing of solid waste management. Chief Minister, in this connection directed the quarter concerned to convene a meeting of all divisional heads of water and sanitation companies to prepare a comprehensive and feasible model to sort out permanent solution for solid water management. Chief Minister also directed to release salaries to the employees of WSSP Mardan in the first week of every month.

He was presiding over a high level meeting at Chief Minister Secretariat Peshawar. Provincial Education Minister Muhammad Atif Khan, concerned administrative secretaries, SMBR, DC Mardan, Chief Project Officer of Higher Education, CEO WSSP Mardan, Members Board of Governor’s of Mardan Cadet College for Women attended the meeting.

Chief Minister directed to finalize all arrangements to ensure commencement of classes in cadet College Mardan from the current year. Chief Minister also agreed to the proposed selection committees for teaching and administrative cadres. The meeting was told that separate standard format has been prepared for the staff of Grade 17 and above and non-Gazetted cadres. The meeting endorsed the proposed format. Chief Minister also agreed to the proposal to adopt Rules of Karnal Sher Cadet College for the time being for Cadet College Mardan adding that necessary amendments can be made later on as and when required.

Chief Minister also directed to resolve the issue of land acquisition for construction of Women University Mardan. He also directed implementation of government decision viz-a-viz establishment of colleges on the basis of feasibility report and proper site selection on merit in the province.


وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویز خٹک نے کیڈٹ کالج برائے خواتین مردان کی رواں سال کلاسزکا اجراء یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔انہوں نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبوں کی آؤٹ سورسنگ کو بھی جلد مشتہر کرنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ واٹر سپلائی اینڈ سینٹیشن کمپنیز کے تمام ڈویژنل سربراہان کا اجلاس بلا کر ایک جامع اور قابل عمل ماڈل تیارکریں جس کے تناظر میں منصوبے مشتہر کئے جائیں۔ہم صفائی کا ایک مربوط سسٹم چاہتے ہیں۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح کے دو مختلف اجلاسوں کی صدارت کررہے تھے ۔صوبائی وزیر محمد عاطف ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ڈی سی مردان، چیف پراجیکٹ آفیسر برائے اعلیٰ تعلیم ، چیف ایگزیکٹیوآفیسر واٹر سپلائی اینڈ سنٹیشن کمپنی مردان، مردان کیڈٹ کالج برائے خواتین کے بورڈ آف گورنرز کے اراکین اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔وزیراعلیٰ نے رواں سال کیڈٹ کالج کی کلاسسز شروع کرنے کیلئے اپریل تک تمام انتظامات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کالج کیلئے ٹیچنگ اور ایڈمنسٹریشن سٹاف کیلئے مجوزہ سیلیکشن کمیٹی سے بھی اتفاق کیا۔اجلاس کوبتایا گیا کہ گریڈ 17 اور اُس سے اوپر اور گریڈ 17 سے نیچے کے سٹاف کی سیلیکشن کیلئے علیحدہ علیحدہ سٹینڈر ڈفارمیٹ بنایا گیا ہے۔ اس فارمیٹ سے اجلاس نے اتفاق کیا ۔وزیراعلیٰ نے کیڈٹ کالج مردان کیلئے تاحال کرنل شیر خان کیڈٹ کالج صوابی کے رولز اختیار کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا اور کہا کہ بعدازاں وقت کے ساتھ ضرورت کی بنیاد پر ترامیم کی جا سکتیں ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کیڈٹ کالج کے کیمپس کی تعمیر کیلئے محکمہ زراعت کی اراضی حاصل کرنے کے سلسلے میں ترمیم شدہ سمری بھیجنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے فقیر بند میں پرائمری سکول کیلئے اویکیوٹرسٹ کی زمین کیلئے متعلقہ فورم پر بات کرنے کا حکم دیا ۔گڑھی دولت زئی میں سائنس لیبارٹری کے قیام اور طور و گراؤنڈ مردان کیلئے اوقاف کی زمین لیز پر لینے کیلئے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ مردان جیل پارک اور جوڈیشل کمپلیکس مردان کے قیام کیلئے بھی طریقہ کار وضع کیا جائے اور قانونی راستہ نکالا جائے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر وویمن یونیورسٹی مردان کی تعمیر کیلئے اراضی کا مسئلہ بھی جلد حل کرنے کی ہدایت کی ۔مزیدبرآں وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں کالجز کے قیام کے سلسلے میں حکومتی فیصلے پر عمل درآمد پرکام تیز کیا جائے انہوں نے کہاکہ فیزیبیلٹی کی بنیاد پر کالجز کا قیام عمل میں لایا جائے اور اس مقصد کیلئے میرٹ کی بنیاد پر موزوں ترین سائٹس کا انتخاب یقینی بنایا جائے ۔سالڈ ویسٹ مینجمنٹ منصوبوں کی آؤٹ سورسنگ پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ پرائمری کولیکشن سمیت مکمل منصوبہ آؤٹ سورس کیا جائے ہم صوبے میں صفائی کا کل وقتی حل چاہتے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واٹر اینڈ سنٹیشن کمپنی مردان کے ملازمین کو تنخواہیں ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں جاری کی جائیں تاکہ ملازمین خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کرانا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے اگرکسی فیصلے پر عمل درآمد کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہو تو بروقت مطلع کیا جائے ۔حکومت اس رکاوٹ کو دور کرے گی ۔ہم ہر شعبے میں عوام کو خدمات کی آسان فراہمی یقینی بنانا چاہتے ہیں اور عوام کو درپیش مسائل حل کرنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونے دیں گے۔
<><><><><><><><>
ہینڈ آوٹ نمبر۔2 ۔پشاور۔11 جنوری2017
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے پولیس بل 2016 پر سیلیکٹ کمیٹی کے دوسرے اجلا س کی صدارت کی جس میں فرانزنک لیبارٹری کو آزاد اور خود مختار بنانے کی تجویز دی گئی جب یہ بل کا حصہ بنے گا تو آزاد اور خودمختار لیبارٹری قائم کی جائے گی لیبارٹری آزادانہ طور پر کام کر ے گی ۔صوبائی وزراء ، اپوزیشن لیڈر ، اراکین صوبائی اسمبلی اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں پولیس بل 2016 کے مسودہ پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا اور مجوزہ مسودہ میں ترامیم لانے کیلئے کئی اہم فیصلے کئے گئے ۔اجلاس میں انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی کے طریقہ کار کا بھی از سرنو جائزہ لیا گیا اور اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ شارٹ لسٹنگ کی متعلقہ فورم کی عدم موجودگی کی صورت میں وفاق صوبے کو اس پوسٹ کیلئے موزوں تمام افسران کی لسٹ فراہم کرے گاجس میں سے جو زیادہ مناسب ہو گا اُس کی صوبے میں انسپکٹر جنرل پولیس کی حیثیت سے تعیناتی کی جائے گی ۔دیگر ترامیم کیلئے وزیراعلیٰ نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں حکومت ، اپوزیشن اور پولیس بل 2016 سے متعلق تمام سٹیک ہولڈرز کو نمائندگی دی جائے گی ۔وزیراعلیٰ نے کمیٹی سے کہاکہ وہ صوبائی پوسٹوں، نئی پوسٹوں کی تخلیق صوبائی ملازمین کی ریشو اور اُن کے مستقبل کی ترقی سے متعلق جیسے مسائل کا حل تلاش کرے۔وزیراعلیٰ نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہاکہ ایف آئی آر کے موجودہ طریقہ کار میں بہت کمزوری ہے اس میں شفافیت ہونی چاہیئے اور اس کے متعلق جو شکایات ہیں ان کا ازالہ کیا جائے کیونکہ موجودہ حالت میں یہ جرائم کو فروغ دیتا ہے جبکہ ہمیں جرائم کا مقابلہ کرناہے اور اُنہیں ختم کرنا ہے وزیراعلیٰ اور شرکاء نے سیفٹی کمیشنز کو مزید فعال اورمتوازن بنانے پر اتفاق کیا تاکہ فورس میں ایک چیک اینڈ بیلنس کاطریقہ کار ہو۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ قوانین عوام کیلئے بنائے جاتے ہیں اسلئے اس میں کسی ذاتی آراء پر مبنی بنانے کی گنجائش نہیں ہوتی اختیارات کے ساتھ ذمہ داری کا عنصر ہونا چاہئے اور موجودہ بل میں ان سب کا احاطہ کرنا چاہیئے جس میں اختیار کا استعمال اور غلط استعمال پر با زپرسی ہو ۔وزیراعلیٰ نے اتفاق کیا کہ یہ اختیار ہونا چاہیئے کہ اگر اختیار کا غلط استعمال ہو تو اس پر ایکشن بھی ہو قانون یکساں ہوتا ہے اور ہر کسی پر یکساں لاگو ہو تا ہے ۔ایف آئی آر میں اصلاحات ضروری ہیں تاکہ ڈیلیوری کا عمل شفاف ہو کسی بھی گرفتاری کیلئے کافی شہادت ہونی چاہیئے جسے کورٹ میں ثابت کیا جا سکے اور اس عمل کیلئے ذمہ داری ضروری ہے ۔ہم نا انصافی کے طویل سایوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔اسلئے قانون سازی ضروری ہے اور ہم نے جتنی بھی قانون سازی کی ہے اس میں اپوزیشن کو اعتماد میں لیا ہے۔انہوں نے کہاکہ تھانہ کلچر کوعوام دوست بنانے کیلئے مانیٹرنگ ٹیم اور نگران کمیٹی ہو گی تاکہ تھانوں میں لوگوں کو انصاف ملے اور کسی کی حق تلفی نہ ہو ۔وزیراعلیٰ نے شرکاء کی تجاویز پر متعلقہ تھانے کے سربراہ کو ذمہ دار ٹھہرانے سے بھی اتفاق کیا اگر وہاں کسی ایف آئی آر میں کمزوری پائی جائے ۔